خوارج؛ امت کے وجود میں پھوٹ کا اولین سبب:
اسلام کے ابتدائی دور میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد، جب مسلم معاشرہ ابھی تشکیل کے مراحل میں تھا، ایک ایسی حیرت انگیز اور فکر انگیز واقعہ رونما ہوا جس کے اثرات آج تک باقی ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے گروہ کے ظہور کا تھا جو بعد میں ’’خوارج‘‘ کے نام سے جانا گیا۔ اس گروہ کی داستان یہ بتاتی ہے کہ کس طرح دین کی مختلف تعبیرات اور تفسیریں باہمی ٹکراؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔
اس واقعے کی جڑیں جنگِ صفین میں ملتی ہیں؛ جب دو بڑے اسلامی لشکر آمنے سامنے ہوئے۔ خونریزی کو روکنے کے لیے تحکیم (ثالثی) کی تجویز پیش ہوئی، مگر ایک فریق نے یہ کہتے ہوئے اسے رد کردیا کہ: ’’فیصلہ صرف اللہ کا ہے‘‘ یہی گروہ جلد ہی اصل لشکر سے الگ ہوگیا اور اس نظریے پر قائم رہا کہ صرف وہی حق پر ہیں اور باقی سب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
اس گروہ کی فکری بنیادیں تین ستونوں پر کھڑی تھیں:
۱۔ ہر گناہگار کو کافر قرار دینا۔
۲۔ ہر اُس حکمران کے خلاف بغاوت کو حق سمجھنا جو ان کے خیال میں راہِ حق سے منحرف ہو۔
۳۔ دین کو سطحی نظر سے دیکھنا اور قرآنی و اسلامی مفاہیم کی گہرائی میں جانے کے بجائے صرف ظاہری آیات و روایات پر اکتفا کرنا۔
یہ رویہ ایک خطرناک فکری بنیاد ثابت ہوا جس کے اثرات تاریخ کے ہر دور میں محسوس کیے گئے۔ انہوں نے صرف خود کو سچا مسلمان قرار دیا اور دوسروں کو کافر کہہ کر الگ تھلگ کیا، نتیجتاً تشدد اور خانہ جنگی کو راستہ ملا۔ یہی رویہ بعد میں آنے والے کئی انتہا پسند گروہوں کے لیے ایک نمونہ بن گیا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ابتدا میں خوارج عبادت گزار اور زاہد سمجھے جاتے تھے، مگر دین کی صحیح سمجھ نہ ہونے اور عقل و تدبر کے بجائے خشک مذہبی جذبات کے غلبے نے انہیں انتہا پسندی اور تشدد کی کھائی میں دھکیل دیا۔ یہ المیہ دراصل تمام مذہبی معاشروں کے لیے ایک دائمی انتباہ ہے کہ مذہب کی محض ظاہری شکل و صورت بعض اوقات غلط فہمی اور تعصب کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔
اسلامی تاریخ کے اس باب سے واقفیت دراصل آج کے حالات کو بہتر انداز سے سمجھنے کی کنجی ہے۔ خوارج نے جن افکار پر عمل کیا، وہ اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ دین کی سطحی تعبیر کس طرح دوسروں کی تکفیر اور تشدد کو جواز فراہم کر سکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کی پہچان موجودہ انتہا پسند گروہوں کے تجزیے میں نہایت کارآمد ہے، کیونکہ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ نظریہ کوئی نیا نہیں بلکہ گہری تاریخی جڑیں رکھتا ہے۔
خوارج کے طرزِ عمل پر غور کرنے سے ایک نہایت نازک مگر اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ یہ گروہ، باوجود اس کے کہ دینی احکام کی پاسداری کا دعویٰ کرتا تھا، عملاً اسلامی معاشرے میں تفرقہ اور تقسیم پیدا کرتا رہا۔ وہ دینی متون کو ایک سخت گیر اور غیر لچکدار انداز سے پڑھتے، سمجھتے اور اپنے نظریات کے مقابل کسی بھی اختلاف کو برداشت نہ کرتے۔ مخالفین کو فوراً معاشرے سے خارج کر دینا او امن وامان کے بجائے خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا ان کا معمول بن گیا تھا، جس کا نتیجہ معاشرتی یکجہتی کی کمزوری کی صورت میں نکلا۔
ایک اور قابلِ ذکر پہلو خوارج کے بڑے بڑے دعوؤں اور ان کے عملی رویوں کے درمیان نمایاں تضاد تھا۔ وہ اپنے آپ کو عدل و حقیقت کے علَم بردار قرار دیتے تھے، لیکن عمل کے میدان میں انہی نے تشدد اور ظلم کے ذریعے دوسروں کے بنیادی حقوق پامال کیے۔
یہ دو رُخا طرزِ عمل ہمیں فکری و اخلاقی بحران کی گہرائی دکھاتا ہے۔ خوارج کا تاریخی تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کس طرح دینداری کے دعوے بعض اوقات تشدد اور ناانصافی کے جواز کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جسے آج اور آنے والی نسلوں کے لیے سیکھنا نہایت ضروری ہے۔

