Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! سینتالیسویں قسط

فتح کے بعد سلطان نے شہر کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر اقدامات کیے۔ اس نے شہر کی فصیلوں اور قلعوں کو مزید مضبوط کیا، اسے اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنایا اور اس کا نیا نام ’’اسلامبول‘‘ (اسلام کا شہر) رکھا، جو بعد میں ’’استنبول‘‘ بن گیا اور ایک طویل عرصے تک ترکی کا دارالحکومت رہا۔

مغربی نصرانی دنیا اس عظیم فتح کی خبر سے سخت متاثر ہوئی۔ عیسائیت میں خوف اور ناکامی کا احساس پھیل گیا۔ استنبول کی فتح کے بعد انہیں آئندہ عثمانی لشکروں کا شدید اندیشہ لاحق تھا۔ عیسائی شعراء اور ادبا نے اپنی تخلیقات کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بغض پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عیسائی حکمران اور مذہبی رہنما بار بار اجلاس منعقد کرتے اور اپنے عوام کو تلقین کرتے کہ وہ اپنے داخلی اختلافات اور خانہ جنگیوں کو ختم کر کے متحد ہوں۔

پوپ نیکولس پنجم قسطنطنیہ کی فتح سے نہایت متاثر ہوا۔ اس نے اپنی تمام توانائیاں یورپی ممالک کے اتحاد کے لیے وقف کر دیں تاکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی جا سکے۔ اس کی سربراہی میں روم میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں شریک ممالک نے اعلان کیا کہ وہ اس جنگ میں مکمل طور پر حصہ لیں گے اور اپنی تمام تر قوت صرف کریں گے۔ یہ فیصلہ عملی جامہ پہننے ہی والا تھا کہ اچانک پوپ کا انتقال ہو گیا۔ وہ قسطنطنیہ کے سقوط کا صدمہ برداشت نہ کر سکا، یہ واقعہ اس پر پہاڑ بن کر ٹوٹا، اور بالآخر ۲۵ مارچ ۱۴۵۵ء کو وہ دنیا سے رخصت ہوا۔

امیر فلپ (ڈیوک آف برگنڈی) بھی اس واقعے سے شدید متاثر ہوا۔ وہ غیرت اور غصے سے بھڑک اٹھا اور اس نے کوشش کی کہ عیسائی حکمرانوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرے۔ کئی جنگجو، سوار اور عیسائیت کے حامی بھی اس کے ساتھ شامل ہوئے۔ اس جنگ کو عیسائیوں کے درمیان ’’پاک عقیدے کی جنگ‘‘ قرار دیا گیا اور پورا یورپ اپنے ممالک کے دفاع کے نام پر جنگ کے لیے تیار ہونے لگا۔

ان صلیبی جنگوں کی قیادت پوپ کے ہاتھ میں تھی، لیکن سلطان محمد فاتح ان کی تمام سرگرمیوں سے باخبر تھا۔ وہ ان کے بارے میں ہر پہلو سے معلومات اکٹھی کرتا اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے اور دشمنوں کو شکست دینے کے لیے نہایت ہوشیاری سے منصوبہ بندی کرتا۔ جن نصرانی علاقوں کی سلطنت عثمانیہ سے سرحد ملتی تھی، جیسے اماسیہ، مورا اور طرابزون، انہوں نے مسلمانوں سے دشمنی چھپانے کے لیے فتح استنبول پر خوشی کا اظہار کیا اور انہوں نے استنبول میں اپنے نمائندے بھیج کر فتح کی مبارکباد دی۔

پوپ دوم، پیوس دوم نے اپنی لسانی اور سیاسی مہارتوں سے کام لیتے ہوئے عیسائی حکمرانوں کے دلوں میں صلیبی جنگ کا بیج پھر بویا۔ چند ممالک عثمانیوں کے خاتمے کے منصوبے کے لیے تیار ہوئے، لیکن جب لشکر کشی کا وقت آیا تو کئی ممالک نے اندرونی مسائل کے سبب معذرت کرلی۔

انگلستان اور فرانس سو سالہ جنگ کی تھکن سے چور تھے، اس لیے لڑائی کے لیے تیار نہ ہو سکے۔ برطانیہ خانہ جنگیوں میں الجھا ہوا تھا، اسپین اندلس کے مسلمانوں کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف تھا، اٹلی کی چند ریاستوں نے اپنی مفاد پرستی کے باعث عثمانیوں سے تعلقات قائم کر لیے۔ اس صلیبی یلغار کا منصوبہ پوپ کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ صرف ہنگری نے عثمانی سلطنت کے خلاف جنگ لڑی، لیکن جلد ہی صلح کرکے عثمانیوں سے دوستانہ تعلقات اور اچھے ہمسائیگی کے معاہدے کا اعلان کر دیا۔

جلد ہی ہنگری کی سلطنت بھی عثمانیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔ عثمانی فوج نے سربیا، یونان، افلاق، قرم اور ارخبیل کے بڑے جزیروں کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ سلطان نے اچانک حملوں کے ذریعے انہیں بری طرح کچل دیا اور سخت سزائیں دیں۔

Exit mobile version