جب سلطان کو یقین ہو گیا کہ بازنطینی لوگ شہر سپرد نہیں کریں گے تو اس نے شدید حملوں کا حکم دیا، خاص طور پر توپ خانے پر مامور افواج کو تاکید کی کہ اپنے حملوں میں تیزی لائیں۔ مسلمانوں نے حملوں میں شدت پیدا کی اور توپچیوں نے زبردست گولہ باری کی۔
ایک بڑی شاہی توپ کثرتِ استعمال سے پھٹ گئی، لیکن اس توپ کو چلانے والا توپچی ایک ماہر آہن گر تھا جس نے فوراً اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیا۔
سلطان نے آگ اُگلنے والی توپوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے تیل کے استعمال کا حکم دیا، جو مؤثر ثابت ہوا، اور ایک بار پھر شہر پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ مسلمان توپچی اس قدر مہارت سے گولے داغتے کہ وہ فصیلوں اور قلعوں کو چیرتے ہوئے شہر کے وسط تک جا پہنچتے۔
سلطان محمد فاتح کی مشاورتی مجلس:
سلطان محمد فاتح نے ایک مشاورتی مجلس تشکیل دی جس میں مشیر، سپہ سالار، فوجی، علماء اور صوفیاء شامل تھے۔ سلطان نے حاضرینِ مجلس سے درخواست کی کہ بلا تردد اپنی رائے کا اظہار کریں اور مشورہ دیں کہ موجودہ حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
بعض افراد نے محاصرہ ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ ان لوگوں میں سلطان کے وزیر خلیل پاشا پیش پیش تھے۔ پاشا نے کہا: ’’ہمیں محاصرہ ختم کر دینا چاہیے، اور اگر مسلمان شہر پر حملہ کریں اور اسے فتح کر لیں، تو خونریزی سے گریز کیا جائے تاکہ عیسائی یورپ ناراض نہ ہو۔‘‘ انہوں نے اس کے علاوہ بھی کچھ باتیں کیں۔
کہا جاتا ہے کہ خلیل پاشا درپردہ بازنطینیوں کے ساتھ مل چکا تھا اور ان کی نجات کا خواہاں تھا۔ مجلس میں موجود بعض افراد نے فتح حاصل ہونے تک حملے جاری رکھنے کی رائے دی، اور کہا کہ ہمیں چاہیے کہ یورپ اور یورپی افواج کو کمزور ظاہر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فتح کے حصول کے لیے دلوں میں جوش اور ولولہ پیدا کیا جائے، اور ایسی باتوں سے پرہیز کیا جائے جو اس جہادی جذبے کو کمزور کریں۔
یہ رائے ایک بہادر سپہ سالار کی تھی، جسے کئی دیگر افراد کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس بہادر سپہ سالار کا نام زوغنوش پاشا تھا، جو البانوی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ابتدائی طور پر عیسائی تھا، لیکن بعد میں اسلام قبول کر چکا تھا۔ اس نے سلطان کے سامنے یورپی افواج کی کمزوریوں کو واضح کیا اور یہ مشورہ بھی دیا کہ سلطان کو کسی صورت محاصرہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔
تاریخی کتابوں میں زوغنوش پاشا کے موقف کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے:
جب سلطان محمد فاتح نے زوغنوش پاشا سے اس کی رائے پوچھی، تو وہ ایسے انداز میں بیٹھا جیسے ابھی اٹھ کھڑا ہوگا، اور ترکی زبان میں بلند آواز سے پکار کر کہا:
’’حاشا وکلا! اے سلطان! خلیل پاشا نے جس رائے کا اظہار کیا ہے، میں اسے ہرگز قبول نہیں کرسکتا، ہم یہاں اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانی دینے کےلیے آئے ہیں، اس لیے نہیں کہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔‘‘
زوغنوش پاشا کی پُرجوش آواز نے مجلس کے تمام حاضرین پر گہرا اثر چھوڑا، اور کچھ لمحوں کے لیے پورا مجمع خاموش ہو گیا۔ یہ سکوت خود زوغنوش پاشا نے توڑا اور اپنی پُرجوش گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’خلیل پاشا کی باتیں تمہارے بدن میں دوڑنے والے غیرت کے شعلے کو بجھانا چاہتی ہیں۔ وہ تمہاری شجاعت اور بہادری کے گلے پر چھری چلانا چاہتا ہے۔ اس کی باتوں سے ہمیں سوائے ناکامی اور مایوسی کے کچھ نہیں ملے گا۔
یاد رکھو! جب اسکندر اعظم کی فوج یونان سے روانہ ہوئی تھی اور ہندوستان تک جا پہنچی، اس نے ایشیا کے وسیع و عریض علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ کیا وہ لشکر ہماری موجودہ فوج سے بڑا تھا؟ جب اسکندر جیسے فاتح کا لشکر اتنی عظیم فتوحات حاصل کر سکتا ہے، تو ہمارا اسلامی لشکر ان پتھریلی دیواروں کو کیوں فتح نہیں کر سکتا؟
خلیل پاشا کہتا ہے کہ مغربی حکومتیں ہم پر غالب آئیں گی اور قسطنطنیہ کی شکست کا بدلہ ہم سے لیں گی۔ لیکن یہ مغربی حکومتیں آخر ہیں کیا؟ وہ لاطینی ریاستیں جو ہمیشہ آپس میں دست و گریبان رہتی ہیں، ایک دوسرے کو کمزور دکھانے میں لگی رہتی ہیں۔ بحرِ روم کے کنارے آباد یہ قومیں جنہیں سوائے چوری اور لوٹ مار کے کچھ اور آتا ہی نہیں۔
اگر ان میں بازنطینیوں کی مدد کی کچھ بھی سکت ہوتی، تو اب تک وہ میدانِ جنگ میں آ چکے ہوتے، اپنے لشکر ہمارے مقابلے پر لا کھڑے کرتے، اور ان کے بیڑے سمندر کی موجوں کی مانند ہمارے جہازوں سے ٹکراتے۔
اور فرض کر لو کہ اگر قسطنطنیہ کے سقوط کے بعد سارا یورپ ہمارے خلاف یکجا ہو جائے، تو کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کھڑے رہیں گے؟ کیا ہمارے ہاتھ باندھ دیے جائیں گے؟ کیا ہماری صفوں میں ایسا کوئی لشکر موجود نہیں جو ہماری عزت، غیرت اور عظمت کی حفاظت کرے؟‘‘

