Site icon المرصاد

خلافت عثمانیہ تاریخ کے اوراق سے | چھتیسویں قسط

عثمانی افواج کا اچانک حملہ:

عثمانیوں نے شہر میں داخل ہونے کے لیے ایک خاص حکمتِ عملی اپنائی۔ انہوں نے لکڑی کے تختوں سے ایک بڑی اور اونچی متحرک قلعہ نما ساخت تیار کی۔ یہ چلتا پھرتا قلعہ تین منزلہ تھا، اور شہر کی فصیل سے بھی اونچا تھا۔ اس قلعے پر گیلا کپڑا چڑھایا گیا تھا تاکہ آگ اس پر اثر نہ کرے۔ ہر منزل پر سپاہی بٹھائے گئے تھے، اور سب سے اوپر تیرانداز موجود تھے جو ہر اُس شخص کو نشانہ بناتے تھے جو فصیل سے اپنا سر باہر نکالتا۔

عثمانی جب اس متحرک قلعے کے ساتھ آگے بڑھے تو شہر کے محافظوں کے دلوں میں خوف بیٹھ گیا۔ مسلمان افواج اس قلعے کو رومانوس دروازے (باب رومانوس) کے قریب لے گئے۔ قسطنطین کا بادشاہ خود اپنے سپہ سالاروں کے ہمراہ آگے بڑھا تاکہ اس قلعے کا راستہ روکے اور اسے فصیل سے پیچھے دھکیلے۔ قلعے میں موجود سپاہیوں اور فصیل کے باہر موجود دشمنوں کے درمیان شدید جنگ چھڑ گئی۔ لڑائی کافی شدت اختیار کر گئی۔ وہ مسلمان جو اب تک فصیل کے اندر محصور تھے، وہ کوشش کرتے ہوئے فصیل پار کرکے باہر آگئے۔

قسطنطین کو یقین ہو گیا کہ وہ شکست کھانے والا ہے، لیکن محصور صلیبی فوجیوں نے قلعے پر بار بار حملے کیے، جس کے اثرات قلعے پر ظاہر ہوئے۔ یہ متحرک قلعہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جل گیا اور قریب تھا کہ بازنطینی برجوں پر جا گرتا۔ اس قلعے میں موجود محافظ سپاہی شہید ہو گئے، اور اس کے پیچھے بننے والی خندق کو پتھروں اور مٹی سے بھر دیا گیا۔ تاہم عثمانی مایوس نہ ہوئے، انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ سلطان محمد فاتح، جنہوں نے یہ تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے، فرمایا: ’’ہم کل ایسے چار مزید متحرک قلعے تیار کریں گے۔‘‘

محاصرہ طویل اور سخت ہوتا گیا، یہاں تک کہ بازنطینیوں کو شکست کا یقین ہونے لگا۔ مئی کی ۲۴ تاریخ کو شہر کے عمائدین نے شاہی محل میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں بادشاہ قسطنطین خود بھی شریک تھا۔ اس اجلاس میں ہر شخص کے چہرے پر مایوسی کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ بعض شرکاء نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ عثمانیوں کے قبضے سے پہلے شہر کو چھوڑ دیا جائے اور فرار اختیار کیا جائے۔ لیکن بادشاہ نے یہ مشورہ مسترد کر دیا اور شہر میں قیام اور رعایا کے ساتھ مرنے تک ساتھ نبھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس ختم ہوا، بادشاہ محل سے باہر نکلا اور قلعوں اور فصیلوں کا معائنہ کرنے لگا۔

شہر میں افواہیں پھیلنے لگیں اور دفاع کرنے والے سپاہیوں کا حوصلہ بتدریج ٹوٹنے لگا۔ سب سے اہم افواہ ۱۶ جمادی الاول(مئی ۲۵ تاریخ) کو پھیلی، جس کے مطابق بازنطینیوں نے حضرت مریم علیہا السلام کے ایک مجسمے کو اٹھایا اور شہر میں گھماتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف مدد کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ اچانک وہ مجسمہ ان کے ہاتھ سے گرا اور چکناچور ہو گیا۔ یہ واقعہ عیسائیوں کے لیے ایک معمولی بات نہ تھی، بلکہ آئندہ کسی بڑی مصیبت کی علامت سمجھی گئی، جس نے عوام اور بالخصوص فوج کو شدید متاثر اور پریشان کر دیا۔

اس کے اگلے دن یعنی ۲۶ مئی کو ایک اور واقعہ پیش آیا۔ تیز بارش ہوئی، آسمان گرجا، بجلی چمکی اور آسمانی آگ کا ایک شعلہ آیا جو سیدھا آیا صوفیا کی چھت پر جا گرا۔ کرج کے بڑے پادری (بشپ) نے اس واقعے کو شہر کے لیے بدشگون قرار دیا۔ وہ بادشاہ کے دربار میں گیا اور کہا: ’’اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کی مدد ترک کر دی ہے اور یہ شہر جلد ہی عثمانیوں کے قبضے میں چلا جائے گا۔‘‘ یہ سن کر بادشاہ سخت پریشان ہوا اور بے ہوش ہوگیا۔

عثمانی توپ خانے مسلسل گولہ باری کر رہے تھے، فصیلیں اور قلعے جگہ جگہ سے ٹوٹ چکے تھے۔ عثمانی فوج خندق عبور کر چکی تھی اور شہر میں داخل ہونے کے قریب تھی، مگر یہ راز کسی پر فاش نہ تھا کہ وہ کس سمت سے حملہ کریں گے۔

سلطان محمد فاتح کو یقین تھا کہ وہ شہر فتح کر لے گا، لیکن وہ خونریزی سے بچنا چاہتا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ قسطنطنیہ بغیر لڑائی کے اس کے حوالے ہو۔ اس نے بادشاہ کے نام ایک خط لکھا اور اسے ترغیب دی کہ شہر کو پرامن طور پر عثمانیوں کے حوالے کرے۔ اس نے بادشاہ اور اس کے ساتھیوں کو یقین دلایا کہ اُنہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، وہ جس طرف جانا چاہیں، آزادی سے جا سکیں گے، شہر میں نہ خون بہے گا اور نہ ہی کسی کو اذیت دی جائے گی۔ لوگوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ شہر میں رہیں یا نکل جائیں۔

جب یہ خط قسطنطین کے پاس پہنچا تو اس نے مشورے کے لیے دوبارہ مجلسِ شوریٰ طلب کی اور معاملہ عوام کے سامنے رکھا۔ کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ شہر عثمانیوں کے حوالے کر دیا جائے، جبکہ کچھ نے مرنے تک دفاع پر اصرار کیا۔ آخرکار بادشاہ نے جنگ کا فیصلہ کیا اور محمد فاتح کو جواب میں لکھا:

’’میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ سلطان صلح کا خواہاں ہے، میں خوشی سے اسے جزیہ دینے کو تیار ہوں، لیکن قسطنطنیہ کے حوالے کی بات ہے، تو میں قسم کھاتا ہوں کہ اس کی آخری سانس تک حفاظت کروں گا۔ یا تو اس دارالحکومت کا دفاع کرتے ہوئے کامیاب رہوں گا، یا اس کی فصیلوں کے نیچے دفن ہو جاؤں گا۔‘‘

جب سلطان محمد فاتح کو یہ خط ملا، تو اس نے کہا:

’’بہت جلد قسطنطنیہ کا تخت میری ملکیت میں ہوگا یا پھر یہ شہر میرا مدفن بنے گا‘‘!

Exit mobile version