Site icon المرصاد

داعش؛ خوارج کی دوبارہ واپسی! چوتھی قسط

اہم واقعات اور جنگیں

اسلامی تاریخ میں خوارج کا ظہور کئی بدقسمت واقعات سے جڑا ہوا ہے، جنہوں نے آنے والے حالات پر گہرا اثر ڈالا۔ ان واقعات میں سب سے اہم اور ابتدائی ۳۷ ہجری کا معرکہ صفین تھا، جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکروں کے درمیان لڑا گیا۔ جب جنگ رکی تو قرآن عظیم الشان کو نیزوں پر بلند کرکے دونوں فریقوں کے درمیان فیصلہ کروانے کی تجویز پیش کی گئی۔ اگرچہ یہ اقدام خونریزی کو روکنے کے لیے تھا، لیکن ایک گروہ کے جنگجوؤں کے لیے یہ اعتراض کی ایک وجہ بن گیا، جو بعد میں خوارج کے نام سے مشہور ہوئے۔

یہ گروہ، جو ابتدا میں حروریہ کہلاتا تھا، حرورہ کے علاقے میں جمع ہوا اور حکمیت کے معاملے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے "لا حکم إلا للہ” کے نعرے تلے ہر قسم کے انسانی فیصلے کو مسترد کیا اور یقین رکھتے تھے کہ صرف اللہ جل جلالہ اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ سوچ، جو مذہبی نصوص کی سطحی تشریح کا نتیجہ تھی، آہستہ آہستہ اس گروہ کی خودمختار شناخت بننے کا باعث بنی۔

ایک اور فیصلہ کن واقعہ معرکہ نہروان تھا، جو ۳۸ ہجری میں پیش آیا۔ خوارج، جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، مختلف علاقوں پر حملے کرتے اور عام مسلمانوں کو تنگ کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے، خود کو اسلام کا واحد سچا نمائندہ سمجھتے اور کوئی مخالفت برداشت نہ کرتے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو عوامی سلامتی کے تحفظ اور خونریزی روکنے کے لیے ان کے خلاف جنگ لڑنی پڑی۔ اگرچہ نہروان کی جنگ خوارج کی فوجی شکست کا باعث بنی، لیکن ان کے نظریات مکمل طور پر ختم نہ ہوئے۔ باقی ماندہ افراد مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور اپنے افکار کو جاری رکھا۔

ان جنگوں کا ایک اہم نتیجہ تکفیر کے نظریے کی مضبوطی تھی۔ نہروان کے بعد خوارج نے شدت پسندی اور تشدد پر مزید زور دیا اور حتیٰ کہ مشہور اسلامی شخصیات کے قتل کی کوشش کی۔ عبدالرحمن بن ملجم کے ہاتھوں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت اس تشدد کا آخری نتیجہ تھی۔

یہ واقعات دکھاتے ہیں کہ ایک ابتدائی اختلاف آہستہ آہستہ ایک بڑے بحران میں کیسے بدل جاتا ہے۔ خوارج، جو ابتدا میں ایک چھوٹا سا باغی گروہ تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ایک ایسی تحریک میں تبدیل ہو گیا جس نے اسلامی معاشرے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ ان واقعات کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ معاصر دور میں اس طرح کے واقعات سے کیسے نمٹنا چاہیے اور تاریخی غلطیوں کے دوہراؤ کو کیسے روکنا چاہیے۔

نہروان کی جنگ کے بعد، خوارج ایک زیرزمین تحریک کی شکل میں باقی رہے۔ انہوں نے دور دراز اور سرحدی علاقوں جیسے کہ اھواز، کرمان اور سیستان میں اڈے بنائے اور اپنے حملوں کو جاری رکھا۔ اس جغرافیائی پھیلاؤ کی وجہ سے خوارج کی مختلف شاخیں جیسے ازرقہ، نجدات اور صفریہ سامنے آئیں۔ اگرچہ ان کے نظریات اور جدوجہد میں کچھ فرق تھا، لیکن سب خوارج کے بنیادی اصولوں سے وفادار رہے۔

تاریخ کے دوران خوارج نے کئی بار مرکزی حکومتوں کے خلاف بغاوت کی۔ ان کی مشہور بغاوتوں میں بصرہ میں ابو بلال مرداس بن ادیہ اور اھواز میں نافع بن ازرق کے بغاوت شامل ہیں۔ اگرچہ یہ بغاوتیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئیں، لیکن اس سے یہ ظاہر ہوا کہ خوارج کا "خارجیت” کا نظریہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کی لڑائی زیادہ تر شہروں پر اچانک حملوں پر مبنی تھی، نہ کہ منظم جنگ کے طریقوں پر۔

خوارج کا فکری ورثہ اسلامی دنیا میں برقرار رہا۔ مذہبی سادگی، مخالفین کی تکفیر اور حاکموں کے خلاف بغاوت کی تین خصوصیات ابتدائی خوارج سے بعد کی نسلوں تک منتقل ہوئیں۔ یہ خصوصیات معاصر دور میں شدت پسند گروہوں کے افکار میں بھی نظر آتی ہیں، جو دکھاتی ہیں کہ ایک نظریہ تاریخ کے دوران کس طرح دوبارہ جنم لے سکتا ہے اور نئی شکلوں میں ظاہر ہو سکتا ہے۔

Exit mobile version