لوگ ایک دوسرے کی ضرورتوں کو محسوس کرتے ہیں، تاکہ انہیں دین سکھایا جائے اور اللہ کی اطاعت پر ان کی تربیت کی جائے۔ علما وہ لوگ ہوتے ہیں جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی ﷺ کی ہدایات سکھاتے ہیں اور شریعت کے اصولوں کی تفسیر و تشریح کرتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل: ۴۳)
ترجمہ: “اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔”
دولت کو عیش و عشرت، لہو و لعب میں ضائع نہ کرو، کیونکہ اسراف ہلاکت کا بڑا سبب ہے۔ اس وصیت میں سلطان محمد فاتح اپنے ولی عہد کو معاملات میں اعتدال اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ یہ وصیت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات سے درست مقصد اخذ کرنے کا نتیجہ تھی۔ سلطان محمد فاتح بخوبی جانتے تھے کہ بادشاہ اور سلطنت کا اسراف سے دور رہنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ اسراف میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی شامل ہے۔
سلطان محمد فاتح کا وصال اور مشرق و مغرب میں اس کے اثرات
ربیع الاول ۸۸۶ھ (۱۴۸۱ء) میں سلطان قسطنطنیہ سے ایشیائے کوچک (اناطولیہ) کی جانب روانہ ہوئے، جہاں ایک اور عظیم لشکر جنگ کے لیے تیار تھا۔ سلطان ابھی استنبول سے پوری طرح نکلے بھی نہ تھے کہ ان کی طبیعت بگڑ گئی، مگر جہاد سے محبت کے باعث انہوں نے بیماری کی پروا نہ کی اور سفر جاری رکھا۔ انہوں نے خود لشکر کی قیادت کی۔ ان کا اصول یہ تھا کہ بیماری کی حالت میں بھی جنگی امور کو آگے بڑھایا جائے، اور انہیں جنگ کے میدان میں اللہ تعالیٰ بیماریوں سے شفا عطا فرماتا تھا۔
لیکن اس بار بیماری نہایت شدید ہو گئی۔ اسلدار پہنچتے ہی وہ گھوڑے سے گر پڑے۔ طبیب آئے، مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو چکا تھا، علاج کسی کام نہ آیا۔ سلطان محمد فاتح جمعرات پانچ ربیع الاول ۸۸۶ھ (مطابق ۳ مئی ۱۴۸۱ء)، لشکر کے ساتھ سفر کی حالت میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وفات کے وقت ان کی عمر باون برس تھی اور وہ تیس برس سے زائد عرصے تک عثمانی سلطنت کی قیادت کر چکے تھے۔
جب ان کی وفات کی خبر مشرق و مغرب میں پھیلی تو ایک خوفناک منظر سامنے آیا، جو عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔ عیسائیوں کے گھروں میں خوشیاں منائی گئیں اور گلیوں میں شکرانے کی عبادات شروع ہو گئیں، کیونکہ وہ ایک ایسے خوفناک دشمن سے نجات پا گئے تھے۔
عثمانی سلطنت کے لشکر جنوبی اٹلی تک پہنچ چکے تھے تاکہ پورے اٹلی کو فتح کریں، مگر افسوس کہ سلطان کی وفات کی خبر نے پورے لشکر کے حوصلے پست کر دیے۔ مجبوری کے تحت عثمانیوں نے نیپلز کے بادشاہ سے مذاکرات کیے تاکہ اپنی جان و مال محفوظ رکھ کر واپس لوٹ سکیں۔ بظاہر مذاکرات کامیاب رہے، مگر عیسائیوں نے وعدہ توڑ دیا اور لشکر کے باقی ماندہ حصے کو قید کر کے زنجیروں میں جکڑ دیا۔
جب سلطان کی وفات کی خبر روم پہنچی تو پوپ بے حد خوش ہوا اور اس نے کلیساؤں کی گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔ تمام کلیساؤں میں شکرانے کے سجدے کیے گئے، سڑکیں اور گلیاں سجائی گئیں، جلوس نکالے گئے اور توپوں کی سلامی دے کر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ تین دن تک روم میں جشن منائے گئے۔ سلطان کی وفات کے ساتھ عیسائی ایک بڑے خطرے سے بچ گئے جو ہمیشہ ان کے سروں پر ننگی تلوار کی طرح معلق رہتا تھا۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ سلطان اپنے لشکر کو کس سمت لے جانا چاہتے تھے۔ اس بارے میں لوگوں کی مختلف آرا تھیں: کیا ان کا ارادہ رودس کو فتح کرنے کا تھا، جو ان کے سپہ سالار مسیح پاشا کے ہاتھوں فتح نہ ہو سکا تھا؟ یا وہ جنوبی اٹلی کی طرف بڑھنا چاہتے تھے، جہاں اسلامی لشکر فتوحات کا دائرہ وسیع کر رہے تھے، تاکہ اس کے ساتھ شمالی اٹلی، فرانس اور اسپین کو بھی فتح کیا جا سکے؟
یہ ایک ایسا راز تھا جو سلطان کے سینے میں دفن ہو کر رہ گیا، اور آج تک کوئی اس سے واقف نہ ہو سکا۔

