Site icon المرصاد

خلافت کا وہم؛ سلطنت کے خواب سے زوال تک! پہلی قسط

داعش کا دیگر انتہا پسند تنظیموں سے موازنہ:

۱۱ستمبر کے حملوں کے بعد ایک بے ترتیب اور غیر مستحکم دنیا میں، داعش کے نام سے ایک تنظیم نے انتہا پسندی کی تاریخ میں ایک نیا باب کھولا۔ یہ خیالی اور بے بنیاد گروہ صرف ایک معمولی پرتشدد تنظیم نہیں تھی بلکہ ایک منفرد حادثے کی صورت میں وجود میں آئی، جس کی خصوصیات دیگر انتہا پسند گروہوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خونریز اور سخت تھیں۔

جہاں دوسری تنظیمیں عموماً ٹارگٹڈ اور ہدفی قتل کی کارروائیوں تک محدود رہتی تھیں، داعش نے ایک مکمل حکومت قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی اور ہمیشہ خلافت اور اسلامی حکومت کی بحالی کے فریب میں مبتلا رہی۔ اس گروہ نے عراق اور شام کے وسیع حصوں پر قبضہ کر لیا، ’’خلافت‘‘ کے قیام کا دعویٰ کیا اور صدیوں بعد پہلی بار وسطی دور کی طرز پر حکمرانی کا پرچم بلند کیا۔

یہ دعویٰ، یہ بڑا فریب اور ان کے خونریز اقدامات انہیں دیگر انتہا پسند تنظیموں سے ممتاز کرتے ہیں؛ کیونکہ انہوں نے اسلام کے نام پر نہ صرف ظالمانہ جرائم کیے بلکہ ایسے جرائم کیے جو اسلام تو کیا انسانیت سے ہی دور تھے۔

ایک اور اہم نکتہ جو اس گروہ کو دیگر تنظیموں سے ممتاز کرتا ہے، ان کی منفرد پراپیگنڈا حکمت عملی تھی۔ جہاں بیشتر ایسے گروہ چھپ کر کام کرتے تھے، داعش کے دہشتگردوں نے ذہانت سے ورچوئل دنیا کا استعمال کیا اور پیشہ ورانہ معیار کا مواد تیار کرکے اپنے تشدد اور خوفناک پیغام کو عالمی سطح پر پھیلایا۔

اکیسویں صدی میں، وسطی دور کے قوانین کی اعلیٰ معیار کی ویڈیوز بنانا ایک ایسا تضاد تھا جو بیک وقت خوفناک بھی تھا اور کچھ بھٹکے ہوئے نوجوانوں کے لیے پرکشش بھی۔ قرآن پاک کی آیات یا اسلام کے عظیم پیغمبر کی احادیث کی تلاوت کرتے ہوئے، ان کی غلط تشریح اور تحریف کرکے قیدیوں کے گلے کاٹنے کے فتوے صادر کرتے اور دنیا کے سامنے ہی اس گلے کاٹنے کا عمل انجام دیتے۔

مالی اور اقتصادی نظام کے لحاظ سے بھی، اس گروہ نے نئے رجحانات اپنائے۔ روایتی گروہوں کے برعکس جو عام طور پر بیرونی امداد پر منحصر ہوتے تھے، داعش نے بینک لوٹنے، تیل بیچنے، ٹیکس وصول کرنے اور قدیم آثار کی سمگلنگ کے ذریعے ایک نئے اقتصادی نظام کی تشکیل کی، جو انتہا پسند گروہوں کے لیے مالی معاونت کی ایک نئی مثال تھی۔ اس حکمت عملی اور اقتصادی نظام نے داعش کو یہ موقع دیا کہ وہ بیرونی مدد کے بغیر بھی ایک مدت تک قائم رہ سکے اور اپنے تشدد، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کو جاری رکھے۔

ایک اور نمایاں خصوصیت، بیرونی افرادی قوت کی بے مثال کشش تھی۔ رپورٹس اور اعدادوشمار کے مطابق، ۱۱۰ سے زائد ممالک سے ۴۰ ہزار سے زیادہ افراد اس گروہ کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ یہ اجتماعی ہجرت، جو تشدد، قتل و غارت گری کی طرف جھکاؤ رکھتی تھی، جدید تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ڈاکٹروں اور انجینئروں سے لے کر سابقہ مجرموں تک، ان خیالی اور وهمی جنگجوؤں کی مختلف طبقات اور معاشرتی گروہوں کے لیے متعدد پہلوؤں سے پرکشش تھی۔

تاہم، یہی خصوصیات اس گروہ کے تیز رفتار زوال کا سبب بھی بنیں۔ یہ خارجی گروہ اتنی ہی تیزی سے ختم ہوا جتنا تیزی سے وہ وجود میں آیا اور اسلامی خلافت کا دعویٰ کیا۔ حکمرانی کا دعویٰ اور خلافت کے اس فریب نے انہیں نشانہ بنایا، اور ان کا غیر مستحکم اور پیچیدہ اقتصادی نظام ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

آخرکار، داعش ایک مستحکم ریاست کے طور پر قائم رہنے کے بجائے تاریخ میں ایک منفرد انتہا پسند ٹولے کے طور پر یاد رکھی جائے گی اور یہ ایک ایسی تنظیم تھی، جس نے تجزیہ کاروں اور سیاسی رہنماؤں کے لیے بے شمار اسباق فراہم کیے۔

Exit mobile version