Site icon المرصاد

داعشی خلافت؛ وحشت پسندوں کی داستان | چھٹی قسط

داعش کے وجود میں آنے کے اسباب:
داعش کا ظہور اس صدی کے اُن سب سے تباہ کن واقعات میں سے ہے جنہیں محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ اُن پیچیدہ اور تاریخی حالات کا براہِ راست نتیجہ ہے جن کا مشرقِ وسطیٰ نے گزشتہ چند دہائیوں میں سامنا کیا۔ اس معاملے کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم حالیہ برسوں خصوصاً ۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی حملے کی طرف رجوع کریں؛ وہ دور جس میں ایسے بنیادی وجوہات پیدا ہوئیں جنہوں نے بعد میں داعش کے اُبھرنے کی راہ ہموار کی۔

اگرچہ داعش کی فکری بنیادیں ابتدائی اسلامی صدیوں کے خوارج کے عقیدتی انتہاپسندی سے جڑی ہوئی ہیں، مگر اس تنظیم کی موجودہ شکل بالخصوص عراق پر امریکی حملے، ناانصافی، ناکام حکمتِ عملیوں اور امریکہ کے جنگی رویے کے منفی اثرات کا نتیجہ تھی۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد متعدد گروہ سامنے آئے اور امریکی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا۔ وقت گزرتا گیا اور ان میں سے ایک گروہ ایسا تھا جو امریکی پالیسیوں سے مکمل طور پر الگ رہا اور تیزی سے طاقت حاصل کرتا گیا— وہ تھا داعش، جو بعد میں ’’عراق و شام کی اسلامی ریاست‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔

۲۰۱۰ء میں داعش کی قیادت کی تبدیلی اس تحریک کی حکمتِ عملی میں ایک گہرا موڑ ثابت ہوئی۔ علاقائی حالات کی درست سمجھ بوجھ، اور عراق و شام میں مذہبی و نسلی شکایات کا سیاسی استعمال نئی قیادت کو بتدریج ایک خودمختار راستے کی طرف لے گیا۔ یہ خودمختاری ۲۰۱۳ء میں اُس وقت مزید مضبوط ہوئی جب داعش نے شام کی تنظیم ’’جبہۃ النصرہ‘‘ کے ساتھ انضمام کا اعلان کیا اور ’’عراق و شام کی اسلامی ریاست‘‘ کے نام سے ایک نئے نظم کا قیام عمل میں لایا گیا۔

یہ فیصلہ جبہۃ النصرہ کے سربراہ سمیت کئی دیگر جہادی گروہوں کی شدید مخالفت سے دوچار ہوا، مگر داعش کی نئی قیادت اپنے طے شدہ راستے پر قائم رہی، یہاں تک کہ فروری ۲۰۱۴ء میں اس تنظیم کے تمام موجودہ جماعتوں اور تحریکوں سے تعلقات مکمل طور پر منقطع ہو گئے۔

جون ۲۰۱۴ء میں موصل کا قبضہ داعش کے عروج کی بلند ترین سطح تھی۔ موصل کے بڑی جامع مسجد میں داعش کے رہنما کی جانب سے ’’اسلامی خلافت‘‘ کا اعلان اور خود کو ’’خلیفہ‘‘ کے طور پر پیش کرنا نہایت اہم قدم تھا، جس نے داعش کی عالمی دعوؤں کو پوری طرح بے نقاب کیا۔ داعش نے عراق و شام میں حکومت کے خلاء، عوامی بے چینی اور ناکام حکومتوں کی کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور غیر معمولی تیزی کے ساتھ اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں توسیع کی۔
انہوں نے انتظامی ڈھانچے، منظم مالی نظام، سخت سکیورٹی نیٹ ورک اور جدید پروپیگنڈا ذرائع قائم کرکے خود کو ایک ’’حقیقی موجود ریاست‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ داعش کے ظہور اور مضبوطی میں کئی بنیادی عوامل شامل تھے:
• عراق پر امریکی حملہ جس نے ملک کا سیاسی و سیکورٹی استحکام برباد کر دیا۔
• عرب بہار کے واقعات اور خصوصاً شام کی خانہ جنگی جس نے اس شدت پسند تنظیم کو پنپنے کا موقع فراہم کیا۔
• عراق اور شام میں مذہبی و نسلی مشکلات، جنہوں نے معاشرے میں گہری تقسیم پیدا کی؛ اور اسی طرح پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی معاملات۔

یہ تمام عوامل، داعش کی قیادت کی عسکری و انتظامی مہارت، اس کے طاقتور پروپیگنڈا نظام، اور جدید میڈیا کے مؤثر استعمال کے ساتھ مل کر، اس نتیجے پر منتج ہوئے کہ داعش نہایت مختصر مدت میں دنیا کے لیے ایک خطرناک اور ہولناک تنظیم بن کر اُبھری۔

داعش کی موجودہ صورتِ حال کا مطالعہ کرنے کے لیے اس کی تاریخ کا گہرا فہم بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ داعش محض ایک وحشی گروہ نہیں تھا، بلکہ ایک کثیر الجہتی وجود تھا جس کے سیاسی، سماجی، فکری اور مذہبی پہلو تھے— ایسی تنظیم جو مخصوص علاقائی حالات کی کوکھ سے پیدا ہوئی اور بین الاقوامی سیاست کے تشدد سے پروان چڑھی۔ ان جڑوں کا علمی تجزیہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ داعش کے وجود کے حقیقی اسباب کیا تھے، اور مستقبل میں ایسی کسی تنظیم کے دوبارہ جنم لینے کو روکنے کے لیے کس نوعیت کی گہری بصیرت درکار ہے۔

Exit mobile version