نفسیاتی جنگ اور داعش کی میڈیا مشینری
داعش اپنی طاقت کے عروج پر انتہا پسند تنظیموں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مؤثر پروپیگنڈا مشینوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کی میڈیا مشینری بظاہر نہایت پیشہ ورانہ اور منظم مواد تخلیق کرتی تھی، جس کے ذریعے اس نے دنیا بھر کے عوام کے ذہنوں میں اپنی تنظیم کا ایک خوفناک اور طاقتور تاثر پیدا کیا۔
داعش کا مرکزی میڈیا مرکز جسے ’’اعلامیہ‘‘ کہا جاتا تھا اور جو رقہ میں قائم تھا، روزانہ درجنوں میڈیا پروڈکٹس تیار کرتا۔ ان میں پیشہ ورانہ ویڈیوز، ڈیجیٹل نشریات، پرکشش انفوگرافکس، حتیٰ کہ کمپیوٹر گیمز تک شامل تھے۔ یہ تمام مواد مختلف عالمی زبانوں میں ترجمہ کیا جاتا اور سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسنجرز اور خفیہ ویب سائٹس کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا جاتا۔
داعش کی تخلیق کردہ مواد کا معیار اتنا بلند تھا کہ بڑی بین الاقوامی میڈیا ایجنسیاں بھی کبھی کبھار نادانستہ طور پر اس کے مناظر اور خبریں نشر کر دیتیں، یوں وہ انجانے میں داعش کے پروپیگنڈے کو تقویت پہنچاتیں۔
داعش کی میڈیا حکمتِ عملی تین بنیادی ستونوں پر قائم تھی: دشمنوں کو خوفزدہ کرنا، نئے افراد کو اپنی جانب راغب کرنا اور اپنی نام نہاد خلافت کے لیے جواز تراشنا۔ خوف پھیلانے کے لیے، ہولناک اور اعصابی طور پر جھنجھوڑنے والی پھانسی کی ویڈیوز استعمال کی جاتیں جو جدید کیمروں کے ذریعے فلمائی جاتیں اور فلمی معیار پر ایڈیٹ ہوتیں۔ ان میں محض تشدد نہیں دکھایا جاتا تھا بلکہ انہیں مخصوص سیاسی پیغامات کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا۔
بھرتی کے میدان میں، داعش کا جریدہ ’’دابق‘‘ نہایت اہم تھا، جو کئی زبانوں میں شائع ہوتا۔ اس میں نظریاتی مضامین، عسکری رپورٹس اور غیر ملکی جنگجوؤں کی زندگیوں کی کہانیاں شامل ہوتیں، تاکہ داعش کی رکنیت کو ایک عظمت اور روحانی جہاد کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ جبکہ جواز فراہم کرنے کے لیے، داعش کے زیرِ قبضہ شہروں سے روزمرہ زندگی کی جھلکیاں نشر کی جاتیں، جیسے بازاروں، اسکولوں، اسپتالوں اور عدالتوں کے مناظر، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ داعش ایک منظم حکومت کی طرح اپنے زیرِ قبضہ علاقوں پر حکومت چلا رہی ہے۔
داعش کی میڈیا حکمتِ عملی کا ایک منفرد پہلو سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا ہوشیارانہ استعمال تھا۔ اس نے خصوصی آن لائن ٹیمیں تشکیل دی تھیں جو ٹوئٹر، فیس بک، ٹیلیگرام اور آن لائن گیمز میں سرگرم رہتیں۔ یہ ٹیمیں نہ صرف ’’اعلامیہ‘‘ کی تیار کردہ مصنوعات تقسیم کرتیں بلکہ دنیا بھر کے ناظرین کے ساتھ براہِ راست گفتگو کرکے ان کے سوالات کا جواب بھی دیتیں۔
داعش نے ’’ہیش ٹیگز کی بارش‘‘ تکنیک بھی استعمال کی، جس کے تحت ہزاروں اکاؤنٹس ایک ہی وقت میں مخصوص ہیش ٹیگز کا استعمال کرتے، تاکہ داعش کے موضوعات دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر ٹرینڈز میں شامل ہو جائیں۔ ہر خطے کے لیے ایک الگ حکمتِ عملی اپنائی گئی: یورپی نوجوانوں کے لیے جرأت اور روحانیت کا بیانیہ، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے سامعین کے لیے جہاد اور اسلام کے روایتی دشمنوں کے خلاف مزاحمت کا تصور۔
تاہم، اس تمام تر کوشش کے باوجود، داعش کا تیار کردہ مواد ایک متضاد تصویر پیش کرتا رہا۔ ایک طرف اعدام(پھانسیوں) اور وحشیانہ تشدد کی ویڈیوز اس کے خونریز اور درندہ صفت چہرے کو آشکار کرتی تھیں، تو دوسری طرف شہروں کی روزمرہ زندگی کے مناظر ایک اعتدال پسند اور قانون پر عمل کرنے والی ریاست کا تاثر دینے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ تضاد دراصل داعش کی نظریاتی دو رُخی کو ظاہر کرتا تھا۔
جب داعش کے جرائم دنیا پر عیاں ہوئے تو اس کے بیشتر ابتدائی حامی اس کے پُرتشدد مواد سے کٹنے لگے۔ نتیجتاً، اس کی پروپیگنڈا مشینری بتدریج اپنی تاثیر کھونے لگی۔ تاہم اس تجربے نے یہ ضرور ثابت کیا کہ انتہا پسند تنظیمیں جدید ابلاغی وسائل کو اپنے مکروہ مقاصد کے لیے کس قدر مؤثر انداز میں استعمال کر سکتی ہیں۔ یہ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا سبق تھا کہ آن لائن انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

