Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے! پینتیسویں قسط

یہ ایک عظیم کارنامہ تھا، اور جس دور میں یہ انجام پایا، اس دور کے لحاظ سے یہ کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اس کارنامے سے عثمانیوں کی مہارت کی پیمائش ہوتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عثمانیوں کو بے مثال مہارت اور عظیم ہمتوں سے نوازا تھا۔ جب رومیوں کو معلوم ہوا کہ عثمانی بحری جہاز رات کی تاریکی میں جزیرے کے راستے زرین شاخ (Golden Horn) تک پہنچ گئے ہیں، تو ان میں خوف پھیل گیا، کیونکہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس لیے ان کے لیے اس ماہرانہ منصوبے پر یقین کرنا ناگزیر ہو گیا۔

اس فتح میں عثمانی سلطنت کے انجینئروں اور کارکنوں کی کاوشیں بھی قابلِ ستائش ہیں، جنہوں نے مکمل جذبے اور حوصلے کے ساتھ اس عظیم منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ سب کچھ ایک رات میں انجام پایا۔ قسطنطنیہ کے باشندوں نے اب تک اپنے شہر کے فتح ہونے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ 22 اپریل کی صبح جب انہوں نے آنکھیں کھولیں، تو عثمانیوں کے آسمان تک بلند ہوتے نعرے، ایمانی ترانے، اور اللہ اکبر کے تکبیروں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔

عثمانی بحری جہاز فوری طور پر سمندری راستوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب قسطنطنیہ کی دفاعی فوج اور عثمانی لشکروں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ رہا۔ ایک بازنطینی مؤرخ اس کارنامے کے بارے میں کہتا ہے: "ہم نے ایسی کوئی معجزاتی کارروائی نہ کبھی دیکھی تھی اور نہ ہی اس کے بارے میں سنا تھا۔ محمد فاتح نے زمین کو سمندر میں بدل دیا اور اپنے جہازوں کو لہروں کی بجائے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلایا۔ اس کارنامے کی بدولت محمد ثانی (فاتح) نے سکندر اعظم سے بھی فوقیت حاصل کر لی۔”

قسطنطنیہ کے باشندوں میں مایوسی کی باتیں، افواہوں اور خبروں کا بازار گرم ہو گیا۔ ایک افواہ یہ بھی پھیلی کہ قسطنطنیہ اس وقت فتح ہو گا جب بحری جہاز جزیرے کی طرف جائیں گے۔ زرین شاخ میں اسلامی بحری جہازوں کی موجودگی نے شہر کے دفاعی فوجیوں کے مورال پر بہت برا اثر ڈالا اور ان کے جذبوں کو شدید دھچکا لگا۔ وہ مجبور ہو گئے کہ دوسرے محاذوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو زرین شاخ کی طرف بھیج دیں تاکہ اس جانب سے مسلمانوں کے حملوں کو روکا جا سکے، کیونکہ اس دیوار کی کمزوری کے باعث اس کی حفاظت سمندری پانی سے ہوتی تھی۔ فوج کی تقسیم نے دیگر محاذوں کی دفاع کو کمزور کر دیا۔

بازنطینی حاکم نے زرین شاخ میں عثمانی بحری قوت کو ختم کرنے کے لیے کئی تدبیریں کیں، لیکن ان کی کوششوں سے کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا اور ان کے تمام منصوبے ناکام ہو گئے۔ عثمانیوں نے شہر کے دفاعی مورچوں پر لگاتار گولہ باری کی اور رسوں کے ذریعے دیوار پر چڑھنے کی کوششیں کیں۔
بازنطینی فوجیں اپنی دفاعی چوکیوں کو مضبوط کرنے اور بارودی مواد سے بھرنے میں مصروف تھیں۔ جب بھی مسلمان دیوار کھودنے کی کوشش کرتے، وہ ناکام ہو جاتے۔ مسلمانوں نے محاصرے کو مزید سخت کر دیا، جس سے محصورین کی مشکلات، تھکن اور پریشانیاں بڑھ گئیں۔ وہ دن رات مصروف اور شدید پریشان رہتے تھے۔

