Site icon المرصاد

داعشی خوارج؛ اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار اٹھائیسویں قسط

علمی و فکری افرادی قوت کی جبری ہجرت:
داعش بظاہر خود کو ’’اسلامی خلافت‘‘ کا دعویدار بتاتی تھی، مگر اس کے اقدامات نے ثابت کر دیا کہ عملی طور پر وہ دشمنانِ اسلام کو مضبوط بنانے کے لیے سب سے اہم کام انجام دے رہی تھی۔ داعش کی ایک بڑی اور پوشیدہ خدمت اسلامی ملکوں کے علمی و ثقافتی ماحول کو تباہ کرنا اور نتیجتاً علمی و فکری افرادی قوت کو جبری طور پر ہجرت پر مجبور کرنا تھا۔

اس سلسلے نے اسلامی معاشروں کو اپنے روشن دماغوں اور باصلاحیت افراد سے محروم کر دیا اور یہ صلاحیتیں مغرب کے ہاتھ لگ گئیں؛ وہی مغرب جو ہمیشہ دنیا بھر سے قابل افراد اور ماہرین کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

داعش کا پہلا اثر یہ تھا کہ اس نے اساتذہ، ڈاکٹروں اور ذہین طلبہ کے لیے خوف و ہراس اور غیر محفوظ ماحول پیدا کیا۔ عراق، شام اور دیگر علاقوں میں، جہاں داعش سرگرم تھی، اس کے وحشیانہ حملوں نے جامعات، علمی مراکز اور حتیٰ کہ اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا۔

یونیورسٹی کے بہت سے اساتذہ اور پیشہ ور ڈاکٹر اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانے کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ وہ بہترین طلبہ جو اسلامی معاشرے کا مستقبل سنوار سکتے تھے، یورپ اور امریکا کا رخ کرنے لگے۔ اس طرح داعش نے بالواسطہ طور پر مغرب کے لیے ’’اسلامی خطوں کو اعلی دماغوں سے خالی کرنے‘‘ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

یہ بھی کہنا چاہیے کہ تعلیمی اور تحقیقی مراکز کی تباہی اسلام دشمنوں کے لیے داعش کی ایک اور خدمت تھی۔ جامعات میں دھماکے، کتب خانوں کو جلانا اور لیبارٹریوں کو لوٹنا ان کی پالیسی کا حصہ تھا۔ اس تباہی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جامعات بند ہوئیں اور علمی منصوبے رک گئے۔ ایسے ماحول میں فطری بات تھی کہ اہلِ علم اور محققین کو اپنے وطن کی خدمت کی کوئی امید باقی نہ رہی اور وہ پُرامن ملکوں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

یہی وہ چیز تھی جو مغرب کی چاہت تھی: اسلامی معاشروں کے علمی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا۔ مغربی ممالک برسوں سے غیر ملکی صلاحیتوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے بڑے پروگرام چلا رہے ہیں، خواہ وہ تعلیمی وظائف ہوں یا ڈاکٹروں اور انجینئروں کے لیے پرکشش ملازمتیں۔
وہ افرادی قوت، جو شاید کبھی بھی اپنے وطن کو چھوڑنے کا ارادہ نہ کرتی، داعش کے خطرے اور علمی ماحول کے معدوم ہونے کی وجہ سے ہجرت پر مجبور ہو گئی۔ حقیقت میں، داعش ایک ایسا پُل بن گئی، جس نے عالمِ اسلام کی صلاحیتوں کو مغرب کی طرف بہا دیا۔

ان ہجرتوں نے مغرب کو بڑے فوائد پہنچائے: ماہرین کی کمی پوری ہوئی، سائنسی تحقیق مضبوط ہوئی اور اہلِ علم کی تیاری کے اخراجات تقریباً ختم ہو گئے۔

اس کے برعکس، اسلامی معاشروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا؛ اسپتال ماہر ڈاکٹروں سے محروم ہوئے، جامعات تجربہ کار اساتذہ سے خالی ہو گئیں اور نئی نسل اپنے علمی و فکری نمونے کھو بیٹھی۔ کئی ممالک میں علمی زوال اور مغرب پر انحصار مزید بڑھ گیا، کیونکہ اہلِ فکر اپنے وطن کی بجائے یورپ اور امریکا کی لیبارٹریوں اور اسپتالوں میں استعمال ہو رہے تھے۔

یہ علمی اور ثقافتی پسماندگی دراصل وہی چیز تھی جس کی دشمنانِ اسلام کو تلاش تھی۔ داعش نے اپنے اسلامی لبادے اور چمکدار نعروں کے باوجود عملی طور پر نئے استعماری مقاصد کو پورا کیا؛ جس میں اسلامی معاشروں کو اندر سے کمزور کرنا، اہم اہداف تھے۔

داعش نے امتِ مسلمہ کو بربادی، دہشت گردی اور بدامنی کے سوا کچھ نہ دیا؛ لیکن مغرب کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ عالمِ اسلام کے اعلی افراد کو سمیٹ لے اور انہیں اپنے استعماری و عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ اس طرح داعش صرف مغرب کا ایک خیالی دشمن نہ تھی بلکہ عملاً مغربی تہذیب کو مضبوط کرنے اور اسلامی امت کو کمزور کرنے کی مکمل خدمت گزار بن گئی۔

Exit mobile version