معاصر تکفیری تحریکوں میں خارجی فکر کا پیدا ہونا:
اسلامی تاریخ میں منحرف نظریات ہمیشہ نئے روپ اور جدید وسائل کے ذریعے ازسرِ نو زندہ ہوتے رہے ہیں۔ معاصر تکفیری تحریکیں، مثلاً داعش، اسلام کے ابتدائی دور کے خوارج کی فکری وارث ہیں جنہوں نے وہی خطرناک نظریات جدید آلات و طریقوں کے ساتھ نئے انداز میں دوبارہ زندہ کیے ہیں۔ یہ فکری میراث اس مستقل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے جو ہمیشہ سے اسلامی امت کو گھیرے میں رکھتی رہی ہے۔
خوارج نے اپنے فکری بنیادیں تین اصولوں پر قائم کیں: مسلمانوں کا تکفیر کرنا، حکمرانوں سے مخالفت اور تشدد۔ آج کل داعش انہی اصولوں کو پچھلے خوارج کی مانند شدید اور صریح انداز میں نافذ کرتا ہے۔ یہ گروہ خود کو ہی حقیقی مسلمان سمجھتا ہے اور باقی سب کو موت کے قابل قرار دیتا ہے۔
قدیم خوارج اور معاصر تکفیری تحریکوں کے درمیان مماثلتیں حیران کن ہیں۔ دونوں جماعتیں مذہبی متون کی لفظی اور غیر لچکدار تفسیر پر انحصار کرتی ہیں، دونوں رحمت، رواداری اور مصلحت کے اصولوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور دونوں تشدد کو ابتدائی اور آخری حل سمجھتی ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران افغانستان میں خارجی افکار کا ظہور واضح طور پر دیکھا گیا ہے۔ تکفیری گروہ نوجوانوں کو بھڑکانے اور گمراہ کرنے کے لیے سیاسی و سماجی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ گروہ شہادت اور تشدد کی کہانیاں گھڑ کر نئے پیروکاروں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔
خوارجی فکر کا احیاء اور عصرِ حاضر کے نئے چیلنجز
موجودہ دور میں خارجی فکر کا دوبارہ پیداہونا کئی نئے چیلنجز کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ تکفیری گروہ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کو اپنے نظریات پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اور مجازی دنیا کو انتہاپسندانہ افکار کے فروغ کے نئی محاذ بنا چکے ہیں۔ جبکہ قدیم خوارج اپنے زمانے کے محدود وسائل تک ہی رسائی رکھتے تھے۔
اس فکری پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے گہری تاریخی بصیرت درکار ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ نظریات تاریخ کے مختلف ادوار میں کیوں اور کیسے دوبارہ جنم لیتے رہے ہیں۔ صرف اسی عمیق فہم کے ذریعے ان کے تدارک کے مؤثر طریقے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
افغانستان اور دیگر اسلامی ممالک کے علماء نے ہمیشہ خارجی نظریے کے دوبارہ پیدا ہونے کے خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ اس فتنہ کا مقابلہ صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں، بلکہ فکری و ثقافتی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسلام کی وہ حقیقی اور متوازن تعبیر جو محبت، رحمت اور انصاف پر مبنی ہے، انتہاپسندانہ نظریات کے لیے بہترین تریاق ہے۔
افغانستان کا تجربہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انتہاپسندی محض طاقت یا تشدد سے ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس کی فکری اور سماجی جڑوں کا تجزیہ ضروری ہے۔ غربت، ناانصافی، اور تعلیم کی کمی وہ عوامل ہیں جو انتہاپسند فکر کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔
معاصر تکفیری تحریکوں میں خارجی فکر کا یہ نیا ظہور پورے عالمِ اسلام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ رجحان اس امر کی یاددہانی ہے کہ اگر انتہاپسندی کی فکری بنیادوں کو جڑ سے ختم نہ کیا گیا تو یہ نظریات ہر دور میں نئے قالب میں نمودار ہوتے رہیں گے۔ لہٰذا تعلیم، فکری و ثقافتی آگہی، اور بین المذاہب و بین المسالک مکالمے کا فروغ ہی اس خطرے کا سب سے مؤثر علاج ہے۔

