Site icon المرصاد

داعشي خوارج: اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار! بیسویں قسط

اسلامی ممالک کی قدرتی دولت کے لوٹ مار کے لیے زمین ہموار کرنا:

خوارج کی منحوس جماعت داعش کا ظہور کچھ مسلم ممالک جیسے عراق، شام اور شمالی افریقہ کے علاقوں میں ہوا۔ اگرچہ یہ ظاہری طور پر اسلامی خلافت کے قیام اور مسلمانوں کے دفاع کے دلفریب نعرے کے تحت ابھری، لیکن حقیقت میں اس نے مغربی طاقتوں کے لیے ایسی زمین ہموار کی کہ وہ ان ممالک میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کر سکیں۔

یہ مداخلتیں، جو داعش کے خلاف جنگ اور اس جماعت کے خاتمے کے جھوٹے نعرے کے تحت کی گئیں، اصل میں اسلامی ممالک کی قومی اور قدرتی دولت کو لوٹنے کا ذریعہ بن گئیں۔ یعنی داعش نے مغرب کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر کام کیا تاکہ امت مسلمہ کی دولت کو غصب کرنے اور لوٹ مار کے راستے ہموار کیے جا سکیں۔

داعش کے ظہور کے بعد، امریکہ اور درجنوں مغربی ممالک اور ان کے اتحادیوں نے تیزی سے اپنے فوجی، سکیورٹی کمپنیاں اور اقتصادی ٹھیکیدار شام، عراق اور لیبیا کی سرزمین پر بھیجے۔ اگرچہ ان کی وہاں موجودگی کی وجہ داعش کے خلاف جنگ بتائی گئی، لیکن جلد ہی سب پر واضح ہو گیا کہ یہ افواج زیادہ تر داعش سے لڑنے میں مصروف نہیں تھیں، بلکہ علاقے کے تیل، فاسفیٹ، گیس اور دیگر ذخائر پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھیں۔

شام میں، جب عوام شدید بھوک، غربت اور تباہی کا شکار تھے اور ان کی زندگی کا معیار دن بہ دن گر رہا تھا، امریکی افواج، جو داعش کے خلاف جنگ کے نام پر وہاں آئی تھیں، ملک کے مشرق کی طرف گئیں اور دیرالزور اور حسکہ کے متعدد تیل کے کنوؤں پر قبضہ کر لیا، اور مغربی کمپنیوں کے فائدے کے لیے تیل کی نکاسی شروع کر دی۔

اسی دوران شام کے حکام نے بارہا اعلان کیا کہ امریکہ ہر روز 66 ہزار بیرل سے زائد تیل شام سے اسمگل کرتا ہے، جو شامی حکومت کے مطابق ملک کو ہر سال 19 ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان پہنچاتا ہے۔ عراق میں بھی داعش کے خاتمے کے نام پر کرکوک، موصل اور بصرہ کے تیل کے علاقے بالواسطہ طور پر مغربی کمپنیوں کے کنٹرول میں آ گئے۔

اس عرصے میں ایگزون موبل (ExxonMobil) اور بی پی (BP) جیسی امریکی اور برطانوی کمپنیوں نے تیل کی نکاسی کے طویل مدتی معاہدے حاصل کیے، جبکہ عراق کے مظلوم عوام کا ان دولت سے حصہ بہت کم اور نہ ہونے کے برابر رہا۔ اس کے علاوہ، جن علاقوں کو داعش سے آزاد کرایا گیا، وہاں کی بحالی، فاسفیٹ اور دھاتی معدنیات کی نکاسی کے معاہدے بھی مغربی کمپنیوں کو سونپے گئے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس نے عراق کی معیشت کو آج تک محکوم، کمزور اور محتاج رکھا ہے۔

لیبیا میں، قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد اور داعش کے اچانک اور مشکوک ظہور کے ساتھ ہی، فرانس، اٹلی اور امریکہ کے لیے فوجی مداخلت کی زمین ہموار ہوئی۔ یہ ممالک نہ صرف لیبیا کے تیل کے ذخائر پر قابض ہوئے، بلکہ اس ملک کے جنوبی علاقوں کے سونے اور تاریخی آثار کی چوری کے عمل میں بھی ملوث ہوئے۔ اس سلسلے میں رپورٹس شائع ہوئیں کہ لیبیا کے قدیم آثار کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ یورپ کی طرف کی گئی، اور یہ سب اس بہانے کے تحت کہ داعش کی مالی امداد کو روکا جائے۔

ان خوارج کے ظہور کے بعد، اسلامی ممالک میں جو کچھ باقی بچا، وہ تباہ حالی، برباد معیشتیں اور لٹی ہوئی دولت تھی۔ اس دوران اسلام کے دشمنوں نے اس خودساختہ بحران کے ذریعے تیل، گیس، سونا، فاسفیٹ اور ثقافتی آثار کی صورت میں اربوں ڈالر لوٹے۔

یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ داعش مغرب کے لیے ایک عظیم استعماری منصوبے کا اہم اور کلیدی ہتھیار تھی۔ یہ ایک ایسا آلہ کار تھی جس نے اسلامی ممالک کی طویل مدتی لوٹ مار کے دروازے کھول دیے۔

Exit mobile version