معدنیات اور قدرتی وسائل کی لوٹ مار اور تباہی:
داعشی خوارج، دشمنانِ اسلام کی جانب سے بنائی گئی سب سے خطرناک سازشوں میں سے ایک شمار کیا جا سکتا ہے؛ یہ وہ گروہ تھا جو بظاہر دینی نعروں کے ساتھ اُٹھا اور شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کرتا تھا، مگر حقیقت میں مغرب کے ہاتھ میں ایک مؤثر ہتھیار بن گیا تاکہ اُمتِ مسلمہ پر کاری ضرب لگائی جائے اور ان کے قدرتی وسائل لوٹے جائیں۔
اس مبغوض گروہ کے جرائم کا ایک ایسا پہلو جس پر بہت کم بات ہوئی ہے لیکن حقیقت میں جو نہایت اہم ہے، وہ اسلامی ممالک کے معدنی وسائل اور زیرِ زمین خزانے کو تباہ و برباد کرنا تھا؛ وہ ذخائر جو اگر صحیح طریقے سے منظم کیے جاتے تو اُمتِ مسلمہ کی اقتصادی اور سیاسی خودمختاری کی بنیاد بن سکتے تھے۔
عراق اور شام میں داعش کے ظہور کے ابتدائی دنوں سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ یہ گروہ نہ تو خوشحالی اور ترقی کے لیے کوئی منصوبہ رکھتا تھا، بلکہ اصل میں اسلامی ممالک میں ہر طرح کی ترقی اور خود انحصاری کو روکنے کے لیے ہی ڈیزائن کیا گیا تھا۔
بہت سے شواہد اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ تیل کی تنصیبات کو دھماکوں سے اُڑانا، گیس کی وسیع پیمانے پر اسمگلنگ، سونے اور قیمتی پتھروں کی غیر قانونی فروخت اور معدنی وسائل کی تباہی، اس گروہ کی عملی پالیسیوں کا اہم حصہ تھے؛ ایسے اقدامات جن کے دو خطرناک نتائج نکلے: اسلامی ممالک کی اقتصادی صلاحیتوں کا خاتمہ اور غیر ملکی کمپنیوں کے تسلط کے لیے راہ ہموار کرنا۔
داعش نے بار بار بے بنیاد اور جھوٹی وجوہات کے تحت تیل کے کنویں جلائے اور ریفائنریاں اُڑائیں۔ بظاہر یہ ایک عسکری کارروائی لگتی تھی، لیکن درحقیقت اس کا مقصد بہت زیادہ گہرا تھا؛ اُمت کے حیاتیاتی ڈھانچوں کو ختم کرنا اور ان وسائل کے جائز اور درست استعمال کو روکناتھا۔
دوسرے لفظوں میں، داعش نے وہ کام کر دکھایا جو قابض افواج براہِ راست یلغار کے باوجود بھی نہ کر سکیں: اسلامی معیشت کو ختم کرنا اور مسلمانوں کو خدا داد وسائل سے محروم کرنا۔
زیرِ زمین ذخائر کی منظم اسمگلنگ بھی داعشی خوارج کی ایک اور حکمتِ عملی تھی۔ وہ تیل، گیس اور معدنیات کو سستے داموں کالے بازار میں فروخت کرتے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع اپنے جنگی مشین اور بے گناہ مسلمانوں کے قتلِ عام پر صرف کرتے۔
یہ سلسلہ اس بات کا باعث بنا کہ وہ اسلامی ممالک جہاں داعش کا وجود تھا، نہ صرف اپنے ہی وسائل سے محروم ہوئے بلکہ بڑی مغربی کمپنیوں نے اپنے فائدے کے لیے عالمی منڈی میں قیمتیں بھی تبدیل کیں۔
درحقیقت، داعش ایک دلال اور کرائے کے کارندے کے طور پر کام کر رہی تھی جس کا کام تھا ملت کی دولت کو ارزاں داموں بیچنا اور حیاتی سرمائے کو باہر منتقل کرنا۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ داعش نے کبھی بھی کان کنی کے شعبے میں مناسب استخراج یا سرمایہ کاری کا سوچا تک نہیں۔ ان کا طریقۂ کار محض تیز اور بے رحمانہ لوٹ مار پر مبنی تھا۔
انہوں نے سونے اور قیمتی پتھروں کی کانوں کو اس طرح تباہ کیا کہ اسلامی ریاستوں کے لیے ان سے طویل مدتی فائدہ اٹھانے کا امکان تقریباً ختم ہو گیا۔ یہ حکمتِ عملی بعینہٖ وہی تھی جو مغربی طاقتیں چاہتی تھیں؛ یعنی مستقبل کے مواقع کا خاتمہ اور اسلامی ممالک کو بیرونی امداد کا محتاج بنانا۔
داعشی خوارج نے ’’جہاد‘‘ کے نعرے تلے دراصل اُمتِ مسلمہ کی معیشت کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ جبکہ حقیقی اسلام مسلمانوں کو زمین کی آبادکاری، وسائل کے درست استعمال اور اسراف و بربادی سے بچنے کا حکم دیتا ہے، یہ گروہ اپنی تباہ کن حرکتوں کے باعث بربادی اور فساد کا اصل منبع بن گیا۔
انہوں نے معدنی وسائل کو مسلمانوں کی خوشحالی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے انہیں اس حد تک برباد کیا کہ اسلام دشمن قوتیں ان تباہیوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش کو مغرب کی جانب سے دینِ اسلام کے مقابلے کے لیے تیار کیے گیے ایک ہتھیار کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ مغربی قوتیں اچھی طرح جانتی تھیں کہ اگر اُمتِ مسلمہ نے اپنے وسیع زمینی وسائل کو درست طریقے سے استعمال کیا تو وہ نہ صرف معاشی اجارہ داری سے آزاد ہو جائے گی بلکہ سیاسی اور عسکری میدانوں میں بھی خودمختار اور طاقتور بن کر اُبھرے گی۔

