Site icon المرصاد

داعش؛ ایک ایسا گروہ جس کی جڑیں خفیہ اداروں میں پیوست ہیں!

اگرچہ داعش نے عراق اور شام میں ایک ریاست کے قیام کا اعلان کیا اور خود کو عالمی خلافت کا دعویدار قرار دیا، لیکن حقیقت میں اس تنظیم کے بانی رہنما بعثی افسران تھے، جو اس تنظیم کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کا خلافت کا اعلان، تمام جہادی گروہوں کو کافر قرار دینا اور ان کے ساتھ جنگ کرنا، کسی انٹیلی جنس ادارے کی حکمت عملی اور طرز عمل سے بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے، نہ کہ ایک حقیقی خلافت کے جذبے اور اصولوں سے۔

اس تنظیم نے ابتدا میں عراق میں مجاہدین اور عام مسلمانوں کے خلاف حملے کیے، بعد میں اس سلسلے کو شام، افغانستان، صومالیہ اور دیگر اسلامی ممالک تک پھیلایا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ خلافت کے حقیقی مفہوم یعنی مسلمانوں کے تحفظ اور اتحاد کی قوت اور داعش کے عملی اقدامات کے درمیان گہرا اور واضح فاصلہ موجود ہے۔

اس تنظیم کی طرف سے امارت اسلامیہ افغانستان کو تسلیم نہ کرنا اور اسلامی نظام کے خلاف جنگ، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ داعش ایک حقیقی اسلامی ریاست سے کتنی دور ہے؛ یہ اس کے انحراف اور بے اصولی کی سب سے واضح مثال ہے۔

داعش کے بانی رہنماؤں کے بارے میں اہم معلومات اس وقت میڈیا میں آئیں جب عراق کے سابق نائب وزیر داخلہ نے کچھ سرکاری دستاویزات متحدہ عرب امارات کی ایک نیوز ایجنسی کو فراہم کیں۔ دوسری طرف، جرمنی میں شائع ہونے والے ایک میگزین نے بھی اس تنظیم سے متعلق کچھ دستاویزات اپنے قارئین کے سامنے پیش کیں۔

سمیر عبد محمد الحلفاوی، جو ’’حاجی بکر‘‘ کی عرفیت سے جانا جاتا تھا اور داعش کا سب سے زیادہ بااثر شخص تھا، ایک سابق بعثی افسر تھا۔ الحلفاوی نے ’’بکہ کیمپ‘‘ کے دور کے بعد عراق کی مزاحمتی تنظیموں سے رابطے استوار کیے اور بعد میں شام میں داعش کے سب سے بااختیار نمائندے کے طور پر فعال رہا، یہاں تک کہ وہ وہاں مارا گیا۔

ابو ایمن العراقی، جو داعش کے فوجی رہنماؤں میں سے ایک تھا، اپنے دیگر ساتھیوں کی طرح ایک سابق بعثی کمانڈر تھا۔ وہ عراق کی فوجی انٹیلی جنس کا افسر رہا تھا اور ملک میں نظام کی تبدیلی اور امریکہ کے حملے کے بعد تین سال تک قید رہا۔ یہ داعشی کمانڈر بعد میں شام چلا گیا تھا، موصل کی فتح کے بعد ایک مشکوک حملے میں مارا گیا۔

ابو احمد العلوانی داعش کا ایک اور کمانڈر ہے جس کا ذکر دستاویزات میں ہے۔ رجسٹر کے مطابق اس کا اصلی نام ولید جاسم ہے اور وہ ایک سابق بعثی افسر تھا۔ ایسی دعوے ہیں کہ علوانی، جس کے بارے میں عراق میں ایک حملے میں مارے جانے کی خبر تھی، اب بھی زندہ ہے۔

ابو عبدالرحمن البلوی، جو داعش کی اعلیٰ فوجی کونسل کے بانی رہنماؤں میں سے تھا، اس تنظیم کی تنظیمی کونسل کا سابق سربراہ بھی تھا۔ اس کا اصلی نام عدنان اسماعیل نجم تھا اور وہ ایک سابق فوجی عہدیدار تھا۔ وہ بھی ’’بکہ کیمپ‘‘ میں گرفتار شدہ افراد میں شامل تھا۔

آج بہت سے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ داعش، جو خصوصاً نوجوانوں کو یہ نظریہ دیتی ہے کہ وہ امارت اسلامیہ افغانستان کے خلاف جنگ کریں، نہ صرف اپنے قیام کے وقت انٹیلی جنس ذرائع کے ذریعے ہدایات حاصل کرتی تھی، بلکہ اب بھی انٹیلی جنس اداروں سے رابطوں میں ہے۔ یہ تنظیم افغانستان میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے اب بھی کچھ ممالک سے مالی امداد حاصل کرتی ہے۔

Exit mobile version