سلطان محمد فاتح کا عدل وانصاف:
دنیا بھر میں سلطان محمد فاتح کے عدل و انصاف کی داستانیں مشہور ہیں۔ وہ ہمیشہ اسلامی شریعت کے مطابق اہلِ کتاب کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا تھا، انہیں اُن کے تمام مذہبی حقوق دیتا، اور کسی عیسائی پر ظلم یا زیادتی نہ کرتا۔ عیسائی رہنماؤں کے ساتھ بھی وہ اُن کے مرتبے کے لحاظ سے احترام سے پیش آتا اور نہایت نرمی و شفقت سے برتاؤ کرتا۔ سلطان کا شعار یہ تھا کہ’’عدل ہی سلطنت کی بنیاد ہے‘‘۔
سلطان محمد فاتح اپنی قوت، لشکر کی کثرت اور سلطنت کی وسعت کے باوجود کبھی غرور و تکبر میں مبتلا نہ ہوا۔ جب اُس نے قسطنطنیہ جیسے شہر کو فتح کیا — جس کے فتح ہونے کا تصور بھی بہت سے لوگوں کے لیے محال تھا — تو شہر میں داخل ہوتے وقت اُس نے تکبر نہیں کیا، بلکہ عاجزی سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا:
’’الحمد للہ! اللہ تعالیٰ شہیدوں پر رحم فرمائے، مجاہدوں کو عزت و بزرگی عطا کرے۔ یہ میری قوم (مسلمانوں) کے لیے فخر کا مقام ہے، انہیں چاہیے کہ اس عظیم کامیابی پر اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر بجالائیں۔ یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نصیب ہوئی ہے‘‘۔
سلطان اور اُس کا لشکر اس فتح کو خالقِ حقیقی کی جانب سے ایک عظیم نعمت سمجھتے تھے، اسی لیے وہ ہر حال میں اُس کی حمد و ثنا کرتے۔ یہی عمل اُن کے پختہ ایمان اور روحانی بلندی کی واضح علامت تھا۔
۵۔ اخلاص:
سلطان محمد فاتح کی زندگی میں کئی ایسے واقعات ملتے ہیں جو اُس کے اخلاص اور نیتِ صادق کی گواہی دیتے ہیں۔ وہ اسلام کے لیے نہایت مخلص اور دین کا سختی سے پابند تھا۔ اُس کی دعاؤں میں یہ اخلاص واضح طور پر نظر آتا ہے۔ سلطان کہا کرتا تھا:
’’میرا ارادہ، میری لگن اور میری تمام کوششیں اللہ کے دین کی خدمت کے لیے ہیں۔ میری نیت یہ ہے کہ میں اپنے لشکر کے ساتھ — جو اللہ کا لشکر ہے— اسلام کے دشمنوں کی طاقت کو توڑ دوں اور انہیں مغلوب کر دوں۔ میرا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیابی، نصرت اور فتح حاصل ہو گی۔ میرا جہاد جان و مال کے ذریعے اللہ کی اطاعت کے لیے ہے، اور میری ساری امید صرف اُس کی تائید و نصرت پر ہے تاکہ میں اُس کے دشمنوں کو شکست دوں۔‘‘
۶۔ علم و فن:
سلطان محمد فاتح کے والد نے اُن کی تعلیم و تربیت پر بچپن ہی سے خاص توجہ دی تھی۔ اسی وجہ سے محمد فاتح کو اُس دور کے بہترین تعلیمی نظام کے تحت تربیت دی گئی، جس کی نگرانی نامور علماء کی ایک جماعت کرتی تھی۔ سلطان نے قرآنِ کریم، حدیث، فقہ کے ساتھ ساتھ اُس زمانے کے جدید علوم جیسے ریاضی، فلکیات، تاریخ، نظری اور عملی عسکری فنون بھی سیکھے تھے۔
محمد فاتح کی تربیت بڑی بابرکت اور ہمہ جہت تھی، کیونکہ اُس کے اساتذہ اپنے وقت کے جلیل القدر علماء تھے۔ اُن میں ’’شیخ آق شمسالدین‘‘ اور ’’مولانا کورانی‘‘ خاص طور پر مشہور تھے۔ (علامہ کورانی عثمانی دور میں مروجہ علوم کے ایک چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔)
سلطان محمد فاتح نے اپنے اساتذہ کی تعلیم و تربیت سے گہرا اثر لیا، اور یہی اثر اُس کے فکری، ثقافتی، سیاسی اور عسکری رجحانات میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
سلطان محمد فاتح عربی، فارسی اور ترکی تینوں زبانوں پر کامل عبور رکھتا تھا، جو اُس زمانے میں ایک غیر معمولی صلاحیت سمجھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ ایک نہایت عمدہ شاعر بھی تھا، اور ترکی زبان میں اُس کا ایک دیوان آج تک یادگار کے طور پر موجود ہے۔
سلطان محمد فاتح کی تعلیمی و تہذیبی خدمات:
۱۔ مدارس اور تعلیمی اداروں کا قیام:
سلطان محمد کو علم و علماء سے بے پناہ محبت تھی۔ اسی لیے اُس نے اپنی سلطنت کے مختلف حصوں میں متعدد مدارس اور تعلیمی ادارے قائم کیے۔
عثمانی سلطنت کے پہلے بادشاہ جس نے باقاعدہ بڑے تعلیمی مراکز قائم کیے، وہ سلطان اورخان تھے۔ اُن کے بعد آنے والے تمام سلاطین نے اسی تعلیمی طرزِ عمل کو اپنایا، جس کے نتیجے میں ادرنہ اور سلطنت کے دیگر شہروں میں مدارس اور تعلیمی اداروں کا قیام عام ہوا۔
سلطان محمد فاتح نے بھی اپنے نیک سیرت پیش روؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے علم کی ترویج اور مدارس کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ اُس نے تعلیمی اصلاحات نافذ کیں، تدریسی نظام کی بہتری کے لیے خصوصی توجہ دی، اور مدارس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وسیع زمینیں وقف کیں۔
اُس نے مدرسوں کے نظام کو منظم کیا، درجات اور طبقات متعین کیے، اور ہر درجے کے لیے الگ نصاب مقرر کیا۔ امتحانات کا ایک جامع نظام بھی متعارف کرایا، جس کے تحت کوئی طالب علم اگلی سطح پر تب ہی جا سکتا تھا جب وہ پہلی سطح کا نصاب مکمل کر کے امتحان کامیابی سے پاس کرلیتا۔
سلطان محمد فاتح خود بھی تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کیا کرتا تھا۔ کبھی کبھار وہ امتحانات کے دوران حاضر ہوتا، اساتذہ کی تدریس قریب سے دیکھتا، طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر اُن کے اسباق سنتا، اور اس عمل کو وہ شرم نہیں بلکہ علم کا احترام سمجھتا تھا۔

