اسی وجہ سے عثمانی حکمرانوں نے سلطنت کے طول و عرض میں دینی اور عصری علوم کے لیے جامعات اور مدارس قائم کیے، تاکہ وہاں سے ایسے سپہ سالار اور دیگر باصلاحیت افراد تیار کیے جائیں جن کے دل اور دماغ اسلامی رنگ میں رنگے ہوں۔ قیادت کے لیے تیاری کی خاطر انہوں نے ایک مخصوص تربیتی نصاب ترتیب دیا تھا، اور بالخصوص فوجیوں کی اخلاقی تربیت پر غیر معمولی توجہ دی جاتی تھی، تاکہ امانت دار اور اہل سپاہی تیار ہوں؛ ایسے افراد جو عقل و فہم کے ساتھ تقویٰ اور انکساری کو اپنا شعار سمجھتے ہوں۔
اسی معیار پر پورا اترنے والوں کو لشکروں کی قیادت سونپی جاتی تھی، اور منصبِ عدل بھی انہی لوگوں کے حوالے کیے جاتے تھے۔ جو افراد دینی احکام کی پابندی نہ کرتے، حکمران انہیں اپنے قریب نہ رکھتے، اور خود بھی گناہوں سے اجتناب کرتے تھے۔ یہی اوصاف عثمانی ریاست کے ابتدائی قائدین کی نمایاں خصوصیت تھے۔
وہ بدعات سے سختی سے پرہیز کرتے تھے اور ایسے لوگوں سے دور رہتے جو دوسروں کو بھی گناہوں کی طرف مائل کرتے تھے۔ ابتدائی عثمانی حکمران عقیدۂ اہلِ سنت والجماعت پر مضبوطی سے قائم تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ بدعت اختیار کرنا اور اس کی راہ پر چلنا کس قدر نقصان دہ ہے۔ ان کے نزدیک قرآن، سنت، اجماعِ امت اور علماء کا اجتہاد بنیادی مراجع اور مصادر کی حیثیت رکھتے تھے۔
جہاد کے ذریعے سلطنت کی سرحدوں کی توسیع
ابتدائی عثمانی حکمران جہاد کے ذریعے سلطنت کی سرحدوں کو وسعت دینے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ امن و امان کو مضبوط رکھتے اور ان خطرات کا سدِّباب کرتے جو ریاست کے لیے چیلنج بن سکتے تھے۔ ان کی عسکری قوت اور دفاعی نظام اس قدر مستحکم ہو چکا تھا کہ سرحدوں کے طول پر دشمن کے کسی سنجیدہ حملے کا کوئی مؤثر خطرہ باقی نہ رہتا تھا۔
سلطان محمد فاتح رحمہ اللہ اور ان کے بعد آنے والے حکمران جہاد فی سبیل اللہ کے لیے مکمل تیاری اختیار کرتے تھے۔ سب دشمن کے مقابلے کے لیے ہمہ وقت آمادہ رہتے تھے۔ وہ غیر مسلموں کے خلاف جہاد کی فرضیت کو اس انداز میں انجام دیتے تھے کہ ان کے سامنے صرف دو ہی راستے باقی رہ جاتے؛ یا وہ اسلام قبول کر لیتے، یا اسلامی حکومت کے زیرِ سایہ جزیہ ادا کرتے۔
عثمانی معاشرہ مکمل طور پر اسلامی، جہادی اور دعوتی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ جنگ سے وابستہ افراد کو بچپن ہی سے سخت جہادی زندگی کے لیے تیار کیا جاتا، اور اس تیاری پر غیر معمولی زور دیا جاتا تھا تاکہ وہ ہر پہلو سے کامل ہوں۔ اسی بھرپور تیاری نے عثمانی افواج کو یہ صلاحیت بخشی کہ وہ یورپ میں عظیم فتوحات حاصل کر سکیں۔
سلطان سلیمان قانونی کے عہدِ اقتدار تک عثمانی ریاست نے وہ تمام عظیم تمنائیں پوری کر دیں جو صدیوں سے مسلمانوں کے دلوں میں بس رہی تھیں۔ محمدی پرچم یورپ کی بڑی بڑی حکومتوں پر لہرا دیا گیا۔ بہت سے ممالک اور امارتوں نے اسلامی اقتدار کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا۔ اسلام کا سایہ وسیع ہوتا چلا گیا، اور قریب تھا کہ مسلمان لشکر یورپ کے مشرق و مغرب تک جا پہنچے اور ایک وسیع خطے پر اپنی مکمل بالادستی قائم کرلے۔

