Site icon المرصاد

داعش؛ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کے لیے خطرہ! چھٹی قسط

یہ بات سب پر واضح ہے کہ ابوبکر البغدادی کا اعلانِ خلافت، نہ تو مجاہد رہنماؤں اور نہ ہی جہادی تنظیموں سے مشورے کے بعد کیا گیا تھا، بلکہ کسی بھی بڑے رہنما نے ایسی جماعت کے وجود پر کبھی رضامندی ظاہر نہ کی جو اسلام کے نام کو نقصان پہنچاتی ہو۔ حتیٰ کہ القاعدہ کے مجاہدین کے امیر شیخ ایمن الظواہری سے نہ مشورہ کیا گیا، نہ اجازت لی گئی، اور نہ ہی وہ اس گمراہ گروہ کی تشکیل پر راضی تھے۔

معاصر بڑے جہادی سلفی عالم، شیخ ابو محمد المقدسی نے اس وقت فرمایا تھا:
اللہ کی قسم! میں نے داعش جیسے جھوٹے، بد اخلاق اور غدار لوگ کبھی نہیں دیکھے۔

خلاصہ یہ کہ اس ناپسندیدہ گروہ کی جانب سے خلافت کے اعلان کے فوراً بعد، تمام جہادی جماعتوں کو حکم دیا گیا کہ اپنی تنظیموں کو تحلیل کریں اور اس جماعت کے سربراہ کے ہاتھ پر بیعت کریں۔

لیکن تمام جہادی تنظیموں نے القاعدہ سمیت (کیونکہ وہ اس گمراہ گروہ کی حقیقت سے باخبر تھے اور جانتے تھے کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنے اور مسلمانوں میں اختلاف و تفرقہ پیدا کرنے کے لیے وجود میں لایا گیا ہے) نہ صرف بیعت سے انکار کیا بلکہ اپنی ناراضگی اور مخالفت بھی کھل کر ظاہر کی، اور ان کے انتہاپسند اور تکفیری مطالبات کے سامنے جھکنے سے صاف انکار کر دیا۔

اس کے بعد جب داعشی خوارج نے شام اور عراق میں جہادی قوتوں اور مسلمانوں کو کمزور کیا، اور ہر جگہ سے جہادی گروہوں کو مٹانے کا منصوبہ شروع کیا، تو مسلمانوں کی صفوں کا اتحاد ایک حد تک پارہ پارہ ہو گیا۔ مسلمانوں اور مجاہدین کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے لیے انہوں نے دیگر علاقوں، خصوصاً افغانستان اور پاکستان میں بھی سرگرمیاں شروع کیں اور بے بنیاد شبہات اور بیہودہ تنقیدوں کا سلسلہ چھیڑ دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ داعشی خوارج کی تخلیق اور اس کی بنیاد شروع سے لے کر آج تک صرف اور صرف حقیقی جہادی جماعتوں کو مٹانے اور مسلمانوں کے اتحاد کو تہس نہس کرنے کے لیے ہوئی تھی اور اسی مقصد کے لیے جاری ہے۔ یہ بات بھی کسی پر پوشیدہ نہیں رہی کہ ان کی دوبارہ بحالی اور مضبوطی کے لیے کفار، بالخصوص صیہونیت، نے کبھی بھی کسی کوشش یا سازش سے گریز نہیں کیا اور نہ آئندہ کرے گی۔

لہٰذا تمام علماء، اساتذہ، اہلِ فکر و دانش اور دین کے داعیوں پر لازم ہے کہ عام مسلمانوں کو، خصوصاً نوجوانوں کو، ان گمراہ عناصر کے مذموم مقاصد اور سازشوں سے باخبر کریں جن پر وہ کاربند ہیں، تاکہ آئندہ اسلامی تاریخ میں ایسے انتہاپسند، نادان اور دین سے ناآگاہ افراد دوبارہ مسلمانوں کے اتحاد، یکجہتی اور قوت کو پامال نہ کرسکیں۔

Exit mobile version