گذشتہ قسطوں میں تاریخی تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ خوارج اسلام کے آغاز سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنے رہے ہیں۔ جس حد تک ان کے پاس طاقت اور صلاحیت رہی، انہوں نے اپنے باطل مقاصد اور گمراہ کن نظریات کے نفاذ میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، اور ہمیشہ اسلام کے دشمنوں کی خوشی اور تقویت کا باعث بنے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں، خوارج نے امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی، اسلامی معاشرے کا اتحاد پارہ پارہ کیا اور ہزاروں مسلمانوں کا خون بہایا۔
درحقیقت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، بالخصوص خلفائے راشدین، امتِ مسلمہ کے لیے نہایت مشفق، مہربان اور خیرخواہ تھے۔ وہ حتیٰ کہ ان لوگوں کی بھی اصلاح کرتے رہے جو بدعت اور فساد کی راہ پر چل نکلے تھے۔ مگر جب حق واضح ہو جاتا اور دلیلِ شرعی قائم ہو جاتی، اور باطل پر اصرار باقی رہتا، تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سختی سے پیش آتے، اور یوں وہ قرآنِ کریم کی اس آیتِ مبارکہ کا جیتا جاگتا نمونہ بن جاتے: «أشداء على الکفار رحماء بینهم».
جب ہم ابتدائی دور کے خوارج کا موازنہ آج کے خوارج سے کرتے ہیں، تو ان کے درمیان حیرت انگیز مماثلت پاتے ہیں۔ جیسے قدیم خوارج حق کی باتیں کرتے تھے اور دینی نصوص کا ذکر کرتے تھے، لیکن رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق، ان کی باتیں ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترتی تھیں، اسی طرح آج کے خوارج کی زبان پر بھی حق کے نعرے ہیں مگر دلوں میں باطل کی تاریکی چھائی ہوئی ہے۔ ان کے گمراہ نظریات اور منحرف عقائد امت میں تفرقہ اور دشمنی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
انتہاپسندی نے انہیں اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ انہوں نے امت کے بہترین افراد، حتیٰ کہ عشرہ مبشرہ میں سے بھی بعض کو کافر قرار دیا اور ان کا خون حلال سمجھا۔ چنانچہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر اور ان کا قتل ان کے لیے معمولی بات بن چکا ہے، اور امت کے اتحاد اور امن کی تباہی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
یہ انتہا پسند اور بیوقوف لوگ قرآنِ عظیم کے متشابہ آیات سے اپنے ناقص فہم کی بنیاد پر استدلال کرتے ہیں، نہ کہ ان علماء کی تفسیر کے مطابق جو علم میں راسخ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگرد و پیرو تھے۔ اسی وجہ سے ایک بھی صحابی، بلکہ ان کے درجے کے سب سے نچلے مرتبے کا صحابی بھی ان کے نظریے سے متفق نہ تھا۔
یہی تفسیر بالرأی جو شرعی قرائن سے خالی تھی ان کی ہلاکت اور گمراہی کا باعث بنی۔ تقویٰ میں افراط، اپنے عقل پر غرور، اور علماء و امت کی معتبر شخصیات کی تحقیر نے انہیں واضح ضلالت میں دھکیل دیا۔ انجامِ کار وہ اپنے اعمال کے انجام تک پہنچے اور دنیا و آخرت دونوں میں خسارے میں پڑے۔
لہٰذا آج اُن لوگوں کے لیے جو اس گمراہ فرقے کی انتہا پسندی سے متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ افراط اور تند مزاجی کے ذریعے اسلام اور اسلامی نظام کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کریں، یہ پیغام ہے:
اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، دنیا و آخرت کی رسوائی اور بربادی کو اپنے اوپر مسلط نہ کرو۔ تاریخ کے عبرت ناک واقعات سے سبق حاصل کرو، اور اعتدال، بصیرت اور حکمت کی راہ اختیار کرو۔

