Site icon المرصاد

خلافت کا وہم؛ سلطنت کے خواب سے زوال تک! چودہویں قسط

موصل سے رقہ کے سقوط تک
۲۰۱۴ء میں طاقت کے عروج سے لے کر ۲۰۱۹ء میں داعش کے زوال تک کا مرحلہ ایک نہایت پیچیدہ عمل تھا، جس کے دوران اس دہشت گرد اور خارجی گروہ نے بتدریج اپنے زیرِ قبضہ تمام علاقے کھو دیے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کن موڑ ۲۰۱۷ء میں موصل کی جنگ ثابت ہوئی، جو عراقی سکیورٹی فورسز کی قیادت میں اور بین الاقوامی اتحاد کی فضائی مدد سے وسیع پیمانے پر انجام دی گئی۔

یہ جنگ اکتوبر ۲۰۱۶ء سے جولائی ۲۰۱۷ء تک جاری رہی اور اکیسویں صدی کی طویل ترین اور خونریز شہری جنگوں میں شمار کی جاتی ہے۔ داعشی خوارج نے، جنہوں نے عراق میں صوبہ موصل کو اپنی نام نہاد خلافت کا مرکز بنایا ہوا تھا، شہری جنگ کے مختلف حربے اختیار کیے، جن میں زیرِ زمین سرنگیں، بڑے پیمانے پر بارودی سرنگوں کی تنصیب اور شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شامل تھا، اور اس طرح سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم عراقی افواج؛ جن میں منظم فوج، خصوصی دستے اور عوامی رضاکار شامل تھے، نے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی انٹیلی جنس اور لاجسٹک معاونت کے ساتھ مل کر بالآخر جولائی ۲۰۱۷ء میں شہر کو مکمل طور پر آزاد کرا لیا۔

موصل کے سقوط نے نہ صرف داعش کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا بلکہ اس کے زیرِ کنٹرول دیگر علاقوں کی آزادی کے لیے بھی ایک مثال قائم کی۔ موصل کے بعد رقہ، جسے داعش نے شام میں اپنی نام نہاد دارالحکومت قرار دیا تھا، اگلا ہدف بنا۔ رقہ کی آزادی کے لیے آپریشن جون ۲۰۱۷ء سے اکتوبر تک جاری رہا، جس کی قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز نے کی، جو بنیادی طور پر شامی کردوں پر مشتمل تھیں۔

یہ کارروائیاں امریکا کی براہِ راست فوجی مدد اور بین الاقوامی اتحاد کے نہایت دقیق فضائی حملوں کے ساتھ انجام پائیں۔ شامی افواج کی حکمتِ عملی شہر کے بتدریج محاصرے اور داعش کی اہم رسد و نقل و حرکت کی راہوں کو کاٹنے پر مبنی تھی۔ شہر کے مرکز پر براہِ راست یلغار کے بجائے پہلے گرد و نواح کے دیہات اور اطرافی علاقوں کو آزاد کرایا گیا، اور پھر آہستہ آہستہ مرکز کی جانب پیش قدمی کی گئی۔

یہ حکمتِ عملی اگرچہ وقت طلب تھی، تاہم اس کے نتیجے میں شہری آبادی کا جانی نقصان نسبتاً کم رہا۔ رقہ میں بھی داعش کی مزاحمت نہایت شدید تھی، اور اس گروہ نے اپنے تمام حربے استعمال کیے، جن میں یرغمال بنانا، خودکش حملے کرنا اور بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھانا شامل تھا۔ مگر بالآخر ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۷ء کو شامی افواج نے رقہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، اور یوں شام میں داعش کے آخری اہم مراکز میں سے ایک پر اس کا پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔

داعش کے زوال کا آخری مرحلہ مارچ ۲۰۱۹ء میں باغوز کے سقوط کے ساتھ سامنے آیا، جو مشرقی شام میں اس گروہ کے زیرِ قبضہ آخری گاؤں تھا۔ یہ کارروائی شامی کرد افواج نے انجام دی، جس کے دوران داعش کے وفادار آخری جنگجوؤں نے سخت مزاحمت کی۔ اس مرحلے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ علاقے میں ہزاروں شہری موجود تھے؛ زیادہ تر داعش کے جنگجوؤں کے اہلِ خانہ، جنہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

شامی افواج نے نہایت احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کی تاکہ شہریوں کے جانی نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ آخرکار ۲۳ مارچ ۲۰۱۹ء کو باغوز مکمل طور پر شامی افواج کے کنٹرول میں آ گیا، اور اس تاریخ کو داعش کے خود ساختہ خلافت کے خاتمے کی علامت کے طور پر محفوظ کر لیا گیا۔ ان مسلسل شکستوں کے اسباب کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بیرونی فوجی دباؤ کے ساتھ ساتھ، غلط داخلی پالیسیوں اور زیرِ قبضہ علاقوں کے عوام کے ساتھ سفاکانہ سلوک کے باعث داعش اپنی سماجی بنیاد کھو چکی تھی۔ اعلیٰ سطح کے متعدد کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد مؤثر قیادت کا فقدان، مالی وسائل کی کمی، اور مقامی قبائل کی حمایت سے محرومی وہ عوامل تھے جنہوں نے اس گروہ کے تیز رفتار زوال کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

Exit mobile version