فرقے اور اندرونی تفرقے:
خوارج کی تاریخ اُن اندرونی تبدیلیوں اور پیچیدہ ارتقائی مراحل کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے بتدریج اس تحریک کو متعدد شاخوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ تقسیمات محض فکری اختلافات کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ اُس دور کی اسلامی معاشرت میں موجود سماجی و سیاسی بحرانوں کا عکس بھی تھیں۔ خوارج کی نمایاں شاخوں میں ازارقہ، نجدات، صفریہ اور اباضیہ شامل تھیں، جن میں سے ہر ایک نے خوارجی اصولوں کی تعبیر میں اپنی مخصوص راہ اختیار کی۔
ازارقہ، نافع بن ازرق کی قیادت میں، خوارج کا سب سے سخت گیر گروہ تھا۔ یہ لوگ تکفیر کے نظریے میں انتہائی انتہاپسند تھے؛ نہ صرف اپنے مخالفین بلکہ اُن تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے تھے جو ان کے عقیدے سے متفق نہ ہوں۔ یہ گروہ مخالفین کی عورتوں اور بچوں کے قتل کو بھی جائز سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مقبول عمل قرار دیتا تھا۔
ازارقہ کی طاقت کا مرکز اھواز کا علاقہ تھا، جہاں سے وہ اردگرد کے علاقوں پر حملے کیا کرتے۔ اُن کا عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی نہایت سخت تھا، ان کے نزدیک دیگر تمام اسلامی فرقوں کے پیروکار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔
نجدات نے نجده بن عامر کی قیادت میں نسبتاً معتدل رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے ازارقہ کے بعض انتہا پسندانہ اعمال کو مسترد کیا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو ناجائز قرار دیا۔ آخرت کے معاملے میں بھی ان کا نظریہ نرم تھا؛ ان کے نزدیک وہ مسلمان جو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ ایک مدت کے بعد اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔ یہ گروہ یمامہ کے علاقے میں آباد تھا، جہاں اس نے ایک مختصر مدت کے لیے ایک چھوٹی سی علاقائی حکومت قائم کی جو کسی حد تک مستحکم رہی۔
صفریہ، جو خوارج کی اہم شاخوں میں سے تھی، ازارقہ اور نجدات کے درمیان ایک درمیانی موقف رکھتی تھی۔ وہ بچوں کے قتل کو ناجائز سمجھتے تھے، لیکن مخصوص حالات میں مخالف خواتین کے قتل کو روا قرار دیتے تھے۔ صفریہ کا اثر و رسوخ مشرقی اسلامی علاقوں مثلاً سیستان اور کرمان میں زیادہ تھا، اور طویل عرصے تک وہ ایک سیاسی و عسکری قوت کے طور پر سرگرم رہی۔ یہ گروہ کچھ علاقوں میں نسبتا مستحکم مقامی حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔
اباضیہ، جو عبداللہ بن اباض کی قیادت میں خوارج کی سب سے معتدل شاخ تھی، آج تک موجود ہے۔ وہ دیگر مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے تھے بلکہ صرف ظالم حکمرانوں کی سیاسی مخالفت کرتے تھے۔ موجودہ دور میں اباضیہ کے پیروکار عمان، شمالی افریقہ اور زنجبار میں پائے جاتے ہیں، اور انہیں معتدل مزاج مسلمان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس فرقے نے اپنے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے وقت کے تغیرات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ اندرونی تقسیمات واضح کرتی ہیں کہ کس طرح ایک تحریک بتدریج مختلف شاخوں میں بٹ گئی، اور ہر شاخ نے اپنے بنیادی اصولوں کی اپنی تعبیر پیش کی۔ ان فرقوں کا مطالعہ خوارج کی فکری تحریک کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک نظریہ وقت کے ساتھ کیسے بدلتا اور مختلف صورتیں اختیار کرتا ہے۔ یہ تبدیلیاں اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ بظاہر یکساں نظر آنے والی تحریک میں بھی آراء اور تعبیرات کا تنوع پایا جاتا ہے۔

