داعشی وحشیانہ دہشت گرد گروہ نے جو تمام جرائم کیے، ان میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص یزیدیوں، عیسائیوں اور شیعوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، اس انسانی المیے کے حقیقی حجم کا ایک خوفناک منظر پیش کرتے ہیں۔ یزیدی، جو مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین مذہبی اقلیتوں میں سے ایک ہیں، اکیسویں صدی میں نسل کشی کی سب سے منظم مہم کا شکار بنے۔
اگست ۲۰۱۴ء میں جب داعشی خوارج نے عراق کے شمال میں سنجار کی یزیدی آبادی والے علاقوں پر حملہ کیا تو ہزاروں افراد کو قتل کر دیا گیا، عورتوں اور بچوں کو جنسی غلام بنا کر لے جایا گیا۔ یہ آپریشن، جو انتہائی منظم انداز یں کیے گئے تھے، محض ایک عام فوجی حملہ نہیں تھا، بلکہ ایک پوری قوم اور مذہب کو مکمل طور پر تباہ و برباد اور نیست و نابود کرنے کی منظم کوشش تھی۔
یزیدی عورتوں کو داعش کے غلاموں کے بازاروں میں بیچا جاتا تھا، مردوں اور نوجوان لڑکوں کو اجتماعی طور پر پھانسیاں دی جاتی تھیں۔ جو متاثرین داعش کے پنجوں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے، وہ گہرے نفسیاتی صدموں کا شکار ہوئے جن کے علاج میں برسوں لگیں گے۔ اگرچہ عالمی برادری نے شروع میں اس سانحے کی مذمت کی، مگر یزیدیوں کو بچانے کے لیے کوئی ٹھوس عملی قدم نہ اٹھایا اور اس قدیم قوم کو اس کے مقدر پر تنہا چھوڑ دیا گیا۔
مشرق وسطیٰ کے عیسائی، جن کی موجودگی دو ہزار سال پرانی تاریخ رکھتی ہے، بھی داعش کے بے مثال مظالم کا شکار ہوئے۔ موصل اور نینوا کے میدان میں قدیم مقامات تباہ کر دیے گئے، عیسائی خاندانوں کو یا تو بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا یا اسلام قبول کرنے کے بعد گھروں سے نکال دیا گیا۔ داعش نے مصری اور ایتھوپیائی عیسائیوں کی پھانسیوں کی ویڈیوز نشر کر کے عیسائی دنیا کو واضح پیغام دیا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
اس دشمنانہ پالیسی کی وجہ سے بین النہرین کی آخری باقی ماندہ عیسائی برادریوں کے افراد، جن کی نسلیں صدیوں سے اس سرزمین پر آباد تھیں، اپنے گھر اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ ہاتھ سے لکھی گئی کتابوں اور قدیم آثار سمیت عیسائی ثقافتی ورثے کو نیست و نابود کر دینے سے خطے کے ثقافتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا جو آنے والی نسلوں تک اثرانداز ہوگا۔
شیعہ بھی داعش کی نظریات میں بنیادی دشمن سمجھے جاتے تھے اور اس گروہ کے بے رحم حملوں کا سب سے بڑا نشانہ بنے۔ ۲۰۱۴ء میں کیمپ اسپائیکر میں سینکڑوں شیعہ فوجیوں کے قتل سے لے کر عراق اور شام بھر میں شیعہ مساجد اور امام بارگاہوں پر بم دھماکوں تک، داعش نے اس برادری کا وجودختم کرنے کے لیے پوری طاقت لگا دی۔
یہ منظم تشدد اس سوچ پر مبنی تھا کہ شیعہ کافر اور مشرک ہیں اور ان کا قتل شرعی طور پر واجب ہے۔ یہاں تک کہ شیعہ بچے بھی اس وحشت سے محفوظ نہ رہے اور کئی مقامات پر شیعہ خاندانوں کے اجتماعی قتل دیکھنے میں آئے۔ داعش نے موصل اور تکریت میں شیعہ مزاروں کو مسمار کرنے کی ویڈیوز نشر کر کے اپنی فرقہ وارانہ نفرت کا کھلے عام اظہار کیا۔ اس پالیسی نے خطے میں فرقہ وارانہ تشدد کو بے پناہ بڑھاوا دیا اور عراقی معاشرے پر ایسے زخم چھوڑے جن کے مندمل ہونے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔
داعش کے زوال کے بعد بھی ان متاثرین کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ بہت سی یزیدی عورتیں جن پر جنسی تشدد ہوا، اپنی ہی برادریوں میں طعنوں اور تذلیل کا شکار ہوئیں۔ ان زبردستی تعلقات سے پیدا ہونے والے بچے پیچیدہ شناخت کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ باقی ماندہ عیسائیوں میں سے اکثر واپس گھر لوٹنے کی خواہش نہیں رکھتے، جبکہ شیعہ جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا، بدلہ لینے کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔
یہ انسانی المیہ دکھاتا ہے کہ داعش کے نفرت انگیز نظریات نے ان برادریوں کو، جو صدیوں سے ایک ساتھ رہتی آئی تھیں، ایک دوسرے سے جدا کر کے رکھ دیا۔ ان سماجی رشتوں کی بحالی ایک طویل عمل ہوگا جس میں علاقائی اور عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔
آخر میں، ان بھلا دیے گئے متاثرین کی یاد آنے والی نسلوں کے لیے ایک وارننگ کی صورت میں زندہ رہنی چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ پر داعش جیسا کوئی اور سیاہ سایہ دوبارہ نہ چھا سکے۔

