سلطان محمد فاتح کو عربی زبان سے بہت محبت تھی، کیونکہ یہ قرآن کریم کی زبان تھی اور اس وقت یہ ایک علمی زبان سمجھی جاتی تھی، جس میں نئے اور جدید علوم مرتب کیے گئے تھے۔ اس نے عربی زبان سے محبت اور اسے عام کرنے کی کوششیں کیں، اس سے بڑی اور کوئی دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ اس نے آٹھ مدرسوں کے اساتذہ کو حکم دیا تھا کہ فقہ کے علم میں کتابیں جمع کریں؛ جیسے صحاح ستہ، تکملۃ القاموس اور اس طرح کی دیگر۔
سلطان محمد فاتح نے مترجمین کی نصرت کی، یہاں تک کہ عوامی کتب خانے قائم کیے گئے تاکہ لوگ اسلامی اور دیگر علوم سے وسیع فائدہ اٹھائیں۔ اس نے اپنے محل میں ایک بڑا اور خصوصی کتب خانہ بنایا، جس میں ہر قسم کی کتابیں موجود تھیں۔ شیخ لطفی کو اس کتب خانے کا ذمہ دار مقرر کیا تھا، جو ایک بڑے عالم تھے۔ اس کتب خانے میں بارہ ہزار کتابیں تھیں جو ۱۴۶۵ء میں جل گئیں۔ پروفیسر ڈیزمان نے اس کتب خانے کا ذکر کیا ہے کہ یہ کتب خانہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک ایسا مرکز تھا، جہاں سے علوم ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک منتقل ہوتے تھے۔
تعمیر و ترقی:
سلطان محمد فاتح کو مساجد، علمی مقامات، محلات، ہسپتالوں، بازاروں، بڑی مارکیٹوں اور سیر و تفریح کے مقامات کی تعمیر سے بہت محبت تھی۔ خاص توجہ اس نے شہروں کو دی اور پانی کا نظام قائم کیا۔ ملک کی بڑی شخصیات اور رہنماؤں کو کانوں، حماموں اور اس طرح کی دیگر عمارتوں کی تعمیر کے لیے ترغیب دی، جس سے شہر کی رونق دوچند ہو گئی۔
دارالحکومت استنبول کی زینت اور خوبصورتی پر خاص توجہ دی گئی، وہ چاہتا تھا کہ یہ شہر نہ صرف خوبصورت ہو بلکہ مختلف فنون کا مرکز بھی بن جائے۔ سلطان محمد فاتح کے دور میں تعمیر و ترقی میں بہت اضافہ ہوا، ہر جگہ بلند اور خوبصورت عمارتیں نظر آنے لگیں۔ ہسپتالوں کے لیے کافی عمارتیں بنائی گئیں اور خوبصورتی کے لیے خاص ترتیب اپنائی گئی، بڑے ہسپتالوں کے ساتھ چھوٹے شفاخانے بھی بنائے گئے، ابتداء میں ہر شفاخانے میں ایک ڈاکٹر مقرر کیا جاتا تھا، مگر بعد میں ان کی تعداد بڑھا دی گئی۔
ڈاکٹر طب کے ماہرین ہوتے تھے، مرد اور عورتیں دونوں اس شعبے سے وابستہ ہوتے تھے۔ طب کے ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ آنکھوں کے ماہرین، سرجن، نرسیں اور اس طرح کے افراد بھی موجود ہوتے تھے جو لوگوں کی خدمت کرتے تھے، اور یہاں تک کہ کچھ چوکیدار بھی کام کرتے تھے۔
ہسپتال کے عملے کے لیے پہلی شرط یہ تھی کہ مہربان، انسانیت سے محبت کرنے والے اور قناعت پسند لوگ ہوں، ڈاکٹروں کی ذمہ داری تھی کہ مریضوں کا دن میں دو بار معائنہ کریں اور تب تک دوا نہ دیں جب تک پورا یقین نہ ہو جائے کہ دوا مریض کے لیے مفید ہے یا نہیں؛ ہسپتالوں میں مریضوں کو کھانا بھی دیا جاتا تھا، اور اس کے لیے خاص معتبر افراد مقرر کیے گئے تھے۔ وہ صرف وہی کھانے تیار کرتے جو مریضوں کے لیے مفید ہوتے، علاج میں سب لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا تھا؛ مذہب، قوم اور دیگر فرقوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا تھا۔
تجارت اور صنعت کاری کے لیے کوششیں:
سلطان محمد فاتح نے صنعت و تجارت پر بھی خاص توجہ دی تھی، صنعت و تجارت کی ترقی کے لیے اس نے اپنی پوری کوششیں کیں اور اپنے آباء و اجداد کی راہ پر چلا، کیونکہ انہوں نے بھی اس میدان میں بہت کوششیں کی تھیں۔ کئی بڑے شہر جو فتح ہوئے اور لوٹ مار سے بچائے گئے، تو انہیں خوشحالی نصیب ہوئی، جس کی وجہ سے ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس کی ایک اہم مثال نیقیہ شہر ہے۔
عثمانی عالمی بازار خشک اور سمندری راستوں سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے پرانی سڑکوں کو بہتر بنایا، جس کی وجہ سے تجارتی سامان آسانی سے منتقل ہوتا تھا، دیگر ممالک مجبور ہوئے کہ اپنی بندرگاہیں عثمانی سلطنت کے لیے کھولیں تاکہ عثمانی جھنڈے تلے اپنی تجارت کر سکیں۔
صنعت و تجارت کے میدان میں سلطنت کی پالیسی کا نتیجہ یہ تھا کہ ملک میں دور دور تک ترقی کے آثار نظر آنے لگے۔ ملک کا سکہ دیگر ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں قیمتی ہو گیا، کیونکہ یہ سکہ سونے سے بنا ہوتا تھا۔ ملک میں کئی فیکٹریاں قائم کی گئیں جو ہتھیار بناتی تھیں۔ ان ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے گودام بنائے گئے اور ملک کے ان مقامات پر فوجی قلعے بنائے گئے جو اسٹریٹجک اہمیت رکھتے تھے۔

