خوارج؛ تاریخی پس منظر اور تکفیری فکر
اسلامی تاریخ کے آغاز میں ہی جب نیا اسلامی معاشرہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنے نئے تشخص کی تشکیل میں مصروف تھا، ایک ایسا گروہ ابھرا جس نے اسلامی تاریخ پر گہرا اور منفی اثر ڈالا۔ خوارج، جن کا نام اُس وقت کے خلیفہ اور حکمران کے سامنے ’’خروج‘‘ کرنے کے فعل سے ماخوذ ہے، وہ پہلا گروہ تھا جس نے مسلمانوں کے درمیان تکفیر کا اصول متعارف کروایا اور دین کے نام پر تشدد کو جواز فراہم کیا۔
ان کے ظہور کی کہانی جنگ صفین سے منسلک ہے، جہاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے لشکر سے ایک گروہ حکمیت کو قبول کرنے کی مخالفت میں الگ ہو گیا اور ’’لا حکم الا لله‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ یہ نعرہ بظاہر پاکیزہ نظر آتا تھا، لیکن باطن میں یہ فکری سخت گیرانہ رویے اور حکمرانی میں کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی کو رد کرنے کی نشانی تھی۔
خوارج، مذہبی متون کی لفظی اور نری ظاہری تفسیر کے ذریعے، صرف خود کو ہی حقیقی مسلمان سمجھتے تھے اور جو کوئی ان کے عقیدے سے متفق نہ ہوتا، اسے کافر اور موت کا مستحق قرار دیتے۔ حتی کہ انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بھی، جو مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ راشد اور صحابہ کرام کے بزرگ اور تمام اسلامی مکاتب فکر کے قابل احترام شخصیت تھے، تکفیر کا نشانہ بنایا اور بالآخر اسی گروہ کے ایک فرد کے ہاتھوں انہیں شہید کیا گیا۔
یہ المیہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم مرحلہ تھا اور اس نے واضح کیا کہ دین کی افراطی تفسیر کس طرح امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ خوارج کی فکری خصوصیات کو چند بنیادی نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:
۱: یہ عقیدہ کہ جو مسلمان گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کرے، وہ کافر ہے۔ یہ نظریہ، جو اسلام کے بنیادی تعلیمات کے برخلاف تھا، مسلمانوں کے وسیع پیمانے پر تکفیر کا راستہ ہموار کرنے کا سبب بنا۔
۲: ہر اُس حکومت کی مشروعیت کو رد کرنا جو ان کے نزدیک الہی قوانین کے مطابق نہ چل رہی ہو، چاہے وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اس رویے نے ایک قسم کی مذہبی افراتفری کو جنم دیا، جس میں ہر چھوٹا گروہ خود کو قیام کا حقدار سمجھنے لگا۔
۳: اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی تشدد کا استعمال۔ خوارج کے تشدد کی زد ان کے مزعومہ دشمنوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ، خواتین اور بچے بھی نہ بچ سکے۔
لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ابتدائی خوارج اور موجودہ تکفیری گروہوں جیسے داعش میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں نے مذہبی متون کی تشریح میں سطحی اور غیر محتاط رویہ اختیار کیا، دونوں نے خود کو اسلام کا واحد حقیقی نمائندے سمجھا اور باقی سب کو کافر قرار دیا، دونوں نے تشدد کو نہ صرف جائز بلکہ مقدس سمجھا اور اسے اپنے نظریات کے نفاذ کے لیے ایک ذریعہ قرار دیا۔ نتیجتاً، دونوں نے پورے عالمِ اسلام کو شدید نقصان پہنچایا۔
خوارج کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ وحشت ہمیشہ مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوئی ہے۔ آج کے دن داعش اور اسی طرز کی دیگر گروہ اسی تاریخی غلط نظریے کے فکری وارث ہیں۔ اس تاریخی پس منظر کو سمجھنا ہمیں آج کے تشدد کی فکری جڑوں کو بہتر طریقے سے سمجھنے اور اس مسئلے سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ یہ مقابلہ صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی جنگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاکہ ان کی فکری بنیادوں کو کمزور کیا جا سکے۔

