Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے! چونتیسویں قسط

کچھ مسلم فوجیوں نے رسیوں کی مدد سے قلعہ بند دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کی، مگر یہ کوششیں ناکام رہیں۔ دونوں طرف بہادری اور مردانگی کی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہوگا۔ مغربی دیوار کے قریب راستہ بہت تنگ تھا۔ جب مسلم سپاہی اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرتے، تو عیسائی فوج ان پر تیر وں کی بارش برساتی۔ آگ سے بنے گولوں کی وجہ سے کسی کی بھی ہمت نہ ہوتی کہ دیوار کے شگاف والے حصے سے شہر میں داخل ہو۔ رات کا اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ دشمن مکمل طور پر چوکنا تھا۔ چونکہ بنائے گئے راستے سے شہر میں داخل ہونا ناممکن تھا، اس لیے سلطان نے اپنی فوجوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سلطان کسی نئے منصوبے کے بارے میں سوچ رہا ہو۔

عثمانی بحریہ نے پوری کوشش کی کہ زنجیر توڑ کر زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) تک پہنچیں، جس کی وجہ سے یہ محاصرہ نامکمل تھا، مگر دشمن اور اس کی بحری فوج نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ان کوششوں میں کچھ مسلم بحری جہاز بازنطینی توپوں کا شکار ہوئے اور پانی میں ڈوب گئے۔ بہرحال، یہ کوششیں بھی ناکام رہیں اور بحریہ واپس لوٹ آئی۔

*عثمانی بحریہ کے امیر کی برطرفی اور محمد فاتح کی بہادری:*

اس جنگ (18 اپریل) کے دو دن بعد (20 اپریل) عثمانی بحریہ اور یورپی بحری جہازوں کے درمیان ایک اور جھڑپ ہوئی۔ یورپی جہاز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس وقت عثمانی بحریہ نے ان پر حملہ کر دیا۔ دونوں اطراف نے ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ یورپی جہاز آگے بڑھ رہے تھے۔ عثمانی فوج نے کوشش کی کہ یہ امداد شہر تک نہ پہنچ پائے، مگر یورپی جہاز اسی طرح آگے بڑھتے رہے۔ سلطان ساحل پر کھڑا تھا اور دونوں طرف کے جہازوں کی لڑائی کا مشاہدہ کر رہا تھا۔

اس نے عثمانی بحریہ کے سربراہ کو پیغام بھیجا: "ان جہازوں کو پکڑو، یا انہیں ڈبو دو، اور اگر تم ایسا نہ کر سکے تو خود کو ڈبو دو۔ ہمارے پاس تمہاری واپسی کی کوئی ضرورت نہیں۔”

مسلمانوں نے اپنی پوری طاقت لگائی، مگر یورپی جہاز اپنی منزل تک پہنچ گئے۔ اس نتیجے پر سلطان غصے میں آگیا۔ جب عثمانی بحریہ کا سربراہ پانی سے باہر آیا تو سلطان نے اس کے ساتھ سخت رویہ اپنایا اور اسے بزدلی اور کمزوری کا طعنہ دیا۔

بحریہ کے سربراہ، جس کا نام بالطہ اوغلی تھا، بہت پریشان تھا۔ ایک غیرتمند شخص کے لیے بزدلی کے طعنے سے بڑھ کر اور کیا عار ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا: "سلطان! میں خوشی سے موت قبول کر لوں گا، مگر میرے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہوگا کہ میں مر جاؤں اور بزدلی کا داغ مجھ پر لگا ہو۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے پوری طاقت لگائی، مگر ان بڑے جہازوں کے سامنے ہم کچھ نہ کر سکے۔” اس وقت بالطہ اوغلی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ اس نے اپنے دستار کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔

محمد فاتح کو احساس ہوا کہ بالطہ اوغلی بے قصور ہے۔ اس نے اسے معاف کر دیا اور صرف اس کی برطرفی پر اکتفا کیا۔ بالطہ اوغلی کے بعد اس نے حمزہ پاشا کو بحریہ کا سربراہ مقرر کیا۔

تاریخ کی کتب لکھتی ہیں کہ سلطان محمد فاتح نے بحری جنگ کو بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ وہ گھوڑے پر سوار تھا اور ساحل پر کھڑا جنگ کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ اس جنگ میں سلطان نے اپنا گھوڑا سمندر کی طرف نیچے اتارا، اسلامی جہازوں کے قریب گیا، بلند آواز میں بالطہ اوغلی سے مخاطب ہوا اور پھر ہاتھ کے اشارے سے اسے حکم دیا کہ اپنے سپہ سالار کو دیکھے۔ عثمانیوں نے اپنی کوششیں تیز کر دیں، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔

