Site icon المرصاد

داعش؛ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کے لیے خطرہ! دوسری قسط

ابتدائے اسلام میں خوارج؛ خطرے کی ابتدا
خوارج وہ پہلی جماعت تھی جس نے اسلامی تاریخ کے آغاز ہی میں امتِ مسلمہ کے امن اور اتحاد کو سخت خطرے میں ڈال دیا۔ انہوں نے تکفیر، تشدد اور عادل امام کے خلاف بغاوت کا اعلان کر کے امت کو خونریز بحران میں مبتلا کر دیا۔

اس مقالے کی ابتدا میں مناسب ہوگا کہ ہم اس گمراہ فرقے کے بارے میں کچھ مختصر معلومات حاصل کر لیں، تاکہ منتخب عنوان پوری طرح واضح ہو سکے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ نوجوان اور عام مسلمان اس طرح کی گمراہ کن جماعتوں کے بارے میں باخبر رہیں، تاکہ امتِ مسلمہ ان کی پہچان کے ذریعے اپنے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھ سکے۔ یہ وہ فرقہ ہے جو عہدِ رسالت سے موجود رہا ہے اور روایات کے مطابق ان کا آخری شخص دجال کے ساتھ خروج کرے گا۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
’’جب خوارج کا فتنہ امت میں ظاہر ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر گفتگو فرماتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث بیان کرتے جو خوارج کے بارے میں وارد ہوئیں، اور قرآنِ عظیم کی وہ آیات پڑھتے جن میں اس گروہ کا رد موجود ہے، تاکہ لوگوں کے سامنے ان کے بدعتی افکار کھل کر واضح ہو جائیں۔‘‘

لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس گروہ کے بارے میں جانے، جو امت کے اتحاد اور سلامتی کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا خطرہ رہا ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وَسُمُّوا خَوَارِجَ لِخُرُوجِهِمْ عَنِ الْجَمَاعَةِ، وَقِيلَ: لِخُرُوجِهِمْ عَنْ طَرِيقِ الْجَمَاعَةِ‘‘
ترجمہ: انہیں خوارج اس لیے کہا گیا کہ انہوں نے جماعت سے خروج کیا، اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے مسلمانوں کی راہ و روش کو چھوڑ دیا۔‘‘

اس تعریف سے ظاہر ہوتا ہے کہ خوارج ابتدا سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کے درمیان تفرقہ اور انتشار کا سبب بنتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں، اور مسلمانوں کی سلامتی کے لیے دوسرے دشمنوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔

خوارج اپنی غلط تاویلات اور افکار کی بنیاد پر ہر دور میں ایک مخصوص عقیدے کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ جب بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرّقہ ہوتا ہے تو یہ سر اٹھاتے ہیں، امت کو ٹکڑوں میں بانٹتے ہیں، امام اور جماعت کے خلاف لوگوں کو بھڑکاتے ہیں، دشمنوں پر حملوں کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خون کو حلال قرار دیتے ہیں۔

راجح قول یہ ہے کہ اس گروہ کا پہلا فرد سید البشر، عدل و ہدایت کے علمبردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ظاہر ہوا۔ جب ایک سنگدل خارجی ’’ذوالخویصرہ‘‘ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو گستاخانہ زبان کھولی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ’’حروریہ خوارج‘‘ بدعتی گروہوں میں سے سب سے پہلے تھے جنہوں نے اہلِ سنت والجماعت سے بغاوت کی۔ اس وقت بعض خلفائے راشدین، مہاجرین اور انصار زندہ تھے۔ خوارج نے امت کے اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔ ان کا پہلا باقاعدہ اجتماع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، جنگِ جمل اور جنگِ صفین کے دوران ’’سبائیہ‘‘ گروہ (جس کی قیادت عبداللہ بن سبا نامی یہودی منافق کر رہا تھا) کے تعاون سے ہوئی۔ انہوں نے صلح کی تجویز رد کر دی اور حرورا کے مقام پر جمع ہو گئے۔

یہ گروہ ہمیشہ مسلمانوں کے اختلافات کے موقع پر ظاہر ہوا ہے۔ امت کے اتحاد کو توڑا ہے اور اسلامی معاشرے کی سلامتی کو برباد کیا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں خوارج نے اسلام کے خاتمے اور مسلمانوں کی صفوں کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امت کے بہترین افراد اور دین کے محافظوں کو نشانہ بنا کر یہ کوشش کی کہ اسلام کو کمزور کریں اور اسلام دشمنوں کے مذموم مقاصد کو آگے بڑھائیں۔
عصرِ حاضر میں اس فرقے کی ایک واضح مثال ’’داعش‘‘ یا ’’دولۃ اسلامیۃ‘‘ کے نام سے سامنے آئی، جو اسلام کو تقسیم کرنے اور بدنام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

Exit mobile version