Site icon المرصاد

خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

خواجہ شفیق اللہ عباسی، جو ابوقدامہ کلنگاری کے نام سے مشہور تھے، سالار خواجہ غلام سعید کے فرزند اور محمد سعید کے پوتے تھے۔ آپ ۲۵ میزان ۱۳۷۴ ھ ش(۱۹۹۵ء) کو صوبہ لوگر کے مرکزی علاقے، گاؤں کلنگار میں ایک دیندار، مجاہد اور معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابوقدامہ، جہاں ایک طرف اسکول کے طالبِ علم تھے، وہیں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے اور نوجوانی کے ابتدائی ایام ہی سے اسلامی تربیت اور خاندانی روحانی ماحول کے زیرِ اثر ایمان، ادب اور شعور سے آراستہ شخصیت کے مالک بن گئے۔

خواجہ شفیق اللہ نے ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جدید علوم سے گہری دلچسپی کے باعث اعلیٰ تعلیم کا راستہ اختیار کیا اور اپنے ساتھیوں میں ایک ممتاز، محنتی اور نمایاں طالبِ علم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ تاہم، ابوقدامہ صاحب کے دل میں دینی غیرت اور اپنے وطن و قوم کے مستقبل کے حوالے سے احساسِ ذمہ داری موجزن تھا، اور وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر حملے اور قبضے سے سخت رنجیدہ تھے۔ چنانچہ ۱۳۸۸ ھ ش میں خفیہ طور پر مولوی محمد اللہ فاروقی کی قیادت میں امارتِ اسلامیہ افغانستان کی صفوں میں شامل ہو کر اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔

ابوقدامہ نے اپنے بارہ سالہ جہادی زندگی میں مختلف شعبوں، جیسے گوریلا کارروائیوں، ٹارگٹ حملوں، گھات، بارودی سرنگوں کی تنصیب اور چسپاں کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد میں نمایاں مہارت اور تجربہ حاصل کیا اور اپنے جہادی سفر میں متعدد کارنامے انجام دیے۔ اسی طرح انہوں نے صوبہ ننگرہار میں داعشی خوارج کے خلاف متعدد عسکری کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں ہر معرکے میں جرات، استقامت اور مضبوط حوصلے کے ساتھ صفِ اول میں کھڑے ہو کر دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، یہاں تک کہ دشمن بھی ان کی بہادری اور دلیری کا معترف تھا۔

ابوقدامہ کلنگاری ہر وقت سچے دل سے اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے شہادت کی دعا کرتے رہتے اور اس دیرینہ آرزو کو اپنے وجود میں پروان چڑھاتے رہے۔ خواجہ شفیق اللہ نے اعلیٰ تعلیم کے دو سال مکمل کرنے کے بعد ایک گوریلا سرگرمی کے دوران دشمن کی جانب سے شناخت کیے جانے پر مخفی زندگی اختیار کی اور اپنے منتخب راستے پر ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہے۔

ابوقدامہ صاحب اسلامی عالی اخلاق، عمدہ عادات اور بہترین اوصاف سے آراستہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوبصورت اور پرجلال چہرہ اور باوقار قد و قامت عطا کیا تھا۔ ان کے لب ہمیشہ ایک دلکش مسکراہٹ سے مزین رہتے، جو ان کے باطن کی صفائی، قلبی سکون اور روحانی عظمت کی عکاسی کرتی تھی۔ وہ اپنے دوستوں کے لیے نہایت مہربان، مخلص اور ہمدرد تھے، جبکہ دشمنوں کے سامنے ایک مضبوط، ثابت قدم اور ناقابلِ شکست انسان تھے۔

ابوقدامہ رحمہ اللہ نے راہِ جہاد میں برسوں کی سختیوں، مصائب اور بے شمار آزمائشوں کو برداشت کرنے کے بعد بالآخر ۱۸ حوت ۱۳۹۹ ھ ش(۲۰۲۱ء) کو رات کے وقت صوبہ لوگر کے مرکزی علاقے کے گاؤں خواجہ بابا میں ایک ظالمانہ گھات میں، دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کے بعد اپنے وفادار ساتھی ذکر اللہ وحدت کے ہمراہ پہلے زخمی ہوئے اور پھر جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے اس ملکوتی سفر نے دوستوں، رفقاء اور تمام چاہنے والوں کے دلوں پر گہرا زخم، ناقابلِ فراموش غم اور دائمی درد چھوڑ دیا۔

اللہ تعالیٰ ان کی روح کو شاد رکھے، ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے اور ان کے مبارک راستے کو اہلِ صدق و صفا سے آباد رکھے۔
نحسبه کذلک والله حسیبه

Exit mobile version