Site icon المرصاد

داعشی اپنی قیدی بیویوں کو کاروبار کا ذریعہ بنا رہے ہیں

جب 2019ء میں باغوز کی لڑائی میں داعشی خوارج کو شکست ہوئی اور انہوں نے اپنی بیویوں کو ملحد کردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، تو کردوں نے ’’الہول‘‘ اور ’’روج‘‘ کے نام سے کیمپ قائم کیے۔ ان کیمپوں میں آج تک ہزاروں داعشی عورتیں اور ان کے کم سن بچے قید ہیں۔

الہول، روج اور دیگر کیمپ داعشیوں کے ماتھے پر سیاہ داغ ہیں، جسے وہ مٹانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ داعشیوں نے انہی کیمپوں کو چندہ بٹورنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور درجنوں کھاتے فعال کیے ہیں، جن کے ذریعے ’’قیدی بہنوں‘‘ کے نام پر لوگوں سے رقوم ہتھیا لیتے ہیں۔

الہول کے نام پر چندہ بٹورنے کی یہ ڈرامہ بازی اتنی رسوا ہوچکی ہے کہ اب خود داعشی ایک دوسرے کو بے نقاب کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چندہ صرف وہی نہیں بلکہ دوسرے داعشی بھی اپنے ذاتی مقاصد میں خرچ کر رہے ہیں۔

بغدادی اور ہاشمی کے غلاموں کو رسوا کرنے والا چینل کے نام سے ایک میڈیا پلیٹ فارم، جو خوارج کے خلاف سرگرم ہے، نے اپنے اکاؤنٹس پر ایک ٹیلیگرام پوسٹ شائع کی۔ یہ پوسٹ داعشیوں کے اس چینل سے منسوب ہے جو ’’ ولایتِ شام‘‘ میں کیمپوں کی انتظامیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پوسٹ میں کچھ داعشیوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ الہول اور روج کیمپوں کے نام پر رقوم جمع کرتے ہیں مگر انہیں قیدیوں تک نہیں پہنچاتے۔

اسی پوسٹ میں ایک داعشی، احمد رأس العین نامی شخص پر خاص طور پر الزام لگایا گیا کہ وہ انہی کیمپوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرتا ہے مگر قیدیوں تک نہیں پہنچاتا۔

اس سے قبل بھی خوارج کے درمیان مالی امداد کے حصول اور تقسیم پر جھگڑے منظر عام پر آچکے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ خوارج ہر ممکن طریقے سے چاہے اپنی قیدی خواتین کے نام پر ہو یا جہاد کے مقدس عنوان سے؛ مسلمانوں سے رقوم بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر انہی رقوم کو اس عنوان کی بدنامی میں استعمال کرتے ہیں جس کے تحت وہ جمع کی گئی ہوتی ہیں۔

Exit mobile version