استنبول میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی ساتویں کانفرنس میں مجاہد (پروفیسر انجینئر نجم الدین اربکان) نے اسلامی تاریخ کے ماضی کا تذکرہ کیا، جس کی نمائندگی خلافتِ عثمانیہ کرتی تھی۔ انہوں نے کہا: یہ جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ عظیم اسلامی اجتماع منعقد ہو رہا ہے، جس کے دروازے پر کلمۂ اسلام لکھا ہے، جو مسلمانوں کو جمع کرنے والا ہے، یعنی لا إله إلا الله، یہ وہ مقام ہے جسے استنبول کی فتح کے بعد محمد فاتح نے تعمیر کیا تھا، پھر یہ جگہ تاریخی کیوں نہ ہو؟
یہاں کبھی اسلام کے تمام امور پر مشاورت ہوتی تھی۔ یہ جگہ تاریخی کیوں نہ ہو کہ یہیں سے اسلامی لشکر دنیا کے ہر کونے میں روانہ ہوتے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔ جہاں بھی جاتے، نور، ہدایت اور عدل پھیلاتے۔ یہ جگہ تاریخی کیوں نہ ہو؟ یہ پتھر جس پر آج مائیکروفون رکھا ہے، کبھی اسی پر اسلامی لشکروں کے پرچم نصب ہوتے تھے جو تمام اسلامی سرزمینوں کو دشمن سے محفوظ رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر چند واقعات ذکر کرتا ہوں: ایک وقت اسلام کی بحری قوت کو روانہ کرنے کا فیصلہ ہوا تاکہ انڈونیشیا اور فلپائن کو ہالینڈ کی استعماری گرفت سے نجات دلائی جائے۔ اسی مقام سے شمالی افریقہ کی مدد کے لیے لشکر اور بحریہ بھیجنے کا معاہدہ ہوا تاکہ انہیں ہوس کے تابع جنگجوؤں سے بچایا جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ وہ تاریخی عمارت ہے جس کی دیواروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یادگار نشانیاں محفوظ ہیں، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم، خادم، تلوارِ مبارک اور دیگر اشیاء۔ بہرحال، خلافتِ عثمانیہ جہاد کے اصولوں کو بہت اہمیت دیتی تھی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لشکر تیار کرتی تھی، جس سے اسلام اور مسلمانوں کو بے حد فائدہ پہنچا۔
وہ بیت المال کو ضائع ہونے سے محفوظ رکھتی تھی۔ عثمانی حکمرانوں کے نزدیک سلطنت ایک ایسا ادارہ تھی جس کا فریضہ شرعی احکام کا نفاذ، پوری ملت کی رائے کی ترجمانی اور قومی دولت کی درست حفاظت تھا۔ سلطنت کی ذمہ داری محض امن قائم کرنا اور دفاع کرنا نہیں تھی، بلکہ معاشرے کی اصلاح پر توجہ دینا، بیت المال کے بے جا اخراجات کی روک تھام اور اس کی آمدنی و برآمدات کی حفاظت بھی اس کے فرائض میں شامل تھی۔
رعایا پر ہاتھ اسی وقت اٹھایا جاتا جب اسلام اس کی اجازت دیتا۔ حکومت کا کام شرعی احکام نافذ کرنا ہے اور شریعت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ لوگوں کے مال کی حفاظت کی جائے۔ اسلام نے ناحق کسی کا مال لینے کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ حاکمِ وقت پر فرض ہے کہ وہ لوگوں کے مال کو چوری اور لوٹ مار سے بچائے، نہ یہ کہ خود قوم کے مال کو لوٹے اور ظلم کا آغاز کرے۔
ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ، لباس اور رہائش فراہم کرو اور نیک لوگوں کا احترام کرو۔ عثمانی حکمران فقرا اور مساکین کے ساتھ حسنِ سلوک میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ جو کوئی بھلائی اور احسان کا مستحق ہوتا، اس کی مدد میں سبقت لے جاتے۔ اس میدان میں خلافتِ عثمانیہ نے بڑے بڑے کام کیے۔ طلبہ، مساکین اور بیواؤں کے لیے ادارے قائم کیے گئے، اور زکوٰۃ کو سلطنت کے ایک بنیادی ستون کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
پروفیسر محمد حرب لکھتے ہیں:
استنبول کی جامعات میں علمی تحریک عروج پر تھی۔ صوقللی محمد پاشا نامی عالم نے اس سلسلے میں بڑی محنت کی، انہوں نے استنبول میں علمی تحریک کے لیے “چیک اور سلوواکیہ” میں موجود دو ہزار عثمانی دیہات کی آمدنی خرچ کی (چیک اور سلوواکیہ اس وقت خلافتِ عثمانیہ کا حصہ تھے)۔ اسی طرح اسعدی افندی، جو بلقان کی فوج کے قاضی تھے، انہوں نے یتیم بچوں کی کفالت کے لیے دو بڑے مراکز قائم کیے۔ جو بچے شادی کی عمر کو پہنچتے، ان کی شادیاں عزت کے ساتھ کروائی جاتیں۔
خلافتِ عثمانیہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے مراکز بہت زیادہ تھے۔ بعض مراکز ایسے تھے جن کی آمدنی سے مستحق خاندانوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا تھا، یہ وظیفہ کھانے پینے کے سامان کے علاوہ ہوتا تھا، کیونکہ کھانے پینے کے لیے الگ مراکز موجود تھے۔ خوراک کی فراہمی کے لیے الگ عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں جہاں غریبوں کو مفت کھانا دیا جاتا تھا۔ ان عمارتوں میں ایک وقت میں تقریباً بیس ہزار افراد کھانا کھا سکتے تھے۔ ایسی سہولیات تمام صوبوں میں موجود تھیں
۔
اسی نوع کا ایک خیراتی لنگرخانہ سلیمانیہ مسجد میں بھی قائم تھا۔ ۱۵۸۶ء میں اس لنگر کے تمام اخراجات دس ملین ڈالر سے کچھ کم تھے۔ امراء، امیروں اور وزیروں کی سطح پر سلطنت کی ایسی پالیسی تھی جو ضرورت مندوں کے کھانے، پینے اور رہائش کی ضمانت دیتی تھی۔
علما جسم میں روح کی مانند ہوتے ہیں، ان کی عزت کرو اور ان کے حوصلے بلند رکھو۔ اگر کسی دوسرے شہر میں کسی عالم کے بارے میں سنو تو اسے اپنے پاس بلاؤ اور اس کی تمام ضروریات پوری کرو۔

