دینی مراکز اور علماء کے وقار کی تباہی
جب سے اسلام کا سنہری سورج طلوع ہوا، دینی مدارس اور علمائے دین نے امت مسلمہ کی شناخت کے تحفظ، اسلامی علوم کی ترسیل، فکری حملوں سے مقابلہ اور اسلامی معاشروں کی رہنمائی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یہ امت کے وہ ثقافتی اور عقیدوی ستون ہیں جو معاشرے سے ابھرے اور لوگوں کو قرآن، سنت، اخلاق اور فقہ سے روشناس کراتے رہے۔
لیکن حالیہ برسوں میں، امت کا یہ عظیم سرمایہ شدید حملوں کی زد میں آیا، براہ راست بیرونی دشمنوں کی طرف سے نہیں، بلکہ امت کے اندر سے داعش کے نام سے ایک مہلک ہتھیار کے ذریعے۔
داعشی خوارج نے دینی جذبات، جہادی ادبیات اور مقدس اسلامی تصورات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو "اسلام کا نمائندہ” ظاہر کیا اور جھوٹی خلافت کے اعلان، شریعت کے نفاذ کے نعرے اور نبوی سنتوں کے بارے میں دعووں کے ذریعے خود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ کا تسلسل دکھانے کی کوشش کی؛ وہ راہ جو اسلام کی روح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت سے کسی بھی طرح مشابہت یا ہم آہنگی نہیں رکھتی تھی۔
بلا شبہ داعش کے اس بدترین رجحان کا ایک بڑا نقصان یہ تھا کہ دینی علوم کے کچھ طلبہ، خصوصاً ناسمجھ نوجوان، ان کے نعروں کے دھوکے میں آگئے۔ سادہ لوح نوجوان جہاد، ہجرت، دین کی نصرت اور خلافت کے دفاع کے ناموں پر داعش کی صفوں میں شامل ہوگئے، بغیر اس کے کہ وہ ان تصورات کی گہرائی یا اس زہریلے دھارے کی حقیقت کو سمجھیں۔
اسی وجہ سے دشمنانِ اسلام نے اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور قوی میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے دینی مدارس کو خوارج کے تربیتی مراکز کے طور پر پیش کیا۔ اس رجحان نے دینی مدارس کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا اور بہت سے مسلمانوں کو ان انسان ساز مراکز کے بارے میں بدگمان کر دیا۔
اس واقعے کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوئے، جن میں سے کچھ اہم کا مختصر ذکر یہاں کیا جاتا ہے:
– کچھ اسلامی معاشروں میں دینی طلبہ اور مدارس پر عمومی بدگمانی بڑھی، خصوصاً ان نوجوانوں میں جو نئے نئے علم کی راہ پر گامزن تھے۔ بہت سے لوگوں نے امت کے مستقبل کے معماروں کو مختلف نظر سے دیکھنا شروع کیا۔
– یہ واقعہ اس بات کا باعث بنا کہ جن لوگوں کو اسلام اور اس سے متعلقہ امور سے گہری نفرت اور دشمنی تھی، انہوں نے دینی مدارس کے کاموں پر کنٹرول اور پابندیوں کا مطالبہ کیا اور ان اہم مراکز کے خلاف زبانیں دراز کرنے لگے۔
– دینی مدارس کو داعش سے جوڑنے سے لوگوں، علماء اور دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان گہرا اختلاف اور تقسیم پیدا ہوئی، جو کہ خود معاشرے کے روحانی پہلو کے لیے ایک مہلک ضرب تھی۔
– اس دوران بہت سے نوجوانوں نے دینی مدارس کی بدنامی کی وجہ سے سیکولرزم کے باطل نظریے کی طرف رجوع کیا اور ایک طرح سے اسلامی شعائر سے دور ہوگئے۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دشمنانِ اسلام نے داعش کے غیر اسلامی اقدامات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف عسکری اور سیاسی میدان میں امت مسلمہ کو نقصان پہنچایا، بلکہ ثقافتی اور نفسیاتی سطح پر علماء اور دینی مدارس پر لوگوں کے اعتماد کو نشانہ بنایا۔

