مقدس دینِ اسلام اپنے آغاز سے لے کر آج تک واحد ایسا دین ہے جس کے تمام احکام انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور جو انسان کی قدر و وقار کی حفاظت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ کے ہر دور میں اس دین کے پیروکار سب سے باوقار اور معزز لوگ رہے ہیں اور ہیں۔ تاریخ کے تمام ادوار میں دنیا کی قیادت اور حکمرانی انہی کے ہاتھ میں رہی اور انہوں نے عملاً بہترین قیادت کا مظاہرہ کیا۔
کچھ لوگ جو اپنی نفسانی اور حیوانی خواہشات کے غلام بن گئے، انہوں نے اسلام قبول نہ کیا اور اس دین کی دشمنی پر اتر آئے۔ اس راہ میں انہوں نے کسی قسم کی کوشش سے دریغ نہیں کیا، لیکن ان کی تمام کوششیں ناکام اور بے اثر ثابت ہوئیں، کیونکہ ان کی صفیں منظم نہ تھیں اور مسلمانوں نے اپنی پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔
آخرکار اسلام کے خلاف اپنی کی گئی کوششوں کے نتائج حاصل کرنے کے لیے کفار نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں نام نہاد مسلمانوں کو کھڑا کیا۔ تاریخ کے ہر دور میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو بظاہر مسلمان تھے اور اسلامی لبادہ اوڑھتے تھے، لیکن باطن اور حقیقت میں وہ کفار کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کام کرتے تھے۔ آج بھی داعش کے نام سے ایک گروہ، جو اسلام کا دعویٰ بھی کرتا ہے، کفار کی صف میں کھڑا ہے اور چاہتا ہے کہ عزیز دینِ اسلام کو مٹا دے اور اسے بدنام کر دے۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش کوئی ایسی تحریک نہیں جو اسلام کی تعلیمات سے ابھری ہو بلکہ یہ ایک گمراہ اور منحرف تحریک ہے جو اپنے تشدد، سطحی فکر اور تکفیری رویّے کی وجہ سے اسلام کی اصل روح اور تعلیمات سے کھلے طور پر متصادم ہے۔
بے گناہ لوگوں اور حق پرست علماء کا خون بہانے، شہروں کو تباہ کرنے اور دینی مفاہیم کو مسخ کرنے کے ذریعے اس گروہ نے ہر بیرونی دشمن سے بڑھ کر اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ داعش کے اقدامات نے اسلام کی وہ تصویر پیش کی ہے جسے اسلام کے بدخواہ اور دشمن برسوں سے بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد اسلام سے لوگوں کو دور کرنا، مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا اور اسلامی سرزمینوں میں تسلط اور مداخلت کو جواز فراہم کرنا ہے۔
جب ہم آج اسلامی ممالک کی صورتِ حال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ گروہ مکمل طور پر اسلام کے بڑے علماء اور دین کے مبلغین کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ افغانستان میں ان انتہا پسند خوارج کے ظہور کے آغاز سے ہی انہوں نے بے شمار دینی علماء، بہترین واعظین اور اسلام کے وفادار مجاہدین کو شہید کیا ہے، جنہیں کفار برسوں سے ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسلام کے عظیم واعظ اور داعی مولانا مجیب الرحمن انصاری تقبّلہم اللہ، اسلامی معاشرے کے ممتاز عالم شیخ رحیم اللہ حقانی تقبّلہم اللہ اور عظیم مجاہد خلیل الرحمن حقانی تقبّلہم اللہ اس کی چند مثالیں ہیں۔ ان کی تمام کوششیں ان لوگوں کو مٹانے کے لیے ہیں جو حقیقت میں دین کے ساتھ مخلص ہیں اور اسلام و مسلمانوں کے لیے کام کرتے ہیں۔
آخر میں ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ موجودہ دور میں یہ گروہ کفار کا ایک آلہ ہے جس کے ذریعے وہ اسلام اور سچے مسلمانوں کو ختم کرنا اور اسلامی امت کے درمیان تفرقہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

