Site icon المرصاد

خیالی خلافت سے حقیقی زوال تک! دوسری قسط

بلا شبہ داعشی خوارج کی شکست کی سب سے بڑی وجہ اور یہ کہ وہ اپنے بلند دعوؤں اور بڑے بڑے اہداف تک کیوں نہ پہنچ سکے؛ ان کا منہجی انحراف تھا۔ یہ وہ گروہ تھا جو ابتدا ہی سے خود کو القاعدہ کا پیرو اور حتیٰ کہ اس کا قائد ظاہر کرتا رہا، اور یہ دعویٰ بھی کرتا رہا کہ وہ اہلِ سنت والجماعت کے منہج پر قائم ہے؛ مگر بہت جلد اس کی عقیدتی گمراہیاں نمایاں ہو گئیں اور اس کے اور اہلِ سنت کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔

جی ہاں! مختصر عرصے ہی میں داعشی خوارج کی حقیقی حقیقت آشکار ہو گئی اور کسی شک و شبہے کی گنجائش نہ رہی کہ یہ گروہ جو خود کو اہلِ سنت کا نمائندہ اور ان کے جان و مال کا محافظ بتاتا تھا؛ حقیقت میں اپنے عقائد کے اعتبار سے اہلِ سنت سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا، بلکہ سراسر ان کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوارج میں منہجی انحراف نے امتِ مسلمہ کے عام لوگوں کو ان سے بدظن کر دیا، اور نتیجتاً ان کا زوال بھی اتنی ہی تیزی سے ہوا جتنی تیزی سے ان کا ظہور ہوا تھا۔ اس تحریر کے تسلسل میں ہم خوارج کے اعمال اور اہلِ سنت کے عقیدے کے درمیان چند اہم اور بنیادی تضادات کی نشاندہی کریں گے۔

اہلِ سنت کے عقیدے اور داعشی خوارج کے طرزِ عمل کے درمیان ایک نمایاں اور سنگین تضاد مسلمانوں کی تکفیر کا مسئلہ ہے۔ اہلِ سنت والجماعت قرآن و سنتِ نبوی کی روشنی میں تکفیر کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں، اور صرف واضح اور صریح حالات میں، مضبوط شرعی دلائل کے ساتھ ہی اسے جائز سمجھتے ہیں؛ کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو یہ کلمہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر لوٹ آتا ہے۔

یہ محتاط رویّہ اسلامی امت کی وحدت کے تحفظ اور فتنوں سے بچاؤ کی بنیاد پر قائم ہے۔ اسی وجہ سے اہلِ سنت کے عظیم علماء جیسے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ نے بے بنیاد اور جلد بازی پر مبنی تکفیر سے اجتناب کی سخت تاکید کی ہے۔ اس کے برعکس داعشی خوارج واضح منہجی گمراہی کے ساتھ ہر اُس مسلمان کو جو ان کے انتہاپسندانہ نظریات سے ہم آہنگ نہ ہو، بآسانی کافر قرار دیتے ہیں اور اس کے خون اور مال کو حلال سمجھتے ہیں۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف اہلِ سنت کے عقیدے کے سراسر خلاف ہے بلکہ اس کے نتیجے میں بے گناہ مسلمانوں کے وسیع پیمانے پر قتل ہوئے اور اسلامی امت تفرقے کا شکار ہوئی۔ جو گروہ سنت کی پیروی کا دعویٰ کرتا ہے، وہ عملاً اسلام کے ابتدائی دور کے خوارج کی مانند حد سے بڑھی ہوئی تکفیر کے ذریعے خود کو اسلامی دائرے سے خارج کر بیٹھا۔

دوسرا نمایاں تضاد مسلمانوں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے بارے میں ہے۔ اہلِ سنت کا عقیدہ معتبر احادیث، جیسے نبی کریم ﷺ کا ارشاد «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ»، پر مبنی ہے، جس کے مطابق مسلمانوں کی جان محترم ہے اور بلا ضرورت قتل و غارت، حتیٰ کہ جنگ کے حالات میں بھی، ممنوع ہے۔

اہلِ سنت کے علماء، جن میں امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ بھی شامل ہیں، نے جہاد کے دوران شرعی اصولوں کی پابندی اور عام شہریوں پر تشدد سے اجتناب کی سخت تاکید کی ہے، یہاں تک کہ دشمن سے مقابلے میں بھی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے تحفظ کو لازم قرار دیا ہے۔

اس کے برخلاف داعشی خوارج نے اس عقیدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں اور غیرمسلمانوں کے اجتماعی قتل عام کا راستہ اختیار کیا اور ہزاروں بے گناہ انسانوں کی جان لے لی۔ یہ انحراف نہ صرف اہلِ سنت کے منہج سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ قدیم خوارج کی اس فتنہ انگیزی کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اسلام کے دفاع کے نام پر امت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا اور بالآخر عوامی حمایت سے محروم ہو گئے۔

تیسرا تضاد اہلِ کتاب اور دینی اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق ہے۔ اہلِ سنت کا پختہ عقیدہ قرآنِ کریم کی آیات، جیسے «لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ»، پر مبنی ہے جو رواداری اور غیرمسلمانوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہیں۔ مدینہ میں یہودیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل اس کی عملی مثال ہے۔

اہلِ سنت کے علماء، جیسے امام غزالی رحمہ اللہ، نے بھی جزیہ ادا کرنے والے اہلِ ذمہ کے امن و تحفظ کو واجب قرار دیا اور ان پر ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو حرام کہا ہے۔

اس کے برعکس داعشی خوارج نے کھلے انحراف کے ساتھ عیسائیوں اور ایزدیوں جیسی دینی اقلیتوں کے قتل اور ایذا رسانی کا ارتکاب کیا اور ان کے حقوق پامال کیے۔ اہلِ سنت کے منہج سے یہ تضاد نہ صرف اسلام کی شبیہ کو مسخ کرنے کا باعث بنا بلکہ یہی وجہ بنی کہ عالمِ اسلام نے اس گروہ کو اسلام کا حقیقی نمائندہ تسلیم نہ کیا، اور نتیجتاً وہ اس سے کہیں زیادہ جلد زوال پذیر ہو گیا جتنا ابتدا میں تصور کیا جا رہا تھا۔

Exit mobile version