Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے! باسٹھویں قسط

دین کو ہر چیز پر مقدم رکھو اور اس کے نفاذ میں سستی نہ کرو۔
سلطان محمد فاتح سے پہلے اور بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کے تمام حکمرانوں کی تربیت خالصتاً اسلامی بنیادوں پر کی جاتی تھی۔ اس بات پر خاص توجہ دی جاتی تھی کہ ان کا عقیدہ راہِ راست سے نہ ہٹے اور صحیح عقیدے کے مقاصد کو ہر حال میں ترجیح دی جائے۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ عثمانی حکمران سخت اور فیصلہ کن دینی معرکوں کے لیے تیار کیے جاتے تھے۔

جب عثمانیوں کی جانب سے جنگ کا اعلان کیا جاتا اور لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے پکارا جاتا تو ان کی زبانوں پر یہ پُرمعنی اور دلکش الفاظ ہوتے تھے:
’’فتوحات کی طرف آؤ، غازی بنو یا شہید ہو جاؤ۔‘‘
جہاں کہیں بھی سلطنتِ عثمانیہ کی حکمرانی ہوتی، وہاں کے حکمران کو ’’غازی‘‘ کا لقب دیا جاتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ یہ لقب ان کے تمام دوسرے خطابات سے بڑھ کر سمجھا جاتا تھا اور عظیم سلطنتوں میں اسے نہایت بلند مقام حاصل تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کا سب سے بڑا مقصد اسلام کا دفاع کرنا اور پوری دنیا میں اسلامی پرچم کو سربلند رکھنا تھا۔

اسی وجہ سے پوری سلطنت اسلام کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی؛ خواہ عوام ہوں یا خواص، ریاست کے ارکان ہوں یا فوج، ثقافت ہو یا قانون، ظاہری وضع قطع ہو یا باطنی کیفیت؛ غرض ہر پہلو میں ایک نمایاں اسلامی رنگ جھلکتا تھا۔ یہ کیفیت چند برسوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سات صدیوں تک سلطنتِ عثمانیہ اسی اسلامی روح اور شناخت کے ساتھ قائم و دائم رہی۔

عثمانی سلاطین دین کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے۔ ہر سلطان اس پہلو پر خصوصی توجہ دیتا تھا اور اپنی استطاعت کے مطابق اس بات کی کوشش کرتا تھا کہ دینی امور، مملکت کے ہر گوشے تک پہنچیں۔ وہ اس امر پر زور دیتے تھے کہ ان کی اصل شناخت اسلام ہے، اور ان کی وراثت و تہذیب کی بنیاد بھی اسلام ہی پر قائم ہے۔ جہاں کہیں مسلمانوں کی آبادی ہوتی، وہاں پوری آبادی کے لیے مدارس، مساجد اور تعلیمی اداروں میں ایک منظم اور مشترک نصاب نافذ کیا جاتا تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان نوجوان اس حقیقت کو سمجھیں کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مستقبل صرف اور صرف اسلام کے ساتھ وابستہ ہے؛ ہماری زندگی اور ہماری موت دونوں اسلام ہی کے لیے ہونی چاہئیں۔

چھوٹے مدارس میں بچوں کے اذہان میں یہ عقیدہ راسخ کیا جاتا تھا کہ ہم مسلمان ہیں۔ حتیٰ کہ بچے کی پیدائش کے وقت اندراجِ نام کے سرکاری کاغذات میں کسی اور قومیت کا ذکر نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ صرف ’’اسلام‘‘ لکھا جاتا تھا۔ شناختی دستاویزات میں بھی محض مسلمان درج ہوتا تھا اور اس کے سوا کسی اور شناخت کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔

عثمانیوں نے ترکوں، عربوں، چرکسوں، البانیوں، کردوں اور دیگر اقوام کے درمیان کسی بھی قسم کے امتیاز سے گریز کیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کی کوشش یہ تھی کہ اپنی ریاست کے اندر تمام لوگوں کو صرف ایک دین، یعنی اسلام، کے تحت جمع رکھا جائے۔ ان کے نزدیک ہر فرد کا سب سے بڑا فخر یہی تھا کہ وہ خود کو مسلمان کہلائے۔

عثمانی ہر اس غازی کو ہیرو تصور کرتے تھے جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا ہو۔ ایسے مجاہدین کو تاریخ کے سنہری اوراق میں رقم کیا جاتا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک تمام مسلمان آپس میں بھائی تھے، خواہ نسب اور نسل کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں۔

عثمانی جانبازوں میں ایک نمایاں نام عبداللہ البطّال کا ہے، جو اموی دور میں سن ۱۲۲ ہجری میں ایشیائے کوچک کے شہر اَکرَنیون کی جنگ میں شہید ہوئے۔ امام طبری نے سن ۱۲۲ ہجری کے واقعات قلم بند کرتے ہوئے ان کے بارے میں لکھا ہے:
’’اس جنگ میں مسلمانوں میں سے عبداللہ البطال سرزمینِ روم میں شہید ہوئے۔‘‘

عثمانیوں نے عبداللہ البطّال کو اپنا ہیرو مانا، حالانکہ نسب کے اعتبار سے وہ عرب تھے، جبکہ سلطنتِ عثمانیہ ساتویں صدی ہجری میں قائم ہوئی۔ عثمانیوں کے نزدیک ہیرو وہی تھے جو اسلام کے ہیرو ہوں اور تاریخ کے سچے مجاہد کہلائیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے سلاطین مخصوص القاب اور صفات سے پہچانے جاتے تھے، جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کا سب سے بڑا مقصد اسلام کی خدمت تھا۔ ان القاب میں یہ شامل تھے:
سلطان الغزاة، سلطان المجاہدین، خادم الحرمین الشریفین، خلیفۃ المسلمین۔
’’ان لوگوں سے دوستی اور خدمت اختیار نہ کرو جو دینی امور کی پابندی نہیں کرتے، کبیرہ گناہوں سے اجتناب نہیں کرتے اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔‘‘

Exit mobile version