بیزنطینی صلیبیوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی؛ انہوں نے اپنی افواج کو قلعے کے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، محاصرہ سخت کر دیا گیا تھا، اور سلطان کی افواج نے شہر پر قبضے کے لیے دباؤ مزید بڑھا دیا تھا۔ محاصرے کے ابتدائی دنوں میں عثمانیوں اور شہر کا دفاع کرنے والوں کے درمیان لڑائیاں شروع ہوئیں۔ عثمانی لشکر کے کئی سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا، خاص طور پر وہ لوگ جو دروازوں کے قریب تھے، زیادہ شہید ہوئے۔
عثمانی فوج نے شہر پر مختلف سمتوں سے حملے کیے، اور خوفناک آوازوں نے بازنطینیوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا۔ توپوں کی گولہ باری کی وجہ سے قلعے کی فصیل کے بعض حصوں میں دراڑیں پڑگئیں، لیکن دفاع کرنے والوں نے فوراً معماروں کو بلایا اور ان فصیلوں کو دوبارہ تعمیر کر لیا۔
یورپ سے بازنطینیوں کو مسلسل امداد موصول ہو رہی تھی۔ جن امدادی قافلوں کا تعلق جینوا سے تھا، ان میں پانچ بحری جہاز بھی شامل تھے۔ اس بحری لشکر کی قیادت جینوا کے سپہ سالار جستینین کر رہے تھے، جن کے ساتھ سو رضاکار بھی موجود تھے۔ یہ رضاکار مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان بحری جہازوں نے عثمانی کشتیوں کے ساتھ جنگ کی، بالآخر یہ بحری لشکر قسطنطنیہ، بازنطینی دارالحکومت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
ان جہازوں کی آمد سے بازنطینیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے جستینین کو اپنی تمام تر دفاعی قوت کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔
عثمانی بحریہ نے اُس مضبوط دوہری زنجیر کو توڑنے کے لیے بار بار کوششیں کیں جسے خلیجِ شاخِ زرّیں کے دہانے پر بچھا کر اُن کی راہ بند کر دی گئی تھی، مگر وہ وہاں تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ایک بار پھر انہوں نے حملے کیے، مگر اپنے مقصد کو نہ پا سکے۔ اِدھر شہر کے محافظ بشپ اور دوسرے عیسائی دستے بھی خاموش نہیں بیٹھے۔ وہ فصیلوں اور گلیوں میں گشت کرتے، عیسائی آبادی کے حوصلے بڑھاتے، صبر کی تلقین کرتے اور لوگوں کو ترغیب دیتے کہ کلیساؤں میں جا کر حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اور حضرت مریم سے دعا مانگیں کہ وہ شہر کو بچالیں۔ خود شہنشاہ قسطنطین بھی بارہا کلیسا گیا اور نجات کی دعائیں کیں۔
محمد فاتح اور قسطنطین کے درمیان مذاکرات:
عثمانیوں نے شہر پر شدید اور تابڑ توڑ حملے کیے، اور حملہ آوروں کی صف میں محمد فاتح سب سے آگے تھے۔ بیزنطینیوں نے قسطنطین کی قیادت میں پوری قوت سے دفاع کیا اور اپنی شجاعت دکھائی۔ شہنشاہِ بیزنطیہ نے اپنے شہر اور شہریوں کو اِس آفت سے بچانے کے لیے ہر ممکن جتن کیے؛ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے میں مال و دولت، خراج اور تابعداری سمیت کئی رعایتیں پیش کیں۔ مگر سلطان محمد فاتح نے یہ تمام پیشکشیں ٹھکرا دیں اور صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ شہر مسلمانوں کے حوالے کر دو۔
سلطان محمد فاتح بیزنطینیوں سے وعده کیا کہ اگر قسطنطین اس شہر کو جنگ کے بغیر مسلمانوں کے حوالے کر دے، تو مسلمان نہ شہریوں کو نقصان پہنچائیں گے اور نہ ہی کلیساؤں کو۔ سلطان کے خط کا متن کچھ یوں تھا:
’’اپنی سلطنت یعنی قسطنطنیہ میرے حوالے کر دو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میری فوج کسی کی جان، مال یا عزت کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ جو لوگ شہر میں رہنا چاہیں، رہ سکتے ہیں، اور جو لوگ کہیں اور جانا چاہیں، انہیں امن کے ساتھ جانے دیا جائے گا۔‘‘
زرین شاخ کا آبی راستہ بیزنطینیوں کے قبضے میں تھا، اسی لیے محاصرہ مکمل طور پر مؤثر نہ تھا۔ اس کے باوجود، عثمانی افواج نے بھرپور انداز میں فصیلوں پر حملے جاری رکھے۔ ان کی بہادری اور شجاعت دیدنی تھی۔ ہر توپ کے گولے کے بعد ایک سپاہی بغیر کسی خوف کے آگے بڑھتا، اور فصیلوں کو گرانے کی کوشش کرتا۔
۱۸ اپریل کو، عثمانی توپچیوں نے لیکوس کے علاقے کے قریب فصیل کے مغربی حصے میں ایک راستہ بنا لیا۔ عثمانی فوجی اُس راستے سے شہر میں داخل ہونے لگے، لیکن بیزنطینیوں نے، جو جستینین کی قیادت میں لڑ رہے تھے، شدید جنگ کی اور مسلمانوں کا راستہ روک دیا۔

