Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! ستاونویں قسط

سلطان محمد فاتح کی سلطنت کا انتظامی ڈھانچہ

سلطان محمد فاتح نے اپنی سلطنت کی ترقی اور استحکام کے لیے عملی اقدامات اٹھائے اور قوانین وضع کیے تاکہ داخلی انتظامی امور کو منظم کیا جائے۔ یہ قوانین اسلامی شریعت کی روشنی میں تیار کیے گئے تھے اور ان کے نفاذ کی نگرانی کے لیے سلطان نے علماء کی ایک جماعت مقرر کی تھی جو وقتاً فوقتاً قرآن و سنت کی روشنی میں نئے قوانین کے اجرا کے لیے تجاویز پیش کرتی تھی۔ اگر کوئی چیز اسلامی شریعت کے خلاف ہوتی تو انہیں اسے درست کرنے کا اختیار حاصل تھا۔

قرآن و سنت مملکت کا بنیادی قانون تھے۔ اس قانون کے تین ابواب تھے جن میں سرکاری ملازمین، معاشرتی رسوم و رواج، سرکاری ملاقاتیں اور بادشاہ کے ساتھ بیٹھنے کے آداب سے متعلق قوانین شامل تھے۔ اسی طرح جرائم اور سزاؤں کے بارے میں بھی رہنما اصول بیان کیے گئے تھے۔ قانون میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ پوری سلطنت میں اسلامی احکام کا خیال رکھا جائے گا اور قرآن و سنت کو ترجیح دی جائے گی۔ قوم، علاقہ یا زبان کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی ان کی طرف کوئی خاص توجہ دی جاتی تھی۔

سلطان محمد فاتح نے ایسے قوانین بنانے کی کوشش کی جو سلطنت میں رہنے والے غیر مسلموں اور ان کے مسلمانوں سے تعلقات کو منظم کریں۔ ان قوانین میں غیر مسلم سلطنتوں سے تعلقات برقرار رکھنے کے طریقوں کی بھی وضاحت کی گئی تھی۔ جو علاقے عثمانی سلطنت کے زیرِ تسلط آتے تھے، ان کے تمام امور کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری تھی۔ سلطان محمد فاتح اپنے رعایا کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے چوری اور ڈاکہ زنی ختم کرنے کی کوشش کی اور اسلامی حدود نافذ کیں اور پوری سلطنت میں امن و امان قائم کیا۔

سلطان محمد فاتح نے وہ نظام بھی برقرار رکھا جو ان کے بزرگوں کے زمانے سے چلا آ رہا تھا اور کچھ علاقوں میں پہلے سے رائج تھا، مگر ان قوانین میں اپنے دور کی سلطنت کی ضروریات کے مطابق ضروری تبدیلیاں کیں۔ سلطنت کو بڑے بڑے صوبوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ہر علاقے میں ایک گورنر مقرر تھا جسے "بیگ لربیگی” کہا جاتا تھا، جبکہ چھوٹے علاقوں میں "امیر اللواء” (جھنڈے والا امیر) حکمران ہوتا تھا جسے "استجق بیگ” کہتے تھے۔ یہ دونوں افسران ایک ہی وقت میں شہر کے فوجی امور بھی سنبھالتے تھے۔

سلطان محمد فاتح نے شروع میں کچھ صلیبی امارتوں کو محدود داخلی خودمختاری دی تھی اور وہاں مقامی امراء حکومت کرتے تھے، لیکن یہ امراء عثمانی حکومت کی طرف سے مقرر کیے جاتے تھے اور سلطانی احکام کے پابند ہوتے تھے۔ سلطان محمد فاتح نے ان امارتوں کو کمزور کر دیا تھا اور اگر وہ بغاوت پر آمادہ ہوتے یا نافرمانی کرتے تو انہیں سزا دی جاتی تھی۔

جب سلطان محمد فاتح جہاد کا اعلان کرتے تو تمام امراء کو طلب کرتے۔ وہ اس بات پر سختی سے عمل کرتے تھے کہ ہر امیر حکومت کی دعوت پر لبیک کہے اور جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں حصہ لے، کیونکہ وہ شروع سے اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ امراء سے پہلے سے معاہدہ ہوتا تھا کہ جنگ کے وقت کتنی فوجی مدد فراہم کریں گے۔ ہر پانچ آقچہ زمین کے بدلے ایک امیر فوجی مدد دینے کا پابند ہوتا تھا۔ جس امیر کو پچاس ہزار آقچہ کی زمین دی جاتی تھی، اس پر لازم تھا کہ جنگ کے وقت سو گھڑ سوار مرکزی حکومت کو بھیجے۔ صوبائی فوجوں میں گھڑ سوار اور پیدل دونوں قسم کے سپاہی ہوتے تھے جن کی قیادت پاشا اور جرنیل کرتے تھے۔

سلطان محمد فاتح نے ان تمام افسران کے درمیان وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں جو عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھتے تھے۔ سب کے لیے ایک یکساں درجہ بندی کا نظام بنایا، انہیں مخصوص اختیارات دیے تاکہ مختلف خدمات کے لیے مناسب انتخاب ہو سکے۔ افسران کے نائبوں اور دیگر ملازمین کے لیے بھی خاص اختیار رکھنے والے افسران مقرر کیے گئے۔ نظامِ ٹیکس کو منظم کیا گیا، شہری آمدنی کے لیے سخت قوانین بنائے گئے اور سلاطین کو فضول خرچی اور تفریحات سے روکا گیا۔

اس طرح سلطنت کو بڑے معاشی نقصانات سے بچایا گیا۔ سلطان نے تعمیراتی کاموں پر خصوصی توجہ دی۔ سیاسی اور عسکری میدان میں طاقت بڑھانے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی۔

Exit mobile version