Site icon المرصاد

داعش؛ ایک بےخلیفہ خلافت! | دوسری قسط

داعش کی قیادت میں تضادات:

انتہا پسند تنظیم داعش نے اپنی طاقت کے عروج پر، خلافتِ اسلامیہ کے دوبارہ احیا کے دعوے کے ساتھ دنیا کو قتل و غارت اور وحشت سے دوچار کیا۔ لیکن اس بظاہر منظم ڈھانچے کے پیچھے ایک گھمبیر اور تضادات سے بھرپور ساخت چھپی ہوئی تھی، جو بالآخر اس کے زوال کا باعث بنی۔ اس مضمون میں اس زوال کی دو اہم وجوہات کا جائزہ لیا گیا ہے: داعش کے رہنماؤں کی فرار اور ہلاکت، اور داخلی گروہوں کے درمیان اقتدار کی جنگ۔

رہنماؤں کا زوال:

خلافت کے دعوے سے لے کر صحرا میں فرار تک، ابوبکر البغدادی، جو خود کو "خلیفہ المسلمین” کہتا تھا، 2019 میں شام کے علاقے ادلب میں ایک آپریشن کے دوران پھنس گیا اور اس نے اپنی خودکش جیکٹ کو پھاڑ کر خود کو ہلاک کر لیا۔ یہ اس شخص کے لیے ایک مثالی انجام تھا جس نے ایک وقت میں عراق اور شام کے ایک تہائی حصے پر ظلم و استبداد کے ساتھ حکومت کی۔ اس متوہم اور ظالم شخص کی موت داعش کی قیادت کے زوال کا آغاز تھی۔

مزاحمت کے بجائے فرار:

سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ویڈیوز واضح طور پر دکھاتی ہیں کہ داعش کے رہنما حساس لمحات میں اپنے افراد کو صحراؤں میں چھوڑ کر فرار ہونے کو ترجیح دیتے ہیں اور جدید گاڑیوں میں جنگ کے میدان سے بھاگ جاتے ہیں۔ داعشی انتہا پسند تنظیم کے رہنماؤں کے اس طرح کے اقدامات نے ان کے بڑے دعوے "موت تک وفاداری” کو مذاق بنا دیا۔

جانشینوں کی مسلسل ہلاکت:

بغدادی کے بعد، ابوالحسن ہاشمی قریشی اور ابوالحسین حسینی قریشی بھی ہدفی آپریشنز میں مارے گئے۔ ہر بار جب اس بے خلیفہ خلافت کا کوئی رہنما ہلاک ہوتا، تنظیم کے ارکان اور متوہم حامیوں کے درمیان عدم اعتماد مزید بڑھ جاتا۔ یہاں تک کہ داعشی انتہا پسند تنظیم مہینوں تک بغیر کسی رسمی جانشین کے اعلان کے کام کرتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ "بے خلیفہ خلافت” کی اصطلاح اس تنظیم پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اس عدم استحکام نے "خلافت” کے جھوٹے جوہر کو مزید بے نقاب کیا، جو الہی نظام کا دعویٰ کرتی تھی لیکن بنیادی انتظامی اصولوں میں بھی ناکام رہی۔

اقتدار کی جنگ:

خلافت کے سائے تلے ایک دوسرے کے دشمن گروہوں کے اتحاد کے دعووں کے پیچھے، داعش داخلی گروہوں کے تنازعات کا میدان تھی۔ داعش کے ایک سینئر کمانڈر، ابورقیہ انصاری کے اعترافات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عراقیوں اور شامیوں کے درمیان اختلاف اور تقسیم کا شعلہ ہمیشہ عراقی گروہ (ابو علی انباری کی قیادت میں) اور شامی گروہ (ابو عمر شیشانی کی قیادت میں) کے درمیان وسائل اور حکمت عملی کے کنٹرول پر جلتا رہا۔ ابورقیہ کے اعتراف کے مطابق، یہ اختلافات بعض اوقات اتنا شدید ہو جاتے کہ مسلح تصادم کا باعث بنتے۔

جبہة النصرہ کے ساتھ دشمنی:

داعش سے جبہة النصرہ کے علیحدہ ہونے کے بعد، کئی شامی کمانڈرز جبہة النصرہ میں شامل ہوگئے۔ ابوبکر البغدادی نے جبہة النصرہ کے رہنما کے قتل کے منصوبے بھی بنائے، لیکن وہ ناکام رہا۔

بغدادی کی موت کے بعد:

بغدادی کی موت کے بعد، داعش کی تنظیم اختلاف اور تقسیم کے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس کے بعد داعش کا مرکزی گروہ کئی حصوں میں بٹ گیا، اور ان گروہوں کے پاس مرکزی اور منظم قیادت نہیں تھی، اور وہ عملی طور پر خود مختار طور پر کام کرتے تھے۔

مذکورہ بالا مواد پڑھنے کے بعد، قاری کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ داعشی انتہا پسند تنظیم کی قیادت کیوں بکھر گئی؟

حقیقی مشروعیت کا فقدان:

داعش کے زوال اور تباہی کی سب سے بڑی وجہ حقیقی مشروعیت کا فقدان تھا۔ داعش لوگوں کی بیعت کی بنیاد پر حکومت نہیں کرتی تھی بلکہ دہشت اور خوف کے زور پر لوگوں پر مسلط تھی۔ اس لیے جب خوف ختم ہوا تو وفاداری بھی ختم ہوگئی۔

بغدادی پر انحصار:

داعشی انتہا پسند تنظیم کا اپنے رہنما بغدادی پر شدید انحصار تھا۔ اس کی موت کے ساتھ ہی یہ تنظیم کمزوری اور شکست سے دوچار ہوئی۔ یہ واضح ہے کہ ایک فرد پر مرکوز قیادت کا ڈھانچہ اس کی موت کے بعد ایک ناقابل تلافی خلا پیدا کرتا ہے، اور یہ داعش کے ساتھ ہوا۔

پائیدار نظریے کی عدم موجودگی اور اقتدار کی ہوس:

جب داعش کے حامیوں اور رہنماؤں کے درمیان "خلافت” الہی ارمان کے بجائے افراد کی اقتدار کی خواہش کا ذریعہ بن گئی، ہر گروہ نے زیادہ حصہ لینے کے لیے لڑائی کی، اور یہی اقتدار کی ہوس انہیں تباہی کے گڑھے میں لے گئی۔ اسی طرح، ایک پائیدار نظریے کی عدم موجودگی نے انہیں موت کے زہریلے پنجوں میں پھنسایا اور جہنم کی طرف دھکیل دیا۔

نتیجہ:

ہمیں ماننا ہوگا کہ داعش کوئی خلافت نہیں تھی بلکہ تشدد اور افراتفری کا ایک گرداب تھی، جس میں اس کے خلیفہ بھی ڈوب گئے۔

Exit mobile version