Site icon المرصاد

داعش؛ خنجر سے فریب تک!

داعش، جو کبھی بھرے بازاروں میں خلافت کا دعویٰ کرتی تھی، شہروں اور علاقوں پر قبضہ رکھتی تھی اور اپنی عسکری قوت کو زور دار انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرتی تھی، آج ایک بدلتی ہوئی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ یہ گروہ، جس کا ابتدائی ظہور عراق اور شام میں ہوا، عسکری شکست کے بعد اب ایک خفیہ اور پھیلتا ہوا نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکا ہے۔

داعش کی موجودہ حکمتِ عملی اب علاقوں پر قبضہ کرنے کی بجائے خوف پھیلانے، عدم استحکام پیدا کرنے اور فکری جنگ کو وسعت دینے پر مرکوز ہے۔ کھلی محاذ آرائی کے بجائے، اب وہ نفوذی حملے، خودکش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور خفیہ اطلاعاتی طریقوں کے ذریعے اپنے مقاصد آگے بڑھا رہی ہے۔ اس تبدیلی نے انہیں ایک طرف پوشیدہ رہنے اور دوسری طرف اپنے اہداف پر بھرپور وار کرنے کی صلاحیت فراہم کی ہے۔

سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی، انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج، مخالف فکر کی کردارکشی اور اپنے نظریاتی اثرات کا پھیلاؤ؛ یہ نیا محاذ ہے جس پر داعش پوری قوت سے سرگرم ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کا مقصد لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کرنا ہے۔

اگرچہ ظاہری طور پر داعش شکست سے دوچار دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئی صورت میں عدمِ تحفظ اور دہشت پھیلانے کے لیے سامنے آتی ہے۔ وہ ریاستوں کے باہمی اختلافات، نسلی و مذہبی کشمکش اور سماجی دباؤ کو اپنے نفوذ، حملوں اور بھرتی کے ذرائع کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

یہ تبدیلی واضح کرتی ہے کہ داعش ختم نہیں ہوئی؛ اس نے بس صورت، اوزار اور حکمتِ عملی بدلی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کے خلاف جدوجہد محض عسکری اقدامات تک محدود نہ ہو بلکہ ایک ہمہ جہت مقابلہ ہو۔ یہ کوشش فکری، ثقافتی، سماجی، انٹیلی جنس اور میڈیا کی جہتوں پر محیط ہونی چاہیے۔

فکری مقابلہ علمائے کرام، اساتذہ اور روشن خیال افراد کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ سوشل میڈیا کی مؤثر نگرانی لازم ہے تاکہ انتہا پسندی کو روکاجائے۔ نوجوانوں کو دینی اور ملی شعور فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس گروہ کا شکار نہ ہوں۔ نیز، علاقائی اور بین الاقوامی ہم آہنگی بے حد اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ داعش محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔

انہی اقدامات کے ذریعے ہم اس گروہ کو فکری، پروپیگنڈا اور انٹیلی جنس سطح پر گھائل کر سکتے ہیں اور اس کے تمام تر منصوبوں کو بنیادی طور پر ناکارہ بنا سکتے ہیں۔

Exit mobile version