Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے | اکسٹھویں قسط

عدل اور صلۂ رحمی کی بدولت عثمانیوں نے یورپ میں اقتدار حاصل کیا۔ اسلامی عدل و انصاف کی برکت سے یہ اقوام وحشت اور بربریت کے اندھیروں سے نکل آئیں اور عدل و انصاف کے اصولوں سے آشنا ہوئیں۔ لوگوں کو بدترین طریقے سے غلام بنانا ایک تسلیم شدہ معاشرتی نظام تھا، جس پر وسطی اور جنوبی یورپ کے درمیان باقاعدہ معاہدے موجود تھے۔ عثمانیوں نے اس عظیم ظلم کا خاتمہ کر دیا۔

اسی طرح مالدووا، پولینڈ اور ہنگری کے درمیان یہ معاہدہ رائج تھا کہ اگر کوئی کسان اپنے مالک کی زمین چھوڑ کر ان علاقوں میں سے کسی میں چلا جائے تو وہاں کے لوگ پہلے مالک کے حکم کے پابند ہوں گے۔

عثمانی صلۂ رحمی کے جذبے کے ساتھ یورپ میں داخل ہوئے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ ان ترکوں کی تعداد زیادہ نہ تھی اور نہ ہی ان کے پاس اُن حکومتوں جیسے جدید جنگی آلات تھے جنہیں انہوں نے بعد میں فتح کیا، اس کے باوجود وہ سب پر غالب آ گئے اور فینیا تک جا پہنچے۔ پہاڑوں، سمندروں اور صحراؤں کی مشکلات ان کے لیے صلۂ رحمی کی بدولت آسان ہو گئیں، بالکل اسی طرح جیسے ان سے پہلے عربوں کے لیے صلۂ رحمی کے باعث ایشیا اور افریقہ کے سفر آسان ہو گئے تھے۔

سلطان محمد فاتح نے صلۂ رحمی، عدل اور انصاف کا راستہ اختیار کیا تھا اور وہ اپنے جانشینوں کو وصیت کیا کرتے تھے کہ اسی راستے پر قائم رہیں تاکہ اسلام کے حقیقی ترجمان بن سکیں۔ وہ بغیر کسی امتیاز کے اپنی رعایا کی سرپرستی کرتے تھے اور خود بھی اس اصول پر عمل پیرا تھے کہ رعیت کا ہر فرد، خواہ مسلمان ہو یا نصرانی، اس کے تمام حقوق کی حفاظت کی جائے۔ اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں میں بہت سے دل چسپ اور سبق آموز واقعات درج ہیں۔

ایک واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ جزیرۂ خیوس کے باشندوں پر ایک ذمی تاجر کا چالیس ہزار ڈاکت کا قرض تھا۔ اس تاجر کا نام فرانسسکو دی ابیریو تھا۔ جب وہ جزیرے کے لوگوں سے اپنا قرض وصول کرنے میں عاجز آ گیا تو اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ سلطان ہی اس معاملے کو حل کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ عثمانی ریاست کی رعایا میں شامل تھا اور ریاست اس کے حق کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتی تھی۔

سلطان نے حمزہ پاشا کی قیادت میں چند جہاز جزیرۂ خیوس کی طرف روانہ کیے، مگر خیوس کے لوگوں نے کچھ سپاہیوں کو قتل کر دیا اور نافرمانی کرتے ہوئے قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
اس پر سلطان محمد فاتح نے تاجر سے فرمایا:
’’خیوس کے لوگوں سے تمہارا قرض وصول کرنا میری ذمہ داری ہے، اور میں اپنے سپاہیوں کے قتل کا دوگنا بدلہ بھی ان سے وصول کروں گا۔‘‘

سلطان نے بحری بیڑے کو روانگی کا حکم دیا اور خود لشکر کی قیادت کرتے ہوئے جزیرۂ خیوس پہنچے۔ خیوس کے لوگوں نے بغیر کسی جنگ کے سلطان کی اطاعت قبول کر لی۔ اسی کے ساتھ ساتھ ’’امیروس‘‘ اور ’’سامودر‘‘ نامی دو دیگر جزیرے بھی سلطان کے زیرِ اقتدار آ گئے اور انہوں نے عثمانی خلافت کے لشکروں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔

مجبوراً خیوس کے لوگوں نے تاجر کا قرض ادا کیا۔ سلطان نے ان پر سالانہ جزیہ بھی مقرر کیا اور ان کشتیوں کا تاوان بھی ان سے وصول کیا جو جنگ کے ابتدائی مرحلے میں غرق ہوئی تھیں۔ بلاشبہ رعایا کی حمایت اور ان کے حقوق کا تحفظ اسلامی سلطنت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اسلام کی اشاعت کے لیے کوشش کرنا زمین کے حکمرانوں پر ایک عظیم ذمہ داری ہے۔

سلطان محمد فاتح جنگ کے دوران کبھی یہ بات فراموش نہیں کرتے تھے کہ ہتھیار اسلام کے پھیلاؤ کا محض ایک ذریعہ ہیں، اسی لیے وہ اپنے سپہ سالاروں اور فوجیوں کو اسلامی عقیدے کی تبلیغ کی تلقین کیا کرتے تھے۔

وہ ان سپہ سالاروں کی تعریف کرتے تھے جن کے ہاتھوں نئے شہر فتح ہوتے۔ جب سلطان نے اپنے سپہ سالار عمر بن طرخان کو ایتھنز کی طرف لشکر کشی کا حکم دیا تو وہ علاقہ فتح ہو گیا اور عثمانی سلطنت کا ایک ناقابلِ تردید حصہ بن گیا۔ تقریباً دو سال بعد سلطان محمد فاتح اس شہر کی زیارت کے لیے گئے اور فرمایا:
’’ابنِ طرخان کس قدر خوش نصیب ہو گا اگر اس علاقے کے لوگ دینِ اسلام قبول کر لیں۔‘‘

عثمانی ریاست کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت سے خاص شغف تھا اور یورپ میں دین کی اشاعت کے واضح آثار آج بھی موجود ہیں۔ لیکن جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو عیسائیوں نے یورپ کے مسلمانوں کو زبردستی نصرانی بنانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود مسلمانوں نے بڑی حد تک مزاحمت کی، جس کا ثبوت یہ ہے کہ آج بھی بلغاریہ، رومانیہ، البانیہ، یونان اور یوگوسلاویہ میں مسلمان آباد ہیں۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔

یورپ میں آج تک مسلمانوں کی موجودگی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور پھر عثمانی خلافت کی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے مختلف اداروں اور ذرائع کے ذریعے اسلام کی اشاعت کے لیے کیں۔ عثمانی امراء کی پالیسی کا ایک اہم عنصر یہ تھا کہ لوگوں کو حکمت، دانائی اور حسنِ سلوک کے ساتھ دائرۂ اسلام میں دعوت دی جائے۔

Exit mobile version