عثمانی بحریہ کی ناکامی کے کئی اسباب تھے، مگر ایک سبب یہ تھا کہ سلطان کے کچھ مشیروں، جن میں خلیل پاشا کا نام سرفہرست ہے، نے کوشش کی کہ سلطان قسطنطنیہ فتح کرنے کا خیال ترک کر دے اور شہر کے رہائشیوں کو چھوڑ کر دیگر شرائط پر صلح کر لے، محاصرہ توڑ دے اور واپس لوٹ جائے۔ مگر سلطان فتح چاہتا تھا۔ اس نے ہر طرف سے شہر پر توپوں سے حملہ کیا اور ساتھ ہی وہ زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) تک عثمانی جہازوں کی رسائی کا بھی سوچ رہا تھا۔

زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) کی طرف دیواروں کی بلندی زیادہ نہ تھی۔ سلطان چاہتا تھا کہ کسی بھی طرح جہاز زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) تک پہنچیں تاکہ مغرب کی حفاظت کے لیے دشمن کی فوج تقسیم ہو جائے اور جزیرے کے راستے دباؤ بڑھایا جائے۔

*سلطان محمد فاتح اور قسطنطنیہ میں ایک بے مثال فوجی کارنامہ:*

سلطان محمد فاتح کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا۔ اس نے عزم کیا کہ جہازوں کو بشکطاش بندرگاہ سے زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) تک لے جائے گا، مگر کیسے؟ گویا کوئی معجزہ ہونے جا رہا تھا۔ ایک انوکھی بات سامنے آ رہی تھی۔ سلطان نے حکم دیا کہ جہازوں کو دونوں بندرگاہوں کے درمیان جزیرے کے راستے زرّیں شاخ (گولڈن ہارن) تک لایا جائے، مگر یہ کام مکمل رازداری اور احتیاط سے ہونا چاہیے تاکہ جینوا کے جہاز حملہ نہ کریں۔ دونوں بندرگاہوں کے درمیان تقریباً تین میل کا فاصلہ تھا۔ اس کے علاوہ راستہ بھی ہموار اور کھلا نہ تھا، بلکہ بلند و پست، کھائیوں اور گھاٹیوں والے پہاڑ تھے۔

محمد فاتح نے اپنے جنگی مشیروں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنا انوکھا منصوبہ پیش کیا۔ اس نے اپنی جنگی حکمت عملی پر بات کی کہ وہ کس طرف سے حملہ کر رہا ہے۔ تمام مشیروں نے اس کے منصوبے کو قبول کیا اور بادشاہ کے اس خیال کی تعریف کی۔ اس منصوبے پر عمل شروع ہوا۔ سلطان محمد فاتح نے حکم دیا کہ راستہ ہموار کیا جائے۔ فوج کے بہادر سپاہی اپنے رہنما کے اس حیران کن منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ زمین کو ہموار کیا گیا اور چند گھنٹوں میں تیار کر لیا گیا۔ لکڑی کے تختے لائے گئے، ان پر موم اور تیل لگایا گیا، اور پھر ان چکنے تختوں کو ہموار زمین پر اس طرح رکھا گیا کہ جہاز ان پر آسانی سے پھسل سکیں۔

باسفورس سے جزیرے تک جہاز کھینچے گئے۔ ان جہازوں کو ان تختوں کی مدد سے، جو تیل سے تر تھے، اس جگہ تک کھینچا گیا جہاں ہر طرف امن تھا اور کسی طرف سے حملے کا خطرہ نہ تھا۔ جب رات ہوئی اور اندھیرا پھیلنے لگا تو خفیہ طور پر ان جہازوں کو زرّیں شاخ (گولڈں ہارن) کے پانی میں اتار دیا گیا۔ ان جہازوں کی تعداد 70 سے زیادہ تھی۔ یہ سلطان کا ایک بے مثال کارنامہ تھا۔ اس سے پہلے کسی دوسرے حکمران نے ایسی کارروائی نہیں کی تھی۔ دشمن غفلت کی نیند سو رہا تھا۔ سلطان محمد فاتح نے جزیرے سے جہازوں کی منتقلی کو قریب سے دیکھا اور ان جہازوں کو دشمن کے پیچھے چھپ کر منتقل کر دیا۔

Exit mobile version