داعش کے خلاف عالمی ردعمل؛ خوف سے لے کر غیر فعالی تک
داعش کے ظہور کے ساتھ ہی دنیا نے ایک کثیر جہتی اور متضاد ردعمل دکھایا۔ اس انتہا پسند گروہ کے عراق اور شام میں تیزی سے پھیلاؤ نے مختلف ممالک اور عالمی رائے عامہ کی جانب سے متنوع ردعمل کو جنم دیا۔ ان ردعمل کا تجزیہ عالمی برادری کی جانب سے اس خوفناک رجحان کے مقابلے میں پیچیدہ حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔
ابتدائی طور پر، عالمی ردعمل کا بڑا حصہ خوف پر مبنی تھا۔ اجتماعی قتل عام، جنسی غلامی، اور ثقافتی ورثے کی تباہی کے مناظر نے عالمی برادری کو گہری حیرت میں ڈبو دیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے ہر روز اس گروہ کے جرائم کے بارے میں خوفناک خبریں شائع کیں۔ یہ اجتماعی خوف دوہرا تھا: پہلا، داعش کے زیر کنٹرول علاقوں کی توسیع کا خوف، اور دوسرا، مختلف ممالک کے نوجوانوں میں اس گروہ کی انتہا پسندانہ نظریاتی رسوخ کے بارے میں تشویش۔
اسی دوران، نفرت اور بیزاری کا ردعمل بھی تیزی سے ابھرا۔ داعش کے غیر انسانی جرائم نے تمام مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اور عالمی ثقافتی شخصیات کو مجبور کیا کہ وہ ایک آواز میں اس گروہ کی مذمت کریں۔ یہ عالمی نفرت اس حد تک تھی کہ بعض اوقات دیگر انتہا پسند گروہوں نے بھی داعش کی انتہا پسندی پر نفرت کا اظہار کیا۔ داعش سے نفرت کی لہر اتنی شدید تھی کہ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے "21ویں صدی کی دوسری دہائی میں عالمی اتفاق رائے کا واحد موضوع” قرار دیا۔
لیکن ان دونوں طرح کے ردعمل کے ساتھ ساتھ، لاتعلقی بھی نظر آئی۔ کچھ ممالک نے ابتدائی طور پر داعش کو ایک عارضی اور علاقائی خطرہ سمجھا۔ یہ نقطہ نظر عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات میں تاخیر کا باعث بنا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کیے ہوتے، تو شاید داعش کے علاقائی پھیلاؤ کو روکا جا سکتا تھا۔
عالمی فوجی ردعمل بھی سنجیدہ اقدامات اور نرمی کا امتزاج تھا۔ ایک طرف، داعش کے خلاف لڑائی کے لیے عالمی اتحاد کا قیام عالمی عزم کی علامت تھا، جبکہ دوسری طرف، بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات اور علاقائی سیاسی کھیلوں نے ان اقدامات کی تاثیر کو محدود کر دیا۔ ایک واضح تضاد یہ تھا کہ کچھ ممالک ایک ہی وقت میں داعش کے خلاف لڑ رہے تھے اور ان کرداروں کے ساتھ اتحاد کر رہے تھے جو بالواسطہ طور پر اس گروہ کی مضبوطی میں مدد دے رہے تھے۔
رائے عامہ کی سطح پر بھی ہم نے متضاد ردعمل دیکھے۔ جبکہ دنیا کے بیشتر لوگوں نے خوف کے ساتھ داعش سے متعلق خبروں پر نظر رکھی، کچھ دوسرے لوگوں نے مختلف وجوہات، جیسے "جنگ سے تھکاوٹ” یا "بحران زدہ علاقوں سے دوری” کی وجہ سے اس انسانی المیے کے بارے میں لاتعلقی دکھائی۔ یہ لاتعلقی بعض اوقات منفی خبروں کے زیادہ حجم کی وجہ سے تھی، جس نے دنیا میں ایک طرح کی نفسیاتی بے حسی پیدا کر دی تھی۔
ایک قابل ذکر نکتہ یہ تھا کہ داعش کے مقابلے میں عالمی ردعمل دیگر انسانی بحرانات سے مختلف تھا۔ جبکہ داعش کے جرائم تیزی سے خبروں کی سرخیاں بنے، اس گروہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں عام شہریوں کی تکالیف کو کم توجہ دی گئی۔ یہ میڈیا کا انتخاب خود انسانی المیوں کے مقابلے میں عالمی ردعمل کی ایک طرح کی انتخابی نمائش کو ظاہر کرتا ہے۔
آخر میں، داعش کے خلاف عالمی ردعمل موجودہ دور میں عالمی برادری کی پیچیدگیوں کا آئینہ تھا۔ خوف، نفرت، اور بعض معاملات میں لاتعلقی کا امتزاج یہ دکھاتا ہے کہ انتہائی واضح شر کے مقابلے میں بھی عالمی ردعمل منتشر اور متضاد ہو سکتا ہے۔ اس تجربے کا اہم سبق یہ ہے کہ عالمی برادری صرف اس وقت داعش جیسے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکتی ہے جب وہ جذباتی ردعمل کے مرحلے سے گزر کر ہم آہنگ اور پائیدار عمل تک رسائی حاصل کرے۔

