Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے اوراق سے! پچپنویں قسط

علامہ کورانی نے استنبول میں ایک مسجد تعمیر کی اور دارالحدیث کے نام سے ایک مدرسہ بھی قائم کیا، وہ زمانے میں معروف ہوئے؛ مدرسے کے تمام کمرے طلبہ سے بھر گئے۔ انہوں نے علم کے پھیلاؤ میں اپنا پورا حصہ ڈالا اور بڑے بڑے لوگوں نے ان سے علم حاصل کیا، ۷۶۱ ہجری میں انہوں نے حج کیا، اسی عظمت کے ساتھ باقی زندگی گزاری اور ۷۹۳ ہجری کے آخر میں وفات پائی۔ سلطان سمیت کثیر تعداد نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔

علامہ کورانی کی زندگی اور حالات کو کتاب "الشقائق النعمانیة” کے مصنف نے بہت اچھی طرح بیان کیا ہے۔ وہ سلطان سے نام لے کر باتیں کرتے تھے، نہ سلطان کے سامنے بیٹھتے اور نہ اس کا ہاتھ چومتے۔ عوام کے درمیان وہ اس سے ملتے، لیکن جب تک سلطان نہ بلاتا، وہ کبھی اپنی مرضی سے سلطان کے دربار میں نہ جاتے۔

ان کی بے شمار خصوصیات کتابوں میں لکھی گئی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باعمل علماء میں سے تھے۔ سلطان محمد فاتح کو جب معلوم ہوتا کہ فلاں جگہ ایک عالم ہے اور غریب ہے، تو فوراً وہاں جاتے، اسے یقین دلاتے، مدد کرتے اور دنیوی کاموں سے بے نیاز کر دیتے۔

*سلطان محمد فاتح کی علمی عادات*

سلطان محمد کی یہ عادت تھی کہ رمضان میں عصر کی نماز کے بعد شاہی محل میں آتے۔ علماء اور مفسرین کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہوتی، ان میں سے ہر روز ایک مفسر قرآن کی تفسیر کرتا، اور دوسرے علماء اس سے بحث کرتے۔ سلطان خود ان بحثوں اور مناقشوں میں حصہ لیتے، سلطان ان علماء کا بہت احترام کرتے، انہیں تحائف سے نوازتے اور مال و دولت بھی عطا کرتے۔

*ادیبوں اور شاعروں کی قدر دانی*

ایک عثمانی مورخ لکھتا ہے کہ سلطان محمد ادب کی ترقی کے سرخیل اور ایک بڑے شاعر تھے، انہوں نے تیس سال حکومت کی، اور یہ تیس سال خوشحالی، برکت اور ترقی کے سال تھے۔ سلطان “ابوالفتح” کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ آزاد بادشاہوں پر غالب آئے۔ سات ملک اور دو سو شہر فتح کیے، علم اور عمل کو بلند مقام دیا، اسی وجہ سے وہ “ابوالخیرات” کے نام سے بھی مشہور ہیں۔

سلطان محمد عام طور پر ادیبوں اور خاص طور پر شاعروں کا بہت احترام کرتے تھے۔ شاعروں کو دربار میں حاضر ہونے کی اجازت دیتے، اور سفروں میں بھی ان کے ساتھ ہوتے۔ بہت سے شاعر درباری ساتھی تھے، جن میں احمد پاشا، محمود محمد پاشا اور قاسم جزری پاشا کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ اور چند دوسرے درباری شاعر کل تقریباً بیس افراد تھے، ہر شاعر کا ماہانہ معاوضہ قریب ہزار درہم تھا۔

سلطان فطری طور پر چاہتے تھے کہ ادیب اور شاعر ان کی علمی اور ادبی کارناموں پر بہترین اشعار لکھیں، مگر وہ شاعری میں بے حیائی اور بدزبانی پسند نہ کرتے۔ اگر کوئی شاعر ادب کی دائرے سے باہر نکلتا تو اسے قید کر دیتے یا دربار سے نکال دیتے۔

*کتابوں کے ترجمہ کی کوششیں*

سلطان محمد فاتح کو رومی زبان پر بہت اچھی دسترس تھی، انہوں نے اسلامی دنیا میں فکری اور نظری ترقی کے لیے یونانی، لاطینی، عربی اور فارسی زبانوں کی بہت سی کتابیں ترکی زبان میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا، ان کتابوں میں ایک مشہور کتاب پلوٹارک (Plutarch) کی "Parallel Lives” تھی۔ اسی طرح، اندلس کے عالم امام زہراوی، جو طب کے شعبے میں بہت مشہور تھے، نے ٰطب پر اپنی مشہور کتاب "التصریف لمن عجز عن التألیف” لکھی۔ یہ کتاب سلطان محمد فاتح نے ترجمہ کی، اس میں زیورات کے علاوہ جراحی آلات کے نقشے بھی بنائے، جو آپریشنز میں استعمال ہوتے تھے۔

جب بطلیموس (Ptolemy) کی کتاب، جو جغرافیہ کے بارے میں تھی، سلطان کے ہاتھ آئی تو اس میں ایک نقشہ دیکھا، سلطان نے خود اس کی مطالعہ اور تحقیق شروع کی اور مشہور رومی عالم “جارج امیروٹروس”(George Amiroutzes) کو اس میں شریک کیا، پھر سلطان محمد نے اس رومی عالم اور اس کے بیٹے، جو رومی اور عربی دونوں زبانوں پر مکمل مہارت رکھتے تھے، سے کہا کہ یہ کتاب عربی میں ترجمہ کریں، تحقیق کریں اور نقشہ دوبارہ تیار کریں، اس عالم نے دو نسخے تیار کیے جن میں ایک عربی اور دوسرا رومی زبان میں تھا، سلطان نے اس کی کوشش کی تعریف کی اور اچھا انعام دیا۔

علامہ علی قوشجی، جو اپنے زمانے میں ریاضی اور فلکیات کے بڑے عالم تھے، نے فارسی میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کی ایک عربی ترجمہ بھی تیار کیا، اور یہ عربی نسخہ تحفے کے طور پر سلطان محمد فاتح کے دربار کو بھیجا۔

Exit mobile version