Site icon المرصاد

داعش؛ ایک بےخلیفہ خلافت! پہلی قسط

خلافت کا خیال؛ داعش نے دنیا کو کیسے دھوکہ دیا؟

2014ء میں دنیا نے ایک ایسی وحشتناک اور نامانوس حقیقت دیکھی جس نے جلد ہی علاقائی اور عالمی ذہنوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک گروہ جو خود کو دولتِ اسلامیہ عراق و شام یا داعش کہتا تھا، حیران کن تیزی سے عراق اور شام کے بڑے حصوں پر قابض ہو گیا اور پوری بے شرمی سے اپنے لیے اسلامی خلافت کا نام اختیار کر لیا۔ لیکن یہ خلافت نہ تو رائے عامہ پر قائم تھی اور نہ ہی اس کی کوئی جائز تاریخی بنیاد تھا۔ یہ ایک زبردست اور خوفناک نظام تھا جو تشدد، قتل، تباہی اور زور زبردستی کے ذریعے ابھرا۔ وہ لوگوں کی بنائی گئی سزائے موت کی ویڈیوز شائع کرتے، تاریخی آثار تباہ کرتے اور اپنے زیرِ تسلط علاقوں کی ظاہری زندگی کو اسلامی نظام کے نام پر پیش کرتے تاکہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنا مکروہ چہرہ چھپائیں۔ لیکن یہ سب صرف ایک خیالی تصویر تھی، ایک جھوٹا خواب جو جلد ہی بے نقاب ہو گیا۔ داعش، جس کے سرغنہ نے، ج ہمیشہ خلافت کے خیالی خواب دیکھتا تھا، پروپیگنڈے اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے تین بڑے دعوے کیے:

۱۔ اسلامی خلافت کی بحالی:

ابوبکر البغدادی نے، جو اس گروہ کا سرغنہ تھا، بے مثال گستاخی سے خود کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا اور کہا کہ واحد جائز اسلامی حکومت داعش ہی ہے۔ اس دعوے کو وہ دین کی متشدد اور مسخ شدہ تشریحات سے جواز فراہم کرتا تھا، حالانکہ امت کے بڑے دینی علماء اسے محض ایک جھوٹا خیال سمجھتے تھے۔

۲۔ شریعت سے منسوب حاکمیت:

داعش نے مخالفین کے قتل، سنگساری اور عورتوں کو غلام بنانے کو اپنے نظام کا حصہ بنایا اور اسے اسلامی شریعت کا نام دیا۔ لیکن یہ وحشیانہ قوانین نہ تو اسلام کے حقیقی مآخذ سے اخذ کیے گئے تھے اور نہ ہی شریعت کے روح کے مطابق تھے، بلکہ یہ دین کے ایک منحرف اور متشدد تشریح سے نکلے تھے۔

۳۔ ناقابلِ شکست طاقت:

جب داعش نے موصل اور رقہ جیسے شہروں پر قبضہ کیا، تو وہ خود کو اس طرح پیش کرتے تھے جیسے وہ ایک ناقابلِ شکست اور مسلسل کامیاب قوت ہیں۔ ان کے میڈیا نے ان کی فتوحات کو پروپیگنڈے کے طور پر پیش کیا اور ناکامیوں کو چھپایا۔

خلافت کا ظاہری ڈھانچہ:

داعش کے مجرموں نے اپنی حیثیت ثابت کرنے کے لیے ایک ظاہری "ریاست نما” ڈھانچہ بنایا:

۱۔ خلافت کونسل: فوجی اور شرعی رہنماؤں پر مشتمل ایک کونسل تھی جو اہم فیصلے کرتی تھی۔
۲: ولایتیں: قبضہ شدہ علاقوں کو "والیوں” کے ماتحت ولایتوں میں تقسیم کیا گیا، جیسے حلب اور نینویٰ کی ولایتیں۔
۳: حکومتی ادارے: انہوں نے بظاہر ادارے بنائے جیسے وزارتِ جنگ، اطلاعات و ثقافت اور شہری خدمات (پانی، بجلی)؛ لیکن یہ خدمات صرف دکھاوے کے لیے تھیں، نہ کہ عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے۔ لیکن یہ سب ایک عارضی اور نمائشی ڈھانچہ تھا، جس کی نہ کوئی جیثیت تھی، نہ معاشی استحکام اور نہ ہی اپنے لوگوں کی وفاداری۔ ان کا زیادہ تر وقت اندرونی مخالفین کو کچلنے میں گزرا، نہ کہ عوام کی خدمت میں۔

ایک سوال جو بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ نظام اندر سے کیوں تباہ ہوا؟

داعش کا زوال صرف بیرونی حملوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس گروہ کے اندرونی تضادات بھی اس کے عوامل تھے:

تشدد پر انحصار:

داعش نے دہشت اور خوف کے ذریعے حکومت کی، لیکن یہ طریقہ صرف عارضی طور پر موثر تھا۔ جب اندرونی مزاحمت بڑھی، تو ان کے سابق حامیوں نے بھی فاصلہ اختیار کر لیا۔

قابل قیادت کا فقدان:

ابوبکر البغدادی کی ہلاکت (2019ء) کے بعد اس کے جانشین رہنما اتحاد قائم نہ رکھ سکے۔ علاقائی اور مرکزی کمانڈروں کے درمیان تنازعات نے ڈھانچے کو کمزور کیا اور خلافت بے خلیفہ رہ گئی۔ اس کے پیروکار اب بھی خیالوں میں گم تھے۔

جنگ سے تباہ شدہ معیشت:

حکومت کے لیے معیشت ایک اہم بنیاد ہے، لیکن داعش، جو خود کو دولت اسلامیہ کہتی تھی، کے پاس کوئی مستحکم معیشت نہ تھی۔ ان کی آمدنی چوری، تیل کی فروخت اور زبردستی سے حاصل ہوتی تھی۔ جب یہ ذرائع مخالفین کی پیش قدمی سے ختم ہوئے، تو وہ بھی ختم ہو گئے۔ پیسوں کے بغیر وفادار جنگجو بھی بے حوصلہ ہو گئے اور رہنما تنہائی اور خوف میں مبتلا ہوئے۔

علاقوں کا نقصان:

داعش نے موصل (2017ء) اور رقہ (2019ء) کی شکست کے ساتھ نہ صرف اپنے جغرافیائی مراکز کھو دیے، بلکہ "ابدی خلافت” کا خیال بھی ختم ہو گیا۔

آخر میں، تاریخ اور تجربے گواہ ہیں کہ داعش کوئی ریاست نہیں تھی، بلکہ ایک نفرت انگیز گروہ اور خوفناک دہشت گرد مشین تھی، جس نے اپنی زندگی دہشت، خوف اور تشدد کے ذریعے برقرار رکھی تھی۔ جب یہ ذرائع ناکام ہوئے، تو خلافت کا وہ خیال بھی ختم ہو گیا۔

Exit mobile version