Site icon المرصاد

داعش؛ موجودہ زمانے کا ایک وحشتناک مظہر!

تاریخ کے ہر دور میں جب بھی معاشرہ نفرت اور دشمنی کے سائے تلے آتا ہے، ایسے رجحانات ابھرتے ہیں جو اس بھیانک سائے کو محبت، شفقت اور باہمی قبولیت میں بدل دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی نفرت اور دہشتگردی کے رجحانات نے سر اٹھایا ہے، جو مختلف ناموں اور حمایتیوں کے لبادے میں ظاہر ہوئے اور آج کل داعش کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

آج ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں، وہ ٹیکنالوجی اور ترقی کی حدوں تک پہنچ چکی ہے، جہاں ہر فرد ایک دوسرے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مگر اسی دنیا میں، جو ترقی کی بلندیوں پر ہے، ایسے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جو صرف نفرت اور حقارت کی بنیاد پر قائم ہیں۔

جب دنیا برداشت، افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی طرف گامزن تھی، داعش نے بے تحاشا قتل و غارت اور خوفناک اضطراب پھیلاکر دنیا کو ایک طرح سے غیر محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔ وہ نفرت اور عداوت جو داعش نے جہادی اور مزاحمتی تحریکوں بلکہ عام مسلمانوں کے خلاف پیدا کی، تاریخ میں اپنی مثال رکھتی ہے۔

اس گروہ کے فکر و نظر میں ایک دوسرے کو قبول کرنا، مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنا اور بات چیت و سفارت کاری کے ذریعے مشکلات حل کرنا بالکل نہیں ہے۔ ان کے تصور میں صرف دہشت گردی اور تباہی کو اولین ترجیح حاصل ہے اور ان کے منتخب کردہ رویے سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ جہاں انہیں چند روز کے لیے حکمرانی اور اقتدار دیا گیا، وہاں انہوں نے اپنے پیچھے خوف، قتل و غارت اور تشدد کے آثار چھوڑے۔

اسی طرح انہوں نے خطے میں دہشت گردی کا ماحول پیدا کیا اور اپنے اقدامات سے جہادی تحریکوں اور مزاحمتی گروہوں کے بارے میں لوگوں کے خیالات کو بدل کر رکھ دیا۔ اس کے علاوہ، جو وحشت انہوں نے اپنے عمل سے پیدا کی اور جو نفرت ان کے ذہن میں دینِ اسلام کی اقدار اور اصولوں کے خلاف تھی، وہ سب کچھ انہوں نے ان دشمنانِ اسلام کی خدمت میں کیا جو دین کی روشنی کو مٹانا چاہتے تھے۔

داعش نے اپنے ایسے اعمال اور رویوں سے جو کہیں بھی کسی طرح کا جواز یا دلیل سے عاری تھے، لوگوں کو مذہبی روایات اور حکمت عملیوں سے دور کر دیا۔ جن علاقوں پر ان کی مختصر حکمرانی رہی، وہاں انہوں نے اپنے تعامل سے دہشت گردی اور تشدد کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا؛ ایسا وحشت ناک منظرنامہ قائم کیا کہ لوگ انہیں کبھی بھی بھلائی کے ساتھ یاد نہیں کریں گے۔

جہاں جہاں بھی اس بدنام گروہ نے قدم رکھا، وہاں کے رہائشیوں کے دلوں میں دہشت اور خوف کی فضا قائم کردی۔ وہ خوف کے ذریعے عارضی طور پر اپنی حکومت قائم رکھے رہے، مگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی کہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ کبھی بھی ظلم کی حکمرانی کو لمبی عمر نہیں دیتا اور نہ دے گا۔

دنیا کی تاریخ میں ہم نے مختلف حکومتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظلم پر قائم حکومتوں کو کبھی مستقل اقتدار نہیں بخشے گا اور ان کے لیے سخت انجام مقرر فرمایا ہے۔ یہ قانون نہ صرف غیر اسلامی ممالک میں بلکہ اسلامی دنیا میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ زمین کی حکمرانی ان ظالم نظاموں سے چھین لے گا اور ان کا انجام ذلت اور تباہی ہی ہوگا۔

Exit mobile version