Site icon المرصاد

خلافت کا وہم؛ سلطنت کے خواب سے زوال تک! پانچویں قسط

ابوبکر البغدادی: داعش کی انتہا پسند تنظیم کے ماتھے پر شرمندگی کا داغ

عصرِ حاضر کی تاریخ میں ابوبکر البغدادی کا نام داعش کی انتہا پسند تنظیم کے ماتھے پر ایک سیاہ اور شرمناک داغ کی مانند چمکتا ہے، وہ شخص جو امریکی جیلوں کی گہرائیوں سے ابھرا، تاکہ ایک ایسی خوفناک بلا کو جنم دے جس سے اس کے پرانے ساتھی بھی لرزاں ہو گئے۔ اس پوشیدہ شخصیت کی زندگی مذہبی تعصب، بیمار قسم کی اقتدار پرستی، اور لامتناہی تشدد کا ایک عجیب و غریب امتزاج تھی۔

ابراہیم عواد ابراہیم علی البدری السامرائی، جو ابوبکر البغدادی کے نام سے مشہور ہوا، 1971 میں سامرا میں پیدا ہوا اور بظاہر ایک مذہبی گھرانے میں پروان چڑھا۔ اعلیٰ تعلیم اس نے بغداد یونیورسٹی میں اسلامیات کے شعبے سے حاصل کی۔ مگر علمی ذوق کو پروان چڑھانے کے بجائے، اس نے ایک متعصب اور پرتشدد ذہنیت کی آبیاری کی۔ اس کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ، "قرآن کی قراءت کے اختلافات”، اس کی سطحی فکری ترجیحات کی عکاسی کرتا تھا۔

یہ بظاہر تعلیمی پس منظر، دین کی خشک اور بے روح تفسیروں کی بنیاد بن گیا، ایسی تفسیریں جنہوں نے نہ صرف اسلام کو نقصان پہنچایا بلکہ انسانیت کو بھی اس کے تشدد پسند نظریات اور سوچ سے دوچار کر دیا۔

اس کی شخصیت عجیب تضادات کی حامل تھی، ایک طرف ظاہری کم گوئی، دوسری طرف بےمثال وحشت۔ پرانے ساتھی اس کی طویل خاموشی اور خوفناک نگاہوں کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ خاموشی حکمت کی علامت نہیں تھی بلکہ نفرت اور انتقام سے بھرے ذہن کو چھپانے کا پردہ تھی۔ اس نے بظاہر قیادت کی کوئی علامت ظاہر نہ کی، مگر امریکی جیلوں کے اندھیروں میں اس نے آہستہ آہستہ اپنے اندر اس شیطان کی پرورش کی جو قتل کرتا، لوٹتا اور تشدد پھیلاتا۔

اس کے عقائد، انتہا پسند سلفیت اور آخرت سے متعلق فریب خوردہ خیالات کا خطرناک امتزاج تھے۔ وہ خود کو "مسلمانوں کا خلیفہ” کہتا تھا، ایک لقب جو بےبنیاد فریب سے پیدا ہوا۔ یہ بڑی دعویٰ اس بیمار اور خود پسند مزاج کی جڑ میں تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتا گیا۔ اسلام کے بارے میں اس کی تفسیر، دین کو ذاتی اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنا چکی تھی۔

داعش کے سربراہ کے طور پر البغدادی کے اقدامات اس کی وحشت اور سنگ دلی کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کی قیادت میں داعش نے عصرِ حاضر کی تاریخ کے سب سے سفاک جرائم کیے، اجتماعی قتلِ عام سے لے کر جنسی غلامی تک، جو اکثر اس کی اجازت یا براہِ راست حکم پر انجام دیے جاتے تھے۔ اس سب کے باوجود، یہ "خود ساختہ خلیفہ” اور فریب میں مبتلا شخص، زیادہ تر محفوظ پناہ گاہوں میں چھپا رہتا اور دوسروں کو جنگ اور موت کی طرف دھکیلتا۔

البغدادی کا طرزِ قیادت خوف اور دہشت پر مبنی تھا۔ وہ معمولی سی مخالفت پر بھی سخت ترین سزا دیتا۔ حتیٰ کہ قریبی ساتھی بھی اس کے احکام سے خوفزدہ رہتے۔ یہ آمرانہ روش آخرکار اس کی مکمل تنہائی کا باعث بنی۔ زندگی کے آخری دنوں میں تو اس کے ذاتی محافظوں نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔

2019 میں البغدادی کی موت اس شخص کی زندگی کا اختتام تھی جس نے تعمیر کے بجائے تخریب پھیلائی، اتحاد کے بجائے تفرقہ، اور رحمت کے بجائے تشدد کا پرچار کیا۔ اس کا ورثہ سوائے بربادی، قتل و غارت اور نفرت کے کچھ نہ تھا۔ آج حتیٰ کہ سب سے سخت گیر تکفیری گروہ بھی اس کا نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔

البغدادی کوئی مذہبی رہنما نہیں تھا بلکہ اقتدار کا پجاری اور ایک مکمل نفسیاتی مریض تھا، جس نے دین کو اپنے جرائم کے لیے نقاب کے طور پر استعمال کیا۔

Exit mobile version