داعشی خارجی گروہ نے اپنی پرتشدد روش، جاہلانہ رویّے اور بظاہر اسلامی شناخت پیش کرنے کے ذریعے عالمِ اسلام میں معتدل اسلامی تحریکوں کو کچلنے کا راستہ ہموار کیا۔ حالانکہ لاکھوں مسلمان یہ چاہتے تھے کہ وہ سیاسی، فکری اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اسلام کی اصل قدروں کی طرف لوٹ آئیں، لیکن عالمِ کفر نے ان آوازوں کو دبانے کے لیے داعش کے خوف کو پھیلانے سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
کئی اسلامی ممالک، خصوصاً عرب ریاستوں میں، معتدل اسلامی جماعتوں پر ’’داعش سے فکری ہم آہنگی‘‘ کے نام پر پابندیاں لگا دی گئیں اور انہیں سخت دبایا گیا۔ اسی دوران فلسطین میں صہیونی قبضے کے خلاف فلسطینی عوام کی جائز مزاحمت بھی داعش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی حالات کے زیرِ اثر شدید پابندیوں اور دباؤ کا شکار ہوئی۔
افغانستان میں بھی طالبان کی جہادی تحریک، جو کہ امریکی قبضے کے خاتمے اور اسلامی حکمرانی کے نفاذ کی خواہاں تھی، داعش کے نمودار ہوتے ہی ذرائع ابلاغ اور غیر ملکی اداروں کے دباؤ میں آ گئی۔ موجودہ حالات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی شریعت کو تشدد اور دہشت گردی کے مترادف بنا کر پیش کیا گیا، تاکہ عوام کو اسلامی نظام سے خوفزدہ کیا جا سکے۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں ہر وہ اسلامی آواز، خواہ وہ کتنی ہی معتدل اور منطقی کیوں نہ ہو، داعش کے ساتھ لا کھڑی کی گئی، اور یوں دنیا کی رائے عامہ میں جائز اور عادلانہ اسلامی سیاست کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا۔ حالانکہ مغرب داعش کے خلاف جنگ کا دعویٰ کرتا رہا، مگر زمینی حقائق اور خفیہ رپورٹس یہ سوالات پیدا کرتے ہیں کہ:
داعش کس طرح اس دور میں، جب سیٹلائٹ اور ڈرون ہر حرکت پر نظر رکھتے ہیں، عراق اور شام کے ریگستانوں میں آزادانہ طور پر ٹھکانے قائم کرنے، فوجیں ترتیب دینے اور جدید اسلحہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی؟
اور کیوں داعش کے بیشتر حملے صہیونی ریاست یا مغربی مفادات کے بجائے مسلمانوں، نمازیوں، مساجد اور عام شہریوں کے خلاف ہوئے؟
یہ سوالات، صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے سامنے آنے والے شواہد کے ساتھ مل کر ایک سنگین مفروضہ پیش کرتے ہیں: کیا داعش اسلامی بیداری کو کچلنے کے لیے ایک منصوبہ بند پروجیکٹ نہیں تھی؟ کیا یہ تنظیم دانستہ یا نادانستہ طور پر اسلامی فکر کو مسخ کرنے کا ایک آلہ کار نہ بنی؟
بالآخر، داعش کے اقدامات کے گہرے اور وسیع تجزیے سے یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس گروہ نے نہ صرف امتِ مسلمہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا، بلکہ اسلام کے حقائق اور عکس کو بگاڑا اور مغرب کی اسلام دشمن منصوبہ بندی کے لیے میدان ہموار کیا۔ اس نے اسلامی بیداری کی تحریکوں کو ان کے اصل راستے سے ہٹا دیا، کئی مؤثر اسلامی شخصیات کو منظر سے غائب کر دیا یا سنگین الزامات میں جکڑ دیا۔
اس نے اسلامی ممالک کو پراکسی جنگوں میں دھکیل دیا، جہاں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہاتا ہے اور اسلام کے دشمن خوشی سے مسکراتے ہیں۔ اس صورتحال نے مغربی خفیہ ایجنسیوں، سیکیورٹی اداروں اور میڈیا کو یہ مضبوط جواز فراہم کیا کہ وہ ’’انسدادِ دہشت گردی‘‘ کے نام پر مساجد، دینی کارکنوں، علما اور مذہبی اداروں کے خلاف کارروائیاں کریں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ داعش، اگرچہ بظاہر مغرب کی دشمن تھی، مگر حقیقت میں وہ مغربی مقاصد کے نفاذ کا سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہوئی۔ اسلام کے لبادے میں اس نے اپنی تلوار امتِ مسلمہ کے جسم میں پیوست کی اور ظلم، جاسوسی، انتشار اور اسلام دشمنی کے لیے راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

