الحمد للہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، وعلی آلہ وصحبہ، اما بعد:
قدیم اور جدید خوارج کی پوری تاریخ میں آپ کو ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ انہوں نے کسی سرزمین کو کفار یا مشرکین سے فتح کیا ہو، پھر وہاں اسلام اور مسلمانوں کی حکومت قائم کی ہو، یا وہاں کے مقامی کفار و مشرکین نے اسلام قبول کیا ہو۔
اسی طرح خوارج کی پوری تاریخ میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ وہ خالص مشرکین یا کفار کے خلاف جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہوں، حالانکہ تاریخ کے بعض ادوار میں خوارج قوت، شان و شوکت، تعداد اور وسائل کے اعتبار سے خاصی طاقت رکھتے تھے۔ مگر ان کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ہر زمانے اور ہر جگہ انہی مسلمانوں کے خلاف اٹھے ہیں جو کفار کے راستے میں رکاوٹ تھے، یا جو ان کے تکفیری نظریے سے متفق نہ تھے۔ مسلمانوں کے قتل، اذیت اور صفایا کرنے میں انہوں نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس تحریر میں سب سے پہلے ہم قدیم اور جدید خوارج کے فکری، اعتقادی اور ہدفی اتحاد اور ان کے باہمی مشترک نکات کا مختصر جائزہ لیں گے، پھر احادیثِ نبویہ اور سابقہ علما کے اقوال کی روشنی میں اس بات کو واضح کریں گے کہ خوارج کا اصل ہدف مسلمان کیوں ہوتے ہیں؟ اور وہ کفار کے بجائے مسلمانوں کے قتل کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
قدیم اور جدید خوارج کی مشترکہ خصوصیات
1- قوت اور وسائل
موجودہ خوارج، جیسے داعش، قدیم خوارج کی طرح قوت، وسائل اور امکانات رکھتے ہیں؛ لیکن ان وسائل کو مشرکین اور کفار کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
2- مسلمانوں کا قتل
موجودہ خوارج بھی سابقہ خوارج کی طرح اپنی منحرف اور نفسانی تاویل، غلط تفسیر اور خود ساختہ تعبیر کی بنیاد پر ہر اس شخص کو مسلمان نہیں سمجھتے جو ان کے نظریے کو قبول نہ کرے یا ان کی مخالفت کرے۔ جس طرح قدیم خوارج مسلمانوں کو قتل کرتے اور کفار کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے، اسی طرح آج کے خوارج بھی مسلمانوں اور باقاعدہ اسلامی حکومتوں پر حملے کرتے ہیں۔
3- کفار کے خلاف کمزور رویہ
قدیم خوارج مشرکین اور کفار کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے۔ بعینہٖ یہی حال جدید خوارج کا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات وہ غیر مسلموں کے خلاف بھی کوئی کارروائی کرتے ہیں، لیکن وہ نہایت کمزور اور محدود ہوتی ہے، عموماً کسی خاص منصوبے کے تحت؛ جبکہ ان کی اصل توجہ اسلامی معاشرے کے اندرونی اختلافات اور فتنوں پر ہوتی ہے۔
4- اختلاف اور انتشار کو ہوا دینا
قدیم خوارج کی طرح جدید خوارج بھی مسلمانوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جھگڑوں کے مواقع پر سر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد اور منصوبوں کے لیے فتنہ، تقسیم اور انتشار کو فروغ دیتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کسی بھی درجے کے تشدد سے گریز نہیں کرتے۔
5- فکری انحراف اور غلط تاویلات
قدیم خوارج کی طرح آج کے خوارج بھی شریعتِ اسلامی کے نصوص اور سنت پر صحیح طور پر عمل نہیں کرتے، بلکہ اپنے انتہا پسندانہ فہم، منحرف تاویل، غلط تفسیر اور نفسانی تعبیر کی بنیاد پر ہر شخص اور ہر معاملے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
اب ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ خوارج کفار کے بجائے مسلمانوں کو کیوں قتل کرتے ہیں اور مسلمانوں کے قتل کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
علما فرماتے ہیں کہ خوارج کا مشرکین کے ساتھ قتال نہ کرنا رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی واضح نشانیوں میں سے ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
«يقتلون أهل الإسلام، ويدعون أهل الأوثان، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية»
یعنی: “وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔” (بخاری و مسلم)
علامہ قرطبی رحمہ اللہ اپنی کتاب المفہم میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ “وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے” غیب کی خبر ہے جو بعینہٖ اسی طرح پوری ہوئی، اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یہ ان غیبی خبروں میں سے ہے جن کی نبی ﷺ نے خبر دی، اور وہ بالکل اسی طرح واقع ہوئیں جیسا آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔
ابن حزم رحمہ اللہ الفصل میں لکھتے ہیں کہ خوارج ہر اس شخص کا امتحان لیتے تھے جو ان کے لشکر سے تعلق نہیں رکھتا تھا؛ اگر وہ کہتا کہ میں مسلمان ہوں تو اسے قتل کر دیتے، جبکہ یہود، نصاریٰ اور مجوسیوں کو قتل کرنا حرام سمجھتے تھے۔ اسی پر رسول اللہ ﷺ نے گواہی دی کہ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کی روشن دلیل ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ کتاب السنۃ میں روایت کرتے ہیں کہ عون بن عبد اللہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مجھے خوارج کے پاس بھیجا۔ میں نے ان سے کہا: کیا تمہارے پاس اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننے کی کوئی علامت ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ میں نے کہا: تمہارے نزدیک دوست کی علامت یہ ہے کہ اگر وہ کہے: میں نصرانی ہوں، یا یہودی ہوں، یا مجوسی ہوں، تو تم مطمئن ہو جاتے ہو؛ اور دشمن کی علامت یہ ہے کہ اگر وہ کہے: میں مسلمان ہوں، تو تم اس سے ڈرتے ہو۔
امام شاطبی رحمہ اللہ الاعتصام میں لکھتے ہیں کہ خوارج نے فاسد تاویل کی بنیاد پر مسلمانوں سے جنگ شروع کی، انہیں غیر موحد قرار دیا، اور کفار و نصاریٰ کے خلاف جنگ کو ترک کر دیا۔
اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ میں فرماتے ہیں کہ خوارج کی سب سے بڑی برائی، جس پر نبی ﷺ نے سخت نکیر فرمائی، یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور مشرکین کو چھوڑ دیتے ہیں، اور یہ لوگ عموماً مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے وقت ظاہر ہوتے ہیں۔

