Site icon المرصاد

خلافت کا وہم؛ سلطنت کے خواب سے زوال تک! | چھٹی قسط

داعش کی نظریاتی اساس؛ سلفیت اور مطلق تشدد کا امتزاج
داعش کی نظریاتی بنیاد کو سلفیت کی انتہا پسند تعبیر اور منظم تشدد کے زہریلے امتزاج کے طور پر سمجھنا چاہیے، جو مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی بحرانوں کے ماحول میں پروان چڑھی۔ یہ فکری نظام، جسے بظاہر مذہبی رنگ دیا گیا تھا، دراصل اقتدار کی ہوس اور منظم تشدد کو جواز فراہم کرنے کا ایک آلہ تھا۔

اس نظریے کی بنیاد تین اصولوں پر تھی: (۱) ایک مخصوص تعبیر کے ساتھ سلف صالحین کی طرف رجوع، (۲) وسیع پیمانے پر مخالفین کی تکفیر، اور
(۳) اہداف کے حصول کے لیے تشدد کو واحد راستہ سمجھنا۔ یہ خطرناک مثلث اُس گروہ کی فکری بنیادیں بن گئیں، جو خلافتِ اسلامی کے احیاء کا دعویٰ کرتا تھا لیکن عملاً عصرِ حاضر کی سب سے خونی تنظیموں میں ڈھل گیا۔

داعش کی جانب سے سلفیت کی تعبیر اس فکری بہاؤ کی ایک مہلک تحریف تھی، جس میں دین کی محض ظاہری شکل پر زور دیا گیا اور اسلامی تعلیمات کے توازن اور حکمت کو نظر انداز کیا گیا۔ تاریخی متون کے من مانے انتخاب اور صدیوں کے تفسیری تسلسل کو ترک کرنے کے نتیجے میں، انہوں نے اسلام کا ایک ظالمانہ اور سخت گیر چہرہ پیش کیا، جسے کئی سلفی علماء نے بھی مسترد کیا۔ اس انتہا پسند فکر میں ’’جہاد‘‘، ’’امر بالمعروف‘‘ اور ’’نہی عن المنکر‘‘ جیسے بنیادی مفاہیم اپنی اصل روح سے جدا کرکے جبر و تشدد کے آلات بنا دیے گئے۔

داعش نے ضعیف روایات اور خود ساختہ تاویلات کے ذریعے تشدد کو نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ کئی مواقع پر اسے واجب بھی ٹھہرایا۔ ان کے ساتھ ہر اختلاف کو ایمان کی کمزوری کی علامت کہا جاتا۔ تکفیر کا یہی میکانزم داعش کی نظریاتی ریڑھ کی ہڈی بنا۔ تکفیر کے دائرے کو مسلسل وسیع کرتے ہوئے، اس گروہ نے تقریباً تمام اسلامی اور غیر اسلامی طبقات کو اپنے لامحدود تشدد کے لیے ہدف بنایا اور اس کے جواز کی بنیاد فراہم کی۔

شیعہ، صوفی، دروزی، عیسائی، یزیدی اور حتیٰ کہ وہ سنی مسلمان جو ان کے ہم فکر نہ تھے، سب کو داعش نے کفار و مشرکین کی فہرست میں شامل کردیا۔ اس تکفیری منطق نے داعش کو یہ موقع دیا کہ وہ ’’کفار کے خلاف جہاد‘‘ کے احکام کا حوالہ دے کر ہر جرم کو جائز ٹھہرائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تکفیری رویے میں حتیٰ کہ دیگر جہادی تنظیمیں جیسے القاعدہ بھی شامل ہو گئیں، جنہیں داعش نے حقیقی جہاد سے انحراف کے الزام میں مطعون کیا۔

تکفیر کا یہ وسیع دائرہ داعش کی نظریاتی تنگ نظری اور انحصار طلب فطرت کی عکاسی کرتا تھا، جو کسی قسم کے مخالف آواز کو برداشت نہیں کرتا۔ داعش کی فکر میں تشدد محض ایک ذریعہ نہیں بلکہ بذاتِ خود ایک مقصد تھا۔ بہت سے باغی گروہوں کے برعکس، جو تشدد کو سیاسی مقاصد کے حصول کا وسیلہ سمجھتے ہیں، داعش نے تشدد کو طاقت اور عظمت کی نمائش کے طور پر اپنایا۔ عوامی سزائے موت، سر قلم کرنا، قیدیوں کو زندہ جلانا اور دیگر مظالم سب اس طاقت کے مظاہر کا حصہ تھے، تاکہ خوف و ہراس کے ذریعے اپنی حیثیت قائم رکھ سکیں۔

اس تشدد کے تماشے کی دو بنیادی غرضیں تھیں: پہلی، دشمنوں کو دہشت زدہ کرنا، اور دوسری، اُن انتہا پسند عناصر کو اپنی طرف کھینچنا جو ایسی خونریز مناظر سے متاثر ہوتے ہیں۔ داعش کی فکر میں ایسا تشدد نہ صرف قابلِ مذمت نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ تقویٰ اور مذہبی جوش و خروش کی علامت تصور کیا جاتا۔ یہ اخلاقی بگاڑ داعش کے فکری ہتھیاروں کا ایک نہایت خطرناک پہلو تھا، جس نے اس کے کارکنوں کو یہ موقع دیا کہ وہ بغیر کسی ندامت کے بدترین جرائم انجام دیں۔

یہ تین عناصر ۔۔۔ سخت گیر سلفیت، وسیع پیمانے پر تکفیر اور مطلق تشدد ۔۔۔ مل کر ایک ایسی قتل و غارت کی لڑی بن گئے جس نے مشرقِ وسطیٰ کو برسوں اپنی لپیٹ میں رکھا۔ اگرچہ فکری طور پر یہ نظریہ کمزور اور تضادوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن اس کی سادگی اور پیچیدہ سوالات کے براہِ راست جوابات کی وجہ سے سادہ ذہنوں کے لیے کشش رکھتا تھا۔

مذہبی جذبات کے استحصال اور جدید میڈیا کے ہوشیارانہ استعمال کے ذریعے داعش کی نظریات نے ہزاروں افراد کو دنیا بھر سے اپنی طرف مائل کیا، مگر آخرکار اسی محدود اور خشک فکر نے داعش کو وسیع سماجی بنیاد حاصل کرنے سے روک دیا اور وہ اپنے ہی تشدد میں غرق ہو گئی۔ آج، اس نام نہاد خلافت کے انہدام کے بعد، داعش کی نظریاتی میراث تباہی، قتل و خون اور نفرت کے سوا کچھ نہیں۔

Exit mobile version