Site icon المرصاد

خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

المرصاد کو معتبر ذرائع سے معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے، جس میں متعدد داعشی ہلاک ہوئے ہیں۔

المرصاد کو قابلِ اعتماد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آج رات دیر گئے خیبر پختونخوا کی خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ کے “قمبرخیل” میں داعشی خوارج کا ایک اور اہم اور خفیہ مرکز ڈرون طیاروں کے دقیق حملوں میں مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، اور اس میں موجود متعدد داعشی مارے گئے ہیں۔

اگرچہ ہلاک ہونے والے داعشیوں کی درست تعداد کے بارے میں حتمی اور مکمل اعداد و شمار ابھی تک سامنے نہیں آئے، تاہم ذرائع کے مطابق اس حملے میں داعشیوں کے حملوں کے ایک اہم آپریشنل مرکز اور خفیہ پناہ گاہ کو نشانہ بنایا گیا، اور دشمن کے اس خفیہ ٹھکانے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق، داعشی خوارج نے قمبرخیل کے علاقے میں یہ خفیہ مرکز اس مقصد کے لیے قائم کیا تھا کہ وہاں سے خطے اور پڑوسی ممالک میں تخریبی سرگرمیوں اور مذموم مقاصد کے لیے افراد کی بھرتی، تنظیم سازی اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اسی طرح اس مرکز میں داعشی جنگجوؤں کو تربیتی کورسز بھی کروائے جاتے تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں مرکز میں موجود تمام داعشی خوارج ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا اور اس کے نواحی علاقوں میں داعشیوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہو، بلکہ المرصاد اس سے قبل بھی اپنی مستند رپورٹس میں یہ انکشاف کر چکا ہے کہ خیبر کے «جبار میلہ» علاقے میں خوارج کا وہ اہم ترین مرکز، جسے عبدالحکیم توحیدی اور گل نظیم جیسے معروف داعشی رہنما چلاتے تھے، ڈرون حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح باڑہ کے “شنکو” علاقے میں خوارج کے ایک بڑے مرکز پر اسی نوعیت کے حملے میں 11 داعشی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

Exit mobile version