Site icon المرصاد

داعش؛ یا پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ

اُس وقت کی بات ہے جب میں ابھی اسکول کا طالبِ علم تھا کہ عراق اور شام میں داعش نامی گروہ بہت تیزی سے پیش قدمی کر رہا تھا۔ چونکہ اس کا دعویٰ امت مسلمہ کی سطح کا تھا، اس لیے اسے بہت سے حامی بھی مل گئے، مگر ابھی ایک ہفتہ بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ سی آئی اے کا یہ شیطانی چہرہ بے نقاب ہو گیا اور اس کی داعشیت (تیزی) برقرار نہ رہ سکی۔ ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ افغانستان کے مشرقی صوبوں میں اس نے اپنی وحشت کا آغاز کر دیا اور ایسے ظلم ڈھائے کہ جن کی مثال نہ ہم نے اپنی زندگی میں دیکھی تھی اور نہ سنی تھی۔

البتہ میرے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہتا تھا کہ ہمارے (افغانستان کے) ہمسایہ ممالک تو ہم سے زیادہ مسلمان نہیں ہیں، پھر یہ داعش، جو خود کو سب سے بہتر مسلمان اور خلافت کا دعوے دار سمجھتی ہے، وہاں اپنے اسی رویّے کا اظہار کیوں نہیں کرتی؟

مگر اُس وقت امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے انہیں ایسا کچلا کہ چند ہی برسوں میں ان کے آقاؤں نے بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ لیا۔ جب افغانستان میں امارت اسلامیہ کا نظام قائم ہوا تو داعش کا ظلم پھر کبھی کبھار دوبارہ ظاہر ہوا، لیکن انہیں بہت جلد جڑ سے ختم کر دیا گیا۔

جب پاکستانی فوجی رجیم کا داعشی سکہ نہیں چل سکا تو اس نے افغان مہاجرین کی بے دخلی اور راستوں کی بندش کا راستہ اختیار کیا۔ اس پر بھی بات نہ بنی تو افغان حکومت پر داعش کو پالنے کے الزامات لگائے۔ پھر بھی الو سیدھا نہ ہوا تو براہِ راست کابل میں مظلوم نشے کے عادی مریضوں کو شہید کر دیا اور فرضی لکیر کے اطراف بھی مظالم ڈھائے۔

اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے ہی گھر میں داعش کے نام پر یا داعش کے پردے میں عام مسلمانوں، علماء، مدارس، مساجد اور کالجوں کے طلبہ کو قتل اور شہید کیا گیا۔ اس کی واضح مثال چند روز قبل شیخ ادریس صاحب کی شہادت ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے ایسے الفاظ میں قبول کی کہ اس کا رخ افغانستان کی جانب موڑا جا سکے۔

مختصراً یہ کہ افغانستان، ایران اور روس میں حملے، چین اور تاجکستان کی سرحدوں پر دہشت گردانہ کارروائیاں، پھر افغانستان میں داعش کے کچلے جانے کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی براہِ راست مداخلت، وقتاً فوقتاً پاکستان میں داعشی مراکز، داعشی عناصر اور ان کے معاونین کا ایسے مقامات پر نشانہ بننا اور ختم کیا جانا جو پاکستانی فوجی رجیم اور آئی ایس آئی کی آنکھوں کے سامنے ہیں، یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ داعش کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پال رہی ہے، اسے مراکز فراہم کر رہی ہے، اہداف دے رہی ہے اور ان اہداف تک پہنچنے میں ہر قسم کا تعاون ر رہی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال اورکزئی میں داعشی گروہ کے درمیانی درجے کے ذمہ دار محمد اقبال کا مارا جانا ہے۔

Exit mobile version