۲۰۱۴ء: وہ سال جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا (موصل کی فتح اور رقہ کا سقوط)
۲۰۱۴ء مشرقِ وسطیٰ کی معاصر تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا؛ وہ سال جب داعش تنظیم تکفیر اور شدت پسندی کے اندھیروں سے نکل کر دنیا کو حیران کرنے کے لیے سامنے آئی اور عراق و شام کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوگئی۔ ۱۰ جون ۲۰۱۴ء کو موصل جیسے اسٹریٹیجک شہر کی فتح ایک سیاسی زلزلہ ثابت ہوا جس نے مشرقِ وسطیٰ کی نام نہاد سرحدوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ بڑا شہر جو نینویٰ صوبے کا دارالحکومت اور عراق کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر تھا، داعش نے نہایت کم وقت میں اور عراقی سکیورٹی فورسز کی معمولی مزاحمت کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا۔
موصل کا سقوط عراقی مرکزی حکومت کے لیے صرف عسکری اور معاشی اہمیت کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ علامتی طور پر بھی ایک تباہ کن دھچکا تھا۔ عراقی فوجیوں کی وہ تصاویر، جن میں وہ فوجی اڈوں سے بھاگ رہے تھے اور داعش کے لیے جدید امریکی اسلحے کے بڑے ذخائر چھوڑ گئے تھے، عراق کے سکیورٹی ڈھانچے کے مکمل انہدام کو ظاہر کرتی ہیں، جو امریکیوں نے اربوں ڈالر خرچ کر کے بنایا تھا۔
موصل کے سقوط کے بعد داعش کی پیش قدمی حیران کن تیزی کے ساتھ جاری رہی۔ موصل کے سقوط کے ایک ماہ بعد، ۴ جولائی ۲۰۱۴ء کو ابوبکر البغدادی موصل کی النوری جامع مسجد میں نمودار ہوا اور اسلامی خلافت کے دعوے کے ساتھ خود کو ’’مسلمانوں کا خلیفہ‘‘ قرار دیا۔ یہ مخصوص اقدام، جو اسی وقت داعش سے وابستہ میڈیا میں نشر کیا گیا، عالمِ اسلام اور عالمی برادری کو ایک واضح پیغام تھا: داعش اب ایک بغاوت کرنے والا گروہ نہیں رہا، بلکہ اپنے آپ کو ایک خودمختار اور پھیلتا ہوا ریاستی نظام سمجھتا ہے۔
البغدادی کی تقریر، اُس کا سیاہ لباس اور حاکمانہ لہجہ ایک ایسا منظر پیش کر رہا تھا جو اپنے حامیوں کے لیے پُرکشش اور اپنے دشمنوں کے لیے خوفناک تھا۔ النوری کی عظیم جامع مسجد کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا تھا؛ یہی وہ مسجد تھی جسے بعد میں ۲۰۱۷ء میں البغدادی کے حکم پر اُس وقت اُڑا دیا گیا جب داعش پسپا ہو رہی تھی۔
ادھر عراق کی سرحد کے قریب، شام کا شہر رقہ خودساختہ خلافت کا انتظامی دارالحکومت بن گیا۔ ۲۰۱۴ء کے جنوری میں رقہ کا سقوط اور داعش کے کمانڈ سینٹر میں اس کی تبدیلی نے اس گروہ کی فطرت میں ایک بنیادی تبدیلی کو ظاہر کیا۔ اُس وقت رقہ شمالی شام کا نسبتاً پُرامن شہر تھا، لیکن اچانک وہ ایک ایسی جماعت کے ظہور کا مرکز بن گیا جس نے اپنے آپ کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کہا۔
یہاں سے داعش نے حکمرانی کے اپنے طریقۂ کار کو ظاہر کرنا شروع کیا، مذہبی عدالتوں کے قیام سے لے کر ٹیکس اور میونسپل سروسز تک۔ لیکن اس کے ساتھ ایک ہولناک پہلو بھی تھا: سزائے موت کے مقامات، خوفناک جیلیں اور فوجی تربیت کے مراکز جہاں بچوں کو جنگ اور تشدد میں تیار کیا جاتا تھا۔ رقہ ایک ایسا میدان بن گیا جہاں داعش نے اپنے شدت پسندانہ نظریات کو نافذ کیا اور قرونِ وسطیٰ کے قوانین کو ایسے وحشیانہ انداز میں لاگو کیا جو جدید دور میں ناقابلِ تصور تھے۔
۲۰۱۴ء میں داعش کی برق رفتار پیش قدمی اور اس کی خودساختہ ریاست کے قیام نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔ ایک طرف دنیا کے مختلف ممالک سے ہزاروں جہادی داعش کے علاقوں میں پہنچے، اور دوسری طرف عالمی برادری سکتے اور حیرت میں مبتلا ہوگئی۔
وہ ویڈیوز جو داعش نے اپنی حکومت کے تحت زندگی کے بارے میں جاری کیں، جدیدیت اور قرونِ وسطیٰ کا ایک عجیب امتزاج تھیں: جنگجو جدید ہتھیاروں سے لیس تھے لیکن سزائیں قرونِ وسطیٰ کی دیتی تھیں۔ وہ شہر جہاں ڈیجیٹل دفاتر موجود تھے، وہاں جنسی غلامی کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔ یہ واضح تضاد داعش کی پروپیگنڈا حکمتِ عملی کا حصہ تھا، جو بیک وقت روایتی اور جدید، پُرکشش اور خوفناک بننا چاہتی تھی۔
۲۰۱۴ء داعش کی طاقت کا نقطۂ عروج تھا، لیکن اسی برق رفتار توسیع نے اس کے زوال کے بیج بھی بو دیے، کیونکہ اس نے تمام عالمی اور علاقائی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور انہیں ردِعمل دینے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں اس کی منحوس ریاستی ساخت جلد ہی ختم کر دی گئی۔

