سلطان محمد فاتح کا مغلوب عیسائیوں کے ساتھ سلوک:
جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو وہ آیا صوفیہ کے گرجا گھر کی طرف گئے۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے، ان میں پادری اور راہب بھی شامل تھے جو لوگوں کے سامنے دعائیں کر رہے تھے۔ جیسے ہی سلطان کلیسا میں داخل ہوئے، تمام عیسائی خوف زدہ ہوگئے۔ ایک راہب آگے بڑھا اور سلطان کے لیے دروازہ کھول دیا۔ سلطان نے اس سے کہا کہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچا دے:
’’اطمینان رکھو، کسی قسم کا خوف نہ کرو، اطمینان سے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔‘‘
سلطان کے ان الفاظ کے بعد لوگ بہت خوش ہوئے۔ جو راہب چھپ گئے تھے وہ بھی باہر نکل آئے، اور ان میں سے بعض نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد سلطان نے اعلان کیا:
’’آج سے یہ کلیسا مسجد ہے، آئندہ جمعے کی نماز یہاں ادا ہوگی اور اس کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔‘‘
اس اعلان کے بعد مزدوروں نے کلیسا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا کام شروع کیا۔ دیواروں سے تصویریں اور صلیبی نشان ہٹا دیے گئے، جو تصاویر دیواروں پر بنی تھیں انہیں مٹا دیا گیا، خطیب کے لیے منبر تیار کیا گیا۔ کلیسا کو مسجد میں تبدیل کرنا اس لیے جائز تھا کہ شہر جنگ کے ذریعے فتح ہوا تھا اور اسلامی شریعت میں بھی اسی کا حکم ہے۔
سلطان محمد فاتح نے عیسائیوں کو مکمل مذہبی آزادی عطا کی۔ وہ بلا خوف و خطر اپنے مذہبی رسومات جاری رکھ سکتے تھے، اپنے مذہبی پیشواؤں کے انتخاب کا اختیار بھی انہیں دیا گیا۔ ان کے لیے ایک خاص جگہ مقرر کی گئی جہاں وہ اپنا مذہبی پیشوا منتخب کرسکیں۔ انہیں یہ حق بھی دیا گیا کہ اپنے مذہبی اصولوں کے مطابق اپنے خصوصی و سماجی معاملات حل کریں۔
سلطان نے اپنی سلطنت کے دیگر حصوں میں بھی یہی آزادی دی تھی۔ مذہبی پیشواؤں کو مکمل آزادی حاصل تھی اور عیسائیوں کے فیصلے ان کے مذہب کے مطابق کیے جاتے تھے۔ البتہ، ان تمام آزادیوں کے بدلے ان پر ٹیکس (جزیہ) مقرر کیا گیا تھا۔
سلطان محمد فاتح اور مغربی مؤرخین کی تحریفات:
عثمانی ترکوں کی تاریخ کے بارے میں انگریز مؤرخ ایڈورڈ سپرڈ نے کوشش کی کہ قسطنطنیہ کی فتح جیسے عظیم اسلامی واقعے کو مسخ کرے۔ اس نے تعصب اور کینہ کی بنیاد پر سلطان کے بارے میں ایسے بے بنیاد دعوے کیے جو حقیقت سے یکسر دور ہیں۔
اسی طرح، امریکن انسائیکلوپیڈیا (۱۹۸۰ء کا ایڈیشن) میں بھی یہ الزام عائد کیا گیا کہ سلطان محمد نے قسطنطنیہ کے مقبوضہ عیسائیوں کو غلام بنایا اور انہیں ایڈرنه (ایڈریانوپل) کے بازار میں فروخت کردیا۔ یہ دعویٰ بھی صلیبی روایتوں پر مبنی ہے، حالانکہ تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سلطان نے قسطنطنیہ کے لوگوں کے ساتھ شفقت، نرمی اور عزت کا سلوک کیا اور اپنے لشکر کو بھی تاکید کی کہ وہ عوام کے ساتھ بھلائی اور انسانیت کے ساتھ پیش آئیں۔
بہت سے قیدیوں نے فدیہ ادا کرکے رہائی حاصل کی، خصوصاً یونانی سرداروں اور مذہبی شخصیات نے۔ سلطان نے مذہبی حلقوں کا رخ کیا، ان کے خوف کو دور کیا اور یہ یقین دلایا کہ ان کے مذہبی عقائد، عبادت گاہیں اور اعتقادی معاملات محفوظ رہیں گے۔ سلطان نے خود ان سے کہا کہ وہ نیا بشپ منتخب کریں۔
عیسائیوں نے باہمی مشورے سے اجنادیوس کو اپنا بشپ منتخب کیا۔ انتخاب کے بعد پادریوں کا ایک بڑا وفد سلطان کے دربار میں حاضر ہوا۔ سلطان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، عزت و اکرام دیا، ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور مختلف سیاسی و سماجی مسائل پر ان سے تبادلۂ خیال کیا۔
اس ملاقات کے بعد وہ بشپ اور مذہبی رہنما جو براہِ راست سلطان سے ملے تھے، ان کے دل میں عثمانی حکمرانوں اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت خیالات پیدا ہوئے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ ایک ایسے فرمانروا سے ملے ہیں جو پاکباز، صاحبِ ایمان، اعلیٰ انسانی قدروں کا حامل اور درد مند دل رکھنے والا شخص ہے۔
رومی (یونانی) عوام بھی سلطان کے طرزِ عمل سے نہایت متاثر ہوئے۔ انہیں بھی مکمل اور وسیع مذہبی آزادی عطا کی گئی۔ چند ہی دنوں کے بعد لوگ بغیر کسی خوف کے، پرامن اور پُر اعتماد فضا میں، پہلے کی طرح اپنی زندگی گزارنے لگے۔