عثمانیوں نے باسفورس اور زرین شاخ کے قریبی مقامات پر توپوں کی تنصیب کی تاکہ بازنطینی اور ان کے حلیف جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس تدبیر نے دشمن کے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا۔ دشمن کی بحری قوت زرین شاخ، باسفورس اور آس پاس کے پانیوں میں مکمل طور پر مفلوج ہو گئی۔

*قسطنطین کی اپنے حلیفوں کے ساتھ نشست:*

قسطنطین نے اپنے حلیف مشیروں اور عیسائی سرداروں کے ساتھ ایک اجلاس کیا۔ اس اجلاس میں شریک افراد نے قسطنطین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی طرح شہر چھوڑ دے اور عیسائی قوموں اور یورپی ممالک سے مدد مانگے۔ اس طرح ممکن ہے کہ غیر مسلم فوجیں آئیں اور محمد فاتح کو محاصرہ توڑنے پر مجبور کریں۔ لیکن قسطنطین نے اس رائے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ آخری سانس تک لڑے گا اور اپنے رعایا کو تنہا نہیں چھوڑے گا تاکہ شکست کے وقت اپنی رعایا کے ساتھ دفن ہو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس شہر میں رہنا اور اس کا دفاع کرنا ایک مقدس فریضہ ہے، اور وہ اس فریضے کو ضرور پورا کرے گا۔ اس نے اجلاس کے شرکا سے کہا کہ وہ اسے شہر چھوڑنے کا مشورہ نہ دیں۔

قسطنطین نے مدد مانگنے کے لیے ایک ایلچی تیار کیا جو اس کی نمائندگی کرتا تھا۔ یہ ایلچی یورپ کے کونے کونے تک پہنچا، لیکن محمد فاتح کے مقابلے میں اسے کوئی مدد نہ مل سکی اور وہ خالی ہاتھ واپس لوٹ آیا۔ عثمانی ریاست کی خفیہ ایجنسیوں نے قسطنطنیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے معلومات جمع کیں۔ عثمانی رہنماؤں کو آس پاس کے علاقوں میں ہونے والے حالات کی مکمل خبر ہوتی تھی۔

*عثمانیوں کی نفسیاتی جنگ:*

سلطان محمد نے دیواروں پر حملوں کو تیز اور سخت کر دیا تاکہ دشمن کو کچلنے کے اپنے منصوبے میں کامیاب ہو سکے۔ عثمانی فوجیوں نے رسوں اور سیڑھیوں کے ذریعے دیواروں پر چڑھنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ہر حملہ وہ بہادری، شجاعت اور قربانی کے ساتھ کرتے تھے۔ اللہ اکبر کے نعروں نے قسطنطین کے فوجیوں کے دل دہلا دیے، اور عثمانیوں کے ترانوں نے ان پر بجلی کی طرح اثر کیا۔

سلطان محمد فاتح نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر توپوں کی تنصیب کی اور ان سے بندرگاہ کی طرف گولوں کی بارش کی۔ ایک گولہ ایک تجارتی جہاز پر لگا، جو پانی میں ڈوب گیا۔ خوف کے مارے باقی جہاز وہاں سے بھاگ کر غلطہ کے محاذ کی طرف پناہ لے گئے۔ وہ عثمانی فوجیں جو خشکی پر تھیں، بجلی کی طرح عیسائیوں پر لگاتار حملے کرتی رہیں اور انہیں خوب دہلایا۔

سلطان محمد فاتح نے دن رات بغیر آرام کے خشکی اور سمندری علاقوں پر حملے کیے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دشمن بھی اس کے مقابلے میں جواب دے، تاکہ وہ دن رات کے کسی حصے میں آرام نہ کر سکے۔ اس سے ان کی ہمت اور ارادے کمزور ہوں گے، اور ان کے اعصاب پر دباؤ بڑھے گا، جس سے ایک چھوٹی سی بات بھی ان کے لیے پہاڑ بن جائے گی۔ یہ ایک نفسیاتی جنگ تھی۔ محصور فوج ایک دوسرے کے چہروں کو غور سے دیکھتی تھی، اور ان کی باتوں میں مایوسی کی علامات واضح تھیں۔

Exit mobile